حال ہی میں حریم شاہ نامی ایک فتنے نے سر اٹھایا ہے جس نے کیی نامی گرامی سیاست دانوں کی جڑیں ہلادیں۔ اور بہت سوں کی ویڈیوز و پراییویٹ میسجز حریم شاہ کی پٹاری میں ابھی موجود ہیں جن کو مناسبوقت کے انتظار میں وہ دباے بیٹھی ہے۔ اس لڑکی نے صحیح معنوں میں پاکستانی سیاست خصوصا پی ٹی آی کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ جبکہ حکام بالا صم بکم کی عملی تفسیر بنے اسکے مزید کارناموں کے منتظر بیٹھے ہیں۔ اسی طرح
پچھلے دنوں حریم شاہ کی ویڈیو واٸرل ہوٸ ۔
جس میں محترمہ نہایت حساس مقام پر کسی گانے کی دھن میں چہل قدمی کرتی دیکھی گٸ۔اور صرف اسی پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ وزیراعظم صاحب کی کرسی پر بیٹھ کر کرسی کی طاقت سے لطف اندوز بھی ہوتی رہی۔اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا پوری قوم سراپا سوال بن گٸ۔مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو کہیں پہ پڑھا تھا اور ذہن کے نہاں گوشے میں میں اب پوری آب وتاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔کہ یحیی کے دور میں ایک ترانہ نامی فلمسٹار ہوا کرتی تھی۔ایک بار صدر صاحب سے ملنے جا پہنچی۔دربان نے روکا تو کہا کہ پہلے صدر صاحب سے تو پوچھ لیں جب پوچھا گیا تو اسے فورًا اندر بلوا لیا گیا۔باہر آٸ تو دربان نے ادب سے سلیوٹ پیش کیا طنز سے مسکرا کر پوچھا کہ پہلے تو اندر ہی نہیں جانے دے رہے تھے اور اب سلیوٹ؟؟؟دربان نے سر جھکا کر جواب دیا پہلے آپ ترانہ تھی اب قومی ترانہ بن گٸ ہیں۔ تو حریم شاہ بھی پہلے ٹک ٹاک پہ سستی شہرت کی خاطر ویڈیوز بنانے والی عام سی لڑکی تھی مگر اب وہ قومی ترانہ کے مصداق مقبول ہو گٸ ہے۔کہ ٹاک شوز سوشل میڈیا ہر جگہ پر اسی کے چرچے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان
چرچوں کی وجہ قابل شرم ہے۔مگر جیسا کہ مشہور ھے
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
حریم کی بات تو ایک طرف مگر سوال یہ ہے کہ اتنے اھم مقام پر کہ جہاں ملکی سلامتی کے اھم معاملات پر غور و خوض کیا جاتا ھے۔ملکی امور کے لیے کمیٹیاں بلاٸ جاتی ہیں وہاں اسکا جانا ممکن کیسے اور کیونکر ہوا؟؟جواب بڑا آسان اور واضح ھے اور وہ ہے ھمارا حکمران طبقہ کہ جو حاکمیت کا حلف اٹھانے کے فورًا بعد زن زر زمین کے پیچھے اندھادھند بھاگنے لگ جاتا ھے حالانکہ درحقیقت ان تینوں چیزوں کو فتنے کا ماخذ قرار دیا گیا ھے۔مگر آفرین ھے ہمارے عہدے داروں پر کہ ان عہدوں پر فاٸز ہونے کے بعد ملکی ترقی کی بجاۓ انکے اثاثوں میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی ہوتی ھے۔افسوس صد افسوس مگر حقیقت بھی یہی ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک وطن عزیز کو سب سے زیادہ نقصان انھی عہدے داروں نے پہنچایا ھے۔تبھی تو کبھی کوٸ حریم شاہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے تو کبھی کوٸ مہوش حیات جیسی بدنام زمانہ اداکارہ لڑکیوں کے حقوق کی سفیر کے طور پر نامزد ہوجاتی ہے۔کیا قابلیت ختم ہوگٸ ھے اس ملک میں؟ کیا کوی پڑھی لکھی باوقار عورت سفیر نہیں بن سکتی؟نہیں بن سکتی جناب کیونکہ باوقار باکردار خاندانی عورتوں کے پاس تعلقات کی سیڑھی نہیں ھے۔ اور نہ وہ اسقدر گھٹیا اوچھے ہتھکنڈوں پر یقین رکھتی ہیں۔سو اب نوجوان نسل کی رول ماڈل حریم شاہ مہوش حیات و دیگر کو بنایا جاٸگا ۔کیونکہ وہ ہمارے عہدے داروں کی منظور نظر عورتیں ہیں وہ عہدے دار کہ جن کے ہوتے ہوے ملک کے مقدر میں محض خسارہ ہی خسارہ ھے۔وہ عہدے دار کہ جن کے الگ قانون الگ عدالتیں الگ معیار زندگی ہیں۔وہ عہدے دار کہ جن کے لیے انکے عہدے محض وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے والے آلات ہیں۔وہ عہدے دار کہ جن کو دیکھ کر شرماٸیں نصاری و یہود۔
عجب ھے کہ اس سب پہ ان کو کوی ملال کوی شرمندگی بھی نہیں۔انکی غیرت نہ جانے کس کونے میں منہ چھپاے اپنے ہونے پہ ماتم کناں ہے۔
یہی وہ لوگ ہیں کہ جو
وطن کو لوٹتے بھی ہیں
وطن کو ماں بھی کہتے ہیں
تبھی آج حریم شاہ کے پاس ایک نہیں بلکہ کیی لوگوں کے نامہ اعمال بمعہ ثبوت محفوظ ہیں۔ ابھی بھی وقت ھے کہ ہمارا حکمران طبقہ خود کو سدھارتے ہوے ان طوایفوں کے پیچھے بھاگنا بند کردےکیونکہ فی الوقت ہم سب ان ڈراموں کے متحمل ہر گز نہیں ہو سکتے۔