تعلیم صرف ایک خواب نہیں، بلکہ والدین کی پلکوں پر رکھا ایک چراغ ہے۔ ایک ایسی تمنّا ہے، جو ہر ماں باپ کے دل میں اپنے بچوں کے لیے پنپتی ہے۔ دن رات کی مشقت، آرام و سکون کی قربانی، اور محدود وسائل کے باوجود اسکول، کالج، یونیورسٹی تک اپنے بچوں کی تعلیم کا سفر محض اس ایک امید پر جاری رکھتے ہیں کہ بچے پڑھ لکھ کر ایک دن ضرور کچھ بن جائیں گے اور ان سے بہتر زندگی گزارنے لگیں گے لیکن افسوس، اس خواب کو بیچنے کا ایک ایسا دھندا وجود میں آ چکا ہے جس میں والدین کے خوابوں کو نوٹوں میں تولا جاتا ہے، روپے کی زبان چلتی ہے، اور اس دھندے کی بھینٹ سب سے زیادہ وہ چڑھتے ہیں جو پہلے سے ہی بے بس ہوتے ہیں۔ اس وقت میرا موضوع یونیورسٹیوں میں داخلہ ٹیسٹ کے لیے ای کیٹ اور ایم ڈی کیٹ کا نظام اور اس کی تیاری کے نام پر لوٹ مار کرنے والے ادارے ہیں۔
پاکستان میں ہر سال یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے لاکھوں نوجوان ایم ڈی کیٹ اور ای کیٹ کے امتحانوں میں شریک ہوتے ہیں۔ 2023 میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق مجموعی طور پر 2 لاکھ 6 ہزار 631 طلبا نے ایم ڈی کیٹ کا امتحان دیا۔ ان میں سے صرف 68 ہزار 180 امیدوار پاسنگ مارکس ( 55 %) حاصل کر پائے، جو کہ کل تعداد کا تقریباً 33 فیصد بنتا ہے۔ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان بھر میں سرکاری و نجی میڈیکل کالجز کی کل نشستیں صرف 19 ہزار 500 کے لگ بھگ ہیں، نتیجہ۔ ہزاروں کامیاب امیدوار بھی بالآخر داخلے سے محروم۔
لاہور، کراچی اور راول پنڈی اسلام آباد جیسے بڑے بڑے شہروں میں کامیابی کی شرح اوسطاً 30 سے 34 فیصد کے درمیان رہتی ہے، جس میں سے محض پانچ سے چھے فی صد سرکاری اداروں میں جاتے ہیں، کیوں کہ نشستیں انتہائی محدود اور مقابلہ ہر سال شدید سے شدید تر ہے۔
کم و بیش یہی حال انجینئرنگ میں داخلے کا ہے جس کے لیے ہر سال ہزاروں طلبا ای کیٹ اور دیگر انٹری ٹیسٹس میں شریک ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال لاہور سے لگ بھگ 17,000 طلبا نے ای کیٹ دیا۔ کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی کے انٹری ٹیسٹ میں تقریباً 12,000 طلبا شریک ہوئے، جبکہ راول پنڈی، اسلام آباد میں 10,000 سے زائد امیدواروں نے داخلہ ٹیسٹ دیے۔ جن میں داخلہ حاصل کرنے والوں کی شرح 8 سے 10 فیصد سے زیادہ نہیں۔
اب یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناکام طلبا کی اتنی بڑی شرح کے باوجود داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کے نام پر کوچنگ سینٹرز کا کاروبار ہر سال مزید سے مزید کیوں چمکتا جا رہا ہے؟
اس سارے منظرنامے میں سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والے یہی کوچنگ سینٹرز ہیں جو ’انٹری ٹیسٹ کی تیاری‘ کے نام پر ہزاروں نہیں، لاکھوں روپے والدین سے اینٹھ رہے ہیں۔ ان میں سے بیش تر بغیر کسی رجسٹریشن کے چل رہے ہیں، جن کے پاس نہ معیاری اساتذہ ہیں، نہ کوئی تدریسی حکمت عملی۔ داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کی مد میں طلبا سے ستر ہزار سے ایک لاکھ روپے تک فیس لی جا رہی ہے، اور بدلے میں طلبا کو کیا مل رہا ہے؟ ایسے پرہجوم کلاس رومز کہ استاد کی آواز تک سننا طلبا کے لیے ممکن نہیں۔ یہاں تیاری کروانے والے اکثر ”اساتذہ“ خود یونیورسٹی کے طالب علم ہوتے ہیں جن کا تدریسی تجربہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا بس کم معاوضے پر پڑھانے کے کام پر لگا دیا جاتا ہے۔
