سیاسی منظر نامے پر زیربحث موضوع پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان "بلا" ہے۔ خبرآتی ہے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیادوسرے دن بلے کا نشان پی ٹی آئی کو واپس مل گیا۔ طرفین کی سیاسی جماعتیں بلے کے نشان پر ہونے والی پیش رفت پر اپنا اپنا راگ الاپ رہی ہیں۔ پاکستانی سیاسی میں انتخابی نشان بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے من پسندانتخابی نشان کے حصول کے لئے اپنا تن من دھن وارتی دیکھائی دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان کے حصول کے لئے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ؟ اسکے لئے الیکشن ایکٹ 2017کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انتخابی نشان کے حوالہ سے الیکشن ایکٹ 2017کا باب نمبر 12 بہترین طریقہ سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 214کے مطابق الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو الاٹ کرنے کے لیے مخصوص انتخابی نشانات کی فہرست تیار کرتا ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017کے سیکشن215(1)کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 202, 206, 209, 210 میں درج شرائط پر پورا اُترنے والی سیاسی جماعت ہی اپنے پسندیدہ انتخابی نشان کے حصول کے لئے اہل قرار پاتی ہیں: { سیکشن 202کے تحت سیاسی جماعت کا انتخابات میں حصہ لینے کے لئے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن /اندارج ہونا لازم ہے۔سیکشن 206کے تحت سیاسی جماعت کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت کے لیے امیدواروں کا انتخاب ایک شفاف اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے کرنا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ عام نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کرتے وقت خواتین امیدواروں کی کم از کم پانچ فیصد نمائندگی کو یقینی بنانا لازم ہے۔ سیکشن 209کے تحت ایک سیاسی جماعت کو انٹرا پارٹی انتخابات کی تکمیل کے سات دنوں کے اندر، پارٹی کے سربراہ کی طرف سے دستخط شدہ سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن کو جمع کروانالازم ہے۔جبکہ سیکشن 210کے تحت ایک سیاسی جماعت کو مالی سال کے اختتام سے ساٹھ دنوں کے اندرچارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے آڈٹ شدہ سٹیٹمنٹ کو الیکشن کمیشن کو جمع کروانا لازم ہے۔ اس سٹیٹمنٹ میں یہ ڈکلریشن دینا بھی لازم ہے کہ کسی قسم کے ممنوعہ ذرائع سے کوئی فنڈز سیاسی جماعت کو موصول نہیں ہوئے}۔ سیکشن 215(2)کے تحت سیاسی جماعتوں کا مجموعہ/الائنس جیسا کہ ماضی میں متحدہ مجلس عمل اس صورت میں انتخاب کے لیے ایک متفقہ انتخابی نشان حاصل کر سکتا ہے، جس طرح متحدہ مجلس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر "کتاب" کے انتخابی نشان پر انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ مگر شرط یہ ہےالائنس میں شامل ہر سیاسی جماعت سیکشن 202، 206، 209 اور 210 میں بیان کردہ سرٹیفکیٹ اور گوشوارے جمع کرائے۔ سیکشن 215(3)کے تحت کسی سیاسی جماعت کو پہلے سے مختص کردہ انتخابی نشان کسی دوسری سیاسی جماعت یا سیاسی جماعتوں کے مجموعہ/الائنس کو الاٹ نہیں کیا جائے گا۔الیکشن ایکٹ کے سیکشن 216 کے مطابق سیاسی جماعت عام انتخابات کے لیے اپنی پسند کا انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو درخواست دیتی ہے۔اور یہ درخواست درج ذیل معلومات پر مشتمل ہونی چاہیے جیسا کہ (a) ترجیح کے لحاظ سے درخواست کردہ انتخابی نشانوں کی فہرست؛ (b) انتخابی نشان اگر سیاسی جماعت کو پچھلے عام انتخابات کے دوران الاٹ کیا گیا ہو۔ (c) ایسی ہر درخواست پر پارٹی سربراہ کے دستخط ہوں گے (d) سیاسی جماعت کے ہیڈ آفس کا پتہ اور (e) سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی دیگر تفصیلات یا مطلوبہ معلومات جو الیکشن کمیشن تجویز کرتا ہے۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 217کے تحت الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کرتا ہے اگر سیاسی جماعت الیکشن ایکٹ کے درج بالا سیکشنوں کی تعمیل کرتی ہے۔اسکے بعد سیاسی جماعت کی طرف سے کسی بھی حلقے میں انتخاب کے لیے نامزد کردہ امیدوار کو ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے اس سیاسی جماعت کو الاٹ کردہ نشان الاٹ کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی سیاسی جماعت کو الاٹ کیا گیا نشان اس سیاسی جماعت کے نامزد کردہ امیدوار کے علاوہ حلقے میں کسی اور ا میدوار کو الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ کمیشن کی ہدایت کے تابع، ضمنی انتخاب میں، ریٹرننگ آفیسر سیاسی جماعت کے نامزد کردہ امیدوار کو پچھلے عام انتخابات میں اس سیاسی جماعت کو الاٹ کردہ نشان الاٹ کرے گا۔ریٹرننگ آفیسر ایک حلقہ میں ہونے والے انتخابات میں ہر امیدوار کو واضح اور مختلف انتخابی نشان الاٹ کرے گا۔الیکشن ایکٹ 2017کے سیکشن 218کے تحت سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اسی نشان کی الاٹمنٹ کا دعویٰ کرے جو اسے کسی بھی پچھلے انتخابات میں مختص کیا گیا تھا۔سیاسی جماعت کو مخصوص نشان کی الاٹمنٹ کے لیے ترجیح دی جائے گی اگر ایسا نشان اسے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے پہلے پچھلے انتخابات میں دیا گیا تھا۔یاد رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 202، 206، 209 اور 210 کے تابع سیاسی جماعت سے مطلوبہ سرٹیفکیٹس اور گوشوارے جمع کروانےاور جانچ پڑتال کے بعد ہی انتخابی نشان الاٹ کرتا ہے۔ بصورت دیگرالیکشن کمیشن آف پاکستان حال ہی میں پی ٹی آئی کے انٹراالیکشن میںمبینہ طور پر پائی جانے والی بے ضابطگیوں کی بناء پر انتخابی نشان الاٹ جاری کرنے سے روک بھی سکتا ہے۔بہرحال پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد پی ٹی آئی کو انتخابی نشان واپس تو مل چکا ہے مگر الیکشن کمیشن یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے جاچکا ہے۔ سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بنچ کی سربراہی کریں گے۔الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت 2 جنوری 2024 کو ہوگی۔انتخابی نشان الاٹ نہ کرنے پر الیکشن کمیشن حق بجانب ہے یا پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی؟ چونکہ یہ معاملہ عدالت عظمی میں زیر سماعت ہے لہذا حتمی فیصلہ آنے تک مزید تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔
168