آلودہ چہرے  501

آلودہ چہرے 

پاکستانی سیاست کے ویسے تو کئ پہلو ہیں قارعین! آج ہم چند ایک اہم پہلو پر بات کرتے ہیں,  پہلا پہلو یہ ہے کہ آج بھی وہی لوگ سیاست کررہے ہیں جن کے آباؤاجداد انگریزوں کی بدولت سیاست میں داخل ہوئے تھے , پھر ان کے کہنے پے سیاسی جماعتی بدلتے رہے آج بھی انہیں لوگوں کی وہی ریت ہے یہ لوگ نظریاتی نہیں صرف نظر آتے ہیں جبکہ سب کچھ نظر انداز کرتے ہیں, اخلاقیات, اقدار, وفادار, وضع دار وغیرہ خیر اب ہم پاکستانی سیاست کے اہم پہلوؤں کے حوالے سے بات کرتے ہیں ، اس ملک پر اشرافیہ کا راج ہے اور ان کے مسائل کا تحفظ نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے, محافظ اور منصف ملک کے بنیادی نظریہ ضرورت کے نگہبان ہیں، اور اگر ملک میں کوئی سیاستدان یا شخص ان بنیادی پہلوؤں کی خلاف ورزی کرےتو اس کو اس گناہ کی قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وارثتی نظام  اکیسویں صدی میں قصہ پارینہ ہوچکا ہے۔  جبکہ ساری دنیا کی طرح پاکستانی عوام بھی وارثتی نظام سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اب نظام یعنی طاقتور لوگ اس تضاد کو حل کیسے کریں؟۔ عوام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایک کھوکھلے جمہوری نظام کا ڈرامہ ہمیشہ رچایا جاتاہے ۔ اس کے لیے ملک میں جمہوری طرز پر انتخابات ہوتے ہیں ,جیتنے والی جماعت وزیر اعظم کا انتخاب کرتی ہے اور کہنے کو  تواقتدار وزیر اعظم کو سونپ دیا جاتا ہے۔ لیکن اس جمہوری ڈھونگ میں طاقتور لوگ اس بات کا پہلے سے ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ جو بھی سیاسی جماعت جیت کر برسراقتدار آئے وہ اس بات کا خیال رکھے کہ وہ پاکستانی سیاست کے بنیادی پہلوؤں کی خلاف ورزی ہرگز نہ کرے لیکن یہاں کی جمہوریت کے بھی اپنے چند بنیادی تقاضے ہیں۔ مثلاً جس کو عوام ووٹ دیتی ہے وہ اس سے اپنی ترقی کی امید بھی رکھتی ہے۔ ترقی تب ہی ممکن ہو سکتی ہے جب ماضی کی بنیاد پر چل رہے سفارشی نظام میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں کی جائیں۔ چنانچہ اکثر عوام کا نمائندہ برسراقتدار آنے کے بعد وہ نظام کے بنیادی اصولوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ بس یہی وہ لمحہ ہوتا ہے کہ جب وارثتی نظام کے نگہبان اس جمہوری ڈھونگ کو توڑ کر ایسی جرآت کرنے والے عوامی لیڈر کو اس کی اوقات بتا دیتے ہیں۔ یعنی اپنی من مانی کی جرآت کرنے والے  لیڈر کو جلد از جلد اقتدار سے نہ صرف باہر کر دیا جاتا ہے بلکہ اگر وہ اقتدار سے باہر جانے کے بعد بھی اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے تو نظام اس کو اتنی سخت سزا دیتا ہے کہ آنے والی لمبی مدت کے لیے لیڈر ایک مثال بن جائے۔
