سید مظہر علی شاہ - آفاقی حقیقتیں آفاقی حقیقتیں

 آج کے کالم کا آ غاز ہم اپنے قارئین کے اصرار پر چند شہ پاروں سے کرتے ہیں جو آ فاقی حقیقتیں ہیں‘ بے چارہ آ دمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ہے بیماریاں اس سے پوشیدہ ہیں مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتا ہے اچھو لگنے سے مر جاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے‘ حکومت لوگوں کیلئے آزمائش کا میدان ہے‘ بہلول دانا تھا تو مشہور عباسی خلیفہ ہارون رشید کا قریبی رشتہ دار پر وہ مجذوب تھا اور اگر ہارون رشید کی بھی کوئی بات اسے اچھی نہ لگتی تو وہ کھری کھری اسے سنا دیتا ایک مرتبہ وہ اس نئے تعمیر شدہ محل کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ جو ہارون رشید نے بنوایا تھا اور وہ اس کے پاس کھڑا تھا اسے دیکھ کر ہارون رشید نے اس سے پوچھا کہ اس محل کے بارے میں اس کی کیا رائے ہے تو بہلول نے کہا اگر تم نے یہ حرام کی کمائی سے بنایا ہے تو تم خیانت کے مرتکب ہوئے ہو اور اگر تم نے اسے حلال کی کمائی سے تعمیر کروایا ہے تو تم نے اسراف کیا ہے کیا بہلول دانا کا یہ جواب ان تمام لوگوں کے واسطے لمحہ فکریہ 
نہیں کہ جو کروڑوں روپوں کی مالیت کے گھر تعمیر کر رہے ہیں اس معدودے چند روزہ زندگی کیلئے جو انہوں نے زمین کے اوپر گزارنی ہے اور پھر ہمیشہ کے واسطے مٹی کی چادر اوڑھ کر لمبی نیند سو جانا ہے کہ جس کی سحر نہ جانے کب ہو کسی کو پتہ نہیں۔ مئی کے مہینے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ اتنا گرم ہوتا ہے کہ اس میں قدرت گرمی کی حرارت سے پھل پکانے کا اہتمام کرتی ہے پر اب کی دفعہ دیکھئے تو ذرا مئی کا ماہ شروع ہو چکا پر گرمی کا نام و نشان تک نہیں ہے اور سردی ہے کہ جانے کا نام نہیں لے رہی اگر تو محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی 

بشکریہ روزنامہ آج