ایک افریقی کہاوت ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے
کہ آپ جب کسی شخص کی ٹانگیں ادھار لیتے ہیں تو پھر آپ کو جانا بھی وہیں پڑتا ہے جہاں مالک کی منشا۶ ہوتی ھے۔ آمدن بر سر مطلب کہ جب آپ کسی سے قرض لیتے ہیں تو آپکو قرضہ دینے والے کی مرضی کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ کچھ ایسی ہی نازک صورتحال ان دنوں وطن عزیز کو درپیش ہے۔ حال ہی میں عمران خان نے دورہ ملایشیا کو منسوخ کردیا کیونکہ ہمارے سعودی کفیل اس بات پر قدرے برھم معلوم ہو رہے تھے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد، ترک صدر رجب طیب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سائیڈ لائن پر ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تینوں ممالک نے اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ بین الاقوامی ٹی وی چینل لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر اور پھر تینوں مسلم لیڈرز کو پاکستان میں حتی الامکان سراہا گیا ۔مگر اس موقع پر ایک اور فیصلہ بھی ہوا جس کوتقاضاے واقعیت کے تحت صیغہ راز رکھا گیا۔
وہ فیصلہ یہ تھا کہ ملائشیا کے دارالحکومت کولالمپور میں مسلم ممالک کے سربراہان کا ایک تین روزہ اجلاس منعقد ہوگا جس میں مسلم ممالک کودرپیش مساٸل کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کو "کولالمپور سمٹ" کا نام دیا گیا اور اس کی تاریخ 18 تا 20 دسمبر 2019 مقرر ہوئی۔
ملائیشیا نے اس کانفرنس کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ تمام مسلم ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور کو مدعو کیا۔ اس کے ساتھ مسلم دنیا کے 450 سے زائد علمائے کرام اور مسلم اسکالرز کو بھی دعوت نامے جاری کیے گئے۔ پاکستان سے وزیراعظم عمران خان نے شرکت کرنی تھی اور دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں باقاعدہ اس کا اعلان کیا۔
دوسری جانب جیسے جیسے اس سمٹ کی تاریخ نزدیک آتی گئی، ادھر سعودی عرب کے محمد بن سلمان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کیوں کہ پہلے سے موجود مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی سعودی عرب کی زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ محمد بن سلمان کو ایک تو "او آئی سی" کے انتقال اور مسلم دنیا کی خودساختہ قیادت ہاتھ سے نکلنے کا خطرہ سر پر منڈلاتا نظر آنے لگا اور دوسرا اس سمٹ میں قطر کے امیر اور ایرانی صدر کی یقینی شرکت نے اس کی نیندیں اڑا دیں۔
نتیجتاً پاکستان کی طرف "ناراضگی" کے سگنلز آنا شروع ہوگئے۔ پہلے وزیراعظم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھیجا کہ سعودی شاہی خاندان کو باور کروا دو کہ ہم آپ کے ہی ہیں مگر سعودی کفیل ناراض محبوبہ کاکردار نبھاتے رہے ۔ مجبوراً وزیراعظم کوصاحب کو بذات خود محمد بن سلمان کی ناراضگی دور کرنے کیلیے سعودی عرب سدھارنا پڑا۔
سو خان صاحب نے ہمیشہ کی طرح اپنی فہم و فراست پر حد درجہ اعتبار کرتے ہوے باقی تمام مسلم ممالک کی پاکستان کیلیے دی گٸ اخلاقی مدد کو پس پشت ڈالتے ہوۓ اس سمٹ کی شرکت منسوخ کردی تاکہ ہمارے نام نہاد آقا خوش ہو جاٸیں۔ وہ آقا کہ جب مسلم دنیا کو خصوصا پاکستان کو انکا تعاون درکار ہوتا ہے تو الٹے قدموں پیچھے ہٹ کر درحقیقت ہمارے منہ پر طمانچہ مارتے ہیں ۔ چاہے یہ طمانچہ مودی کو ایوارڈ دینے کی صورت میں ہو یا امریکہ کے ساتھ قرابت داریاں نبھانے میں ہر جگہ یہ پیش پیش ہوتے ہیں۔
حالانکہ مسلم ملک ہونے کے ناطے آل رسول کے ساتھ نسبت کے واسطے سعودی عرب کو قدمے درمے سخنے تمام تر مسلم ممالک کی ڈھال بننا چاہیے تھا مگر موجودہ حالات کو دیکھ کر ایک ہی شعر دل و دماغ میں گردش کرتا ہے کہ
فی الحال تو اپنوں کی جفاوں کا ہے ماتم
فرصت ملی تو شکوہ اعدا۶ بھی کر لیں گے
مغربی دنیا مسلم امہ کو کرہ ارض سے مٹانے کے درپے ہے ۔ اسلامو فوبیا اپنی جڑیں مظبوط کر چکا ہے ہر جگہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلیے دشمن قوتیں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مگن ہیں۔ اسلام تمام تر باطل قوتوں سے برسر پیکار ہے۔ یہ حالات امت کے متحد ہونے کے ہیں کیونکہ سنگین نتاٸج ابھی سے نظر آرہے ہیں۔ مگر ہمارے نام نہاد مسلم سعودی حکمران اپنی ہی دھن میں مگن فرقہ باطلہ کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ اور ہماری بدنصیبی یہ کہ باقی ممالک کی طرح خیر سے ہم ان کے بھی قرض دار ہیں سو جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا قانون ہم پر لاگو کرتے ہوے یہ ہمیں ایک مخصوص سمت میں ہانکے جارہے ہیں اور ہم ہیں کہ صم بکم عمی کی عملی تفسیر بنے حالات کے دھارے میں بہے جارہے ہیں کیونکہ اگر ہم نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوے کلمہ حق بلند کیا تو کہیں ہمارا ناطقہ بند نہ کردیا جاےکہیں ہم مفلوک الحال نہ ہو جاٸیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب سعودیہ کی عینک لگا کر دیکھنا بند کردیں اور اپنے بل بوتے پر ارض پاک کیلیے فیصلے لینا سیکھیں وگرنہ یہ غلامی ہماری نسلوں تک کا سفر قلیل وقت میں طے کرکے ہمارے آنے والے کل کو مفلوج بنادے گی یوں ہمارے بچے انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ان سعودیوں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالے گھومیں گے اور یاد رکھیں اپنی ہی غلطیوں کی بدولت حاصل کی گٸ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیلیے قدرت ہر بار قاٸد کو نہیں بھیجا کرتی کیونکہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات