ملکہ ترنم نور جہاں کا اصل نام اللہ وسائی تھا ،وہ 21 ستمبر 1925ء کو ضلع قصور کے علاقے کوٹ مراد خان میں پیدا ہوئیں ، ملکہ ترنم نور جہاں کے استاد غلام محمد المعروف گامے خان تھے ، نور جہاں نے ایک ھزار سے زائد گیت اردو ،سندھی ، پنجابی ، پشتو اور بنگالی میں گائے اس لئے آپ کو گلوکارہ ھفت زبان بھی کہا جاتا ہے ،
میڈم نور جہاں پاکستان کی میلوڈی کوئین کہلاتی ہیں ، جس سر میں گایا اتنا شاندار گایا کہ ھندوستان کی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر اور ائشہ بھونسلے بھی نور جہاں کو اپنا مینٹور مانتی اور پاؤں چھوتی تھیں ، نور جہاں ایک مرتبہ انڈیا کے دورے پر تھیں اندر گاندھی نے ایک تقریب میں میڈم سے گانے کی فرمائش کی نور جہاں نے کہا کہ میں یہاں آپ کی مہمان ھوں ، آپ جب پاکستان آئیں گی میں گا دوں گی ، اندرا گاندھی تو نہ آئیں مگر جب راجیو گاندھی پاکستان آئے تو نور جہاں نے یہ واقعہ یاد دلا کر گایا اور خوب گایا ، نور جہاں کے استاد نے میڈم کو ریاضت اور سروں کے مجاہدے سے ھیرا بنا دیا ، صرف سات سال کی عمر میں گانا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر پاک و ہند میں یہ میلوڈی کوئین راتوں رات عروج پر پہنچ گئی ،
نور جہاں کی پہلی شادی شوکت رضوی سے ھوئی انہی کے ذریعے نور جہاں کو برطانیہ میں پرفارمینس کا موقع ملا ، پہلا گیت جس نے نور جہاں کو شہرت دی وہ تھا "آواز دے کہاں ھے"
میڈم نور جہاں کی پہلی شادی شوکت حسین رضوی سے ھوئی تھی جو بارہ سال چل سکی مگر دونوں کے درمیان خوشگوار رابطہ اولاد کی وجہ سے ھمیشہ رہا اور نور جہاں شوکت حسین رضوی کی ھمیشہ قدر دان رہی ہیں جبکہ ان کی دوسری شادی اعجاز درانی سے ھوئی ، ایسی ھی قدر دان وہ ان کی بھی تھیں ، نور جہاں کا اصل رنگ 1965ء کی جنگ میں اور زیادہ نمایاں ھوا جب محاذ جنگ پہ بھی ان کے ملی نغمے گونجنے لگے ریڈیو اور نئے ٹیلی ویژن پر نور جہاں کے ملی نغمے قومی جذبے اور لڑنے والوں کا حوصلہ بنے ، جنرل پرویز مشرف نے بیماری کے دوران ان کی تیمارداری پر اس بات کا تذکرہ کیا تو بستر مرگ پر بھی میڈم نے کہا کہ آج بھی اگر دشمن کے خلاف محاذ جنگ پر میرے نغموں کی ضرورت پڑے تو میں اٹھ کر کھڑی ہو جاؤں گی ،" اے پتر ھٹاں تے نہیں وکدے"
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو ، جیسے مقبول نغمے آج بھی نسل در نسل ایک اثاثہ ہیں ، نور جہاں کو کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا فلمی گیت ھوں یا ملی اور قومی نغمے نور جہاں کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا ، کوئی کان ان کی سریلی آواز سے محروم نہیں رہی ، ھندو و پاک میں یکساں مقبول گلوکارہ اللہ وسائی سے میڈم ترنم نور جہاں تک ایک طویل سفر سے گزریں ،رولایا بھی اور ھنسایا بھی ، ردھم ، سر ، آواز اور رنگ و آہنگ کی ملکہ تھیں ، بابا بلھے شاہ کے مزار سے رسم آغاز کرنے والی ملکہ بنیں ، جس کی انفرادیت ھمیشہ برقرار اور گیت امر ھو گئے گیتوں کی اس ملکہ نے 23 دسمبر 2000ء کو کراچی میں وفات پائی ، ھمارا بچپن اور جوانی اور آج تک نور جہاں کے مدھر گیتوں کی آواز کی چاشنی محسوس کرتا ہے اور حیرت میں ڈوبا رہتا ہے کہ کیا خوب گایا ، فیض کی اس غزل ،"مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ" کو چار چاند نور جہاں نے لگائے ، خواجہ خورشید انور ، رشید عطرے اور بھارتی موسیقاروں کو بھی پہچان دینے والی نور جہاں ھی تھیں ، نور جہاں ، لتا منگیشکر اور محمد رفیع عہد ساز گلوکار ہیں جنہوں نے کلاسیکل ھو یا جدت کا رنگ ، ڈھنگ اور آہنگ سے گایا اور خوب گایا ،
279