کالم نگار: ماں جی اللہ والے
پارک میں صبح سے مرد،خواتین،بوڑھے اور بچوں پر مشتمل غریبوں کا ہجوم اکٹھا تھا اکثر لوگ پارک میں تفریح کے لئے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ لوگ تفریح کے لئے پارک میں اکٹھے نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کو کسی کے آنے کی آس تھی اسی ہجوم میں چھ بیٹیوں کا ایک غریب باپ بھی موجود تھا جس کی صحت بتارہی تھی کہ وہ کئی دنوں سے بھوکا محنت مزدوری کررہا تھا اور شائد فاقوں نے اس کو اس قدر کمزور کردیا تھا کہ وہ زیادہ دیر کھڑا بھی نہیں ہوپارہا تھا،اپنی صحت کی پروا کئے بغیر اس کی آنکھیں مسلسل سڑک پر کچھ تلاش کررہی تھیں،جب بھی کوئی ٹرک پارک کے پاس سے گذرتا تو ہجوم میں موجود ہر فرد کی توجہ اس پر مبذول ہوجاتی اور سب الرٹ ہوجاتے دراصل سب کو اس خاص ٹرک کا انتظار تھا جس پر سستے آٹے کے تھیلے فروخت کے لئے آنے تھے۔شدید سردی میں کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد آخروہ ٹرک آہی گیا جس کا سب کوبے صبری سے انتظار تھا۔ ٹرک ابھی پارک کی گرانڈ میں داخل ہوا ہی تھا کہ سب ٹرک کی جانب سرپٹ بھاگے تاکہ آٹا لے سکیں۔سب کو پہلے سے اندازہ تھا کہ سستے آٹے کے تھیلوں کی تعداد ہجوم کی نسبت کم ہیں اسی لئے آٹے کو پانے کے لئے ہر کوئی جان کی بازی لگانے کو تیار تھا۔ کمزورصحت مزدور کے اندربھی ہمت پیداہوئی اوروہ ٹرک کی جانب بڑھنے لگااس نے دل میں تہیہ کررکھاتھا کہ وہ یہ سستا آٹاضرور حاصل کرے گا تاکہ اپنے بیوی بچوں کو فاقہ کشی سے بچاسکے۔ وہ کسی طرح ٹرک کے پاس پہنچ گیا اور آٹا لینے کے لئے جب ٹرک پر چڑھا تو نیچے گرگیااس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا ہجوم نے اسے پیروں تلے روند دیا۔یہ بے حسی تھی یا مجبوری؟ کسی کو بھی اس کی جان کی پروا ہ نہ ہوئی اور وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔بدنصیب گھر کا واحد کفیل تھاجسے آٹا تو نہ ملا لیکن موت مل گئی۔معصوم بچیوں کو کیا معلوم تھا کہ ان کے باپ کی زندگی کی قیمت ایک دس کلو کے تھیلے سے بھی سستی ہوگی۔یہ افسوس ناک واقعہ گذشتہ روز گلستان بلدیہ پارک میرپورخاص میں رونما ہوا ہے جسے سن کر ہر درددل آنکھ نے اشکبار ہوکر ارباب اختیار سے سوال پوچھا ہے کہ غریب مزدور کی ہلاکت کا اصل ذمہ دارکون ہے؟ ہجوم یا آٹے کا بحران پیدا کرنے والے عناصر؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت لاہور سمیت پنجاب بھر میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے دوسری جانب چکی مالکان نے آٹے کی فی کلوقیمت میں مزید 10 روپے اضافہ کردیا ہے جس کی وجہ سے اب آٹا 165 روپے فی کلوکے حساب سے فروخت کیا جارہا ہے۔رپورٹس کے مطابق 80 کلو والی فائن میدے کی بوری بھی ایک ماہ میں بار بار مہنگی ہوکر 4 ہزار کے مجموعی اضافے کے بعد 12 ہزار 600 کی ہوگئی ہے جبکہ 15 کلو والا آٹے کا تھیلا 200 روپے اضافی قیمت کے بعد 2150 میں فروخت ہورہا ہے۔ صدر نان بائی ایسوسی ایشن نے چکی اور فائن آٹے کی قیمتوں میں اضافہ پر 12 جنوری کو پنجاب بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کی جانب سے 16 جنوری سے نان 40 روپے اور سادہ روٹی 35 روپے کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔ فلورملز ایسوسی ایشن کے مطابق صرف لاہور میں روزانہ اڑھائی لاکھ آٹے کے تھیلوں کی ڈیمانڈ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سپلائی صرف ڈیڑھ لاکھ ہے۔ادارہ شماریات کی گزشتہ ہفتے کی رپورٹ کے مطابق دسمبر کے آخری ہفتے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد (2.81 فیصد) تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اس طرح رواں ہفتے میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ایک طرف فلور ملیں آٹے کے بحران کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے سرکاری کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ کررہی ہیں تو دوسری جانب محکمہ خوراک پنجاب کے ذرائع کے مطابق فلور ملز ایسوسی ایشن منصوبہ بندی کے تحت آٹے کے بحران کے بارے میں منفی خبریں پھیلا رہی ہیں تاکہ بڑا منافع کماسکیں اور گندم کے کوٹہ میں اضافہ کرواسکیں۔
پنجاب میں آٹے کے بحران سے متعلق خبروں پروزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سیکرٹری خوراک سے جواب طلب کرلیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے گندم اورآٹے کے بحران کے خاتمہ کیلئے پنجاب کی فلور ملوں کا گندم کا یومیہ سرکاری کوٹہ بڑھا کر دوگنا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ صوبے بھر میں آٹے کے سیل پوائنٹس کو بھی دوگنا کر دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق صوبہ بھر میں روزانہ 10 کلو آٹے کے 18 لاکھ 40 ہزار تھیلے سرکاری ریٹ پرشہریوں کو دستیاب ہوں گے جبکہ سوموار سے فلور ملوں کو ان کے اپنے مطالبے سے زیادہ 26 ہزار ٹن سرکاری گندم بھی جاری کر دی جائے گی۔
آٹا تو نہ ملا،موت مل گئی