پاکستانی سیاست کی گتھی سلجھانے کو یہ تمہید اس لیے لازمی ہے کہ قاری یہ سمجھ سکے کہ ان دنوں پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے اور اس کا آخری نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔ آئیے اب واپس چلتے ہیں قاسم کے ابا کی طرف۔ سنہ 2018ء میں جب قاسم کے ابا وزیر اعظم منتخب ہوئے تو پاکستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو یہ خبر تھی کہ قاسم کے ابا ’نظام‘ یعنی طاقتور لوگوں کی مرضی سے وزیر اعظم بنے ہیں۔ حقیقت تو یہ تھی کہ منصف اور,مجافظ نے ہی ان کو وزیر اعظم بنایا تھا۔ اس وقت طاقتور لوگ نواز شریف سے ناراض تھے- کیونکہ وہ معیشت کو بہتر کرنے ,آئی ایم ایف کو خدا حافظ کرنےکے خواب دیکھ رہے تھے۔ پھر میاں نواز شریف خود جاگیردار نہیں بلکہ کاروباری گھرانے سے تھے۔ وہ یہ خواب دیکھنے لگے کہ اگر پڑوسیوں سے تعلقات بڑھتے ہیں تو ملک میں جدید کارپوریٹ یعنی تاجر لابی مضبوط ہوگی۔ ظاہر تھا کہ اس تبدیلی سے ملک کی سب سے طاقتور زمیندار لابی کمزور ہوتی۔ میاں صاحب نے اس طرح پاکستانی نظام کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرنے کی جرآت کی۔ بس نگہبان  نے جلد ہی نواز شریف کو اقتدار سے باہر کر کے پہلے جیل بھیجا اور پھر ان کو ملک بدر کیا۔ اور ان کی جگہ قاسم کے ابا کو دکھاوے کے طور پر بظاہر بطور ایک سیاسی اور جمہوری نمائندہ برسراقتدار لائے-
طاقتور  لوگوں کے کاندھے پر سوار قاسم کے اباپہلے تو سعادت مندی سے طاقتور لوگوں کی باتوں پر عمل درآمد کرتے رہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وہ تو نہگبان کے اس قدر تابعدار تھے کہ ہر معاملے میں پہلے ان کی مرضی پتہ کر لیتے تھے۔ لیکن جمہوری نمائندہ بہرکیف جمہوری تو ہوتا ہی ہے۔ غالباً قاسم کے ابا اس خوش فہمی کا شکار ہو گئے کہ وہ عوام میں اس قدر مقبول ہو چکے ہیں کہ وہ کسی کو بھی آنکھ دیکھا سکتے ہیں ۔ پہلے تو انھوں نے پاکستانی نظام کی سب سے طاقتور شخص کو ان کے عہدے سے ہٹوا کر ان کا تبادلہ کروا دیا۔ پھر ان کے دور کے لشکر سربراہ نے جب دوسرے ٹرم کی خواہش ظاہر کی تو کئ ماہ پہلے اعلان کردیا ۔ لانے والوں کو لگا ہماری بلی ہم ہی سے میاؤں۔ چنانچہ اس کے بعد سے پاکستانی سیاست میں بھونچال  آگیا-قاسم کے ابا اقتدار سے باہر ہو گئے۔ پھر وہ جیل گئے اور رہ گئے -
وارثتی نظام میں اپنے حریف سے بدلہ لینا ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔ چنانچہ اب قاسم کے ابا سے طاقتور لوگ ‘ ٹھیک سے ان کی حیثیت بتا رہے ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ہے  کہ قاسم کے ابا کی سیاسی جماعت تقریباً الیکٹیبلز محروم ہوچکی ہے ۔ اقتدار کے  وقت سب سے قریبی دوست و سیاسی مشیر رہنے لوگ چھوڑ چکے ہیں, پاکستان میں ’ملک کا مفاد‘ کے معنی نظام یعنی وارثت کا مفاد ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، قاسم کے ابا کئ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں امید ہے مارچ میں وہ نظام کی مخالفت ترک کرکے کچھ عرصے کے لیے باہر سیاحت پر جائیں گے قاسم سے ملنے ,بہت سارے لوگ مشورے دے رہے ہیں کہ آپ ذوالفقار علی بھٹو نہ بنیں ورنہ سیاست اور سیاحت دونوں دوہاتھ کر جائیں گی -
مختصر یہ کہ اب قاسم کے ابا کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ نظام کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہیں اور اپنی جان کی امان حاصل کرتے ہیں، یا پھر وہ ذوالفقار علی بھٹو کی قربانی دینا پسند کرتے ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

بشکریہ اردو کالمز