آج کی ورچوئل دنیا میں جب کہ کتابیں، یوٹیوب لیکچرز، ٹیسٹ کی تیاری کے مکمل کورسز، سب کچھ ایک کلک پر موجود ہے۔ پھر بھی ہر سال ہزاروں والدین داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کے لیے ان کوچنگ سینٹرز کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ آخر کیوں؟ کیوں کہ معاشرہ ذہنی طور پر ان کوچنگ سینٹرز کا غلام بن چکا ہے۔ ہم اب تک یہ نہیں سیکھ پائے کہ خود سیکھنا آخر ہوتا کیا ہے۔ ہم نے خود پر سے بھروسا ختم کر کے سارا انحصار ان اداروں پر کر لیا ہے جو ہماری کم زوری کا فائدہ اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچ چکے ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ والدین بھی ان غلط فیصلوں اور نتائج میں اہم فریق ہیں۔ وہ نہ خود سسٹم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، نہ بچوں کے شوق کو اہمیت دیتے ہیں۔ ”ڈاکٹر بنے گا“ یا ”انجینئر ہی بنے گا“ جیسے خواب، جو اکثر سماجی دباؤ اور موازنہ بازی سے جنم لیتے ہیں، وہ اپنے بچوں کے ذہنوں پر بٹھا دیتے ہیں۔ بے شک والدین کے اخلاص کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، لیکن لاعلمی اور جذباتیت میں اکثر اپنے ہی بچوں کا مستقبل اندھیرے میں دھکیل دیتے ہیں۔
رہ گئے طلبا تو آج کے بچے جو پڑھائی سے دور ہیں اور ہمہ وقت کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں وہ خوشی خوشی اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ ، خود محنت سے جی چرانا، اور آسان حل کی تمنا کرنا ان کی اصل خامی یہی ہے۔ یہی باتیں طلبا کو ان اداروں کے دروازے پر لے جاتی ہیں، جہاں بس ”کامیابی کا خواب“ بیچا جاتا ہے، کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔
اب سوال یہ نہیں کہ غلطی کہاں ہوئی؟ بلکہ یہ بنتا ہے کہ سدھار کیسے ممکن ہے؟ سادا سا جواب کہ سدھار کا آغاز ریاستی پالیسیوں سے ہونا چاہیے، لیکن ریاست سب کچھ نجی اداروں کے حوالے کر کے خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
معاملہ اب اتنا خراب ہو چکا ہے کہ محض امتحانی اصلاحات کی بات کر کے جان نہیں چھڑائی جا سکتی بلکہ اگر سنجیدگی سے اس تعلیمی مافیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل اقدامات فوری اور موثر طور پر نافذ کرنے ہوں گے :
سب سے پہلے کوچنگ سینٹرز کی رجسٹریشن اور نگرانی کریں۔ ہر کوچنگ سینٹر کو حکومتی شرائط و ضوابط کے تحت رجسٹر کرنا لازم قرار دیا جائے۔ ان کے اساتذہ کی بھرتی کا معیار، نصاب، ماہانہ فیس اور تدریسی معیار کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے۔
پھر سرکاری سطح پر آن لائن پلیٹ فارمز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت ایسے مفت، معیاری اور تصدیق شدہ آن لائن کورسز مہیا کرے جو ای کیٹ، ایم ڈی کیٹ اور دیگر انٹری ٹیسٹس کی تیاری کے لیے کافی ہوں، جیسے بھارت کا ’SWAYAM‘ یا ’NPTEL‘ ۔
مزید یہ کہ داخلے کا نظام از سر نو ترتیب دیا جائے اور صرف MCQs پر مبنی امتحانات کے بجائے طلبا کی سوچ، تجزیہ، اور اصل علمی قابلیت کو جانچنے والے متبادل طریقے متعارف کروائے جائیں۔
سکولوں اور کالجوں میں کیریئر گائیڈنس کا لازمی اہتمام کروایا جائے۔ ہر سرکاری و نجی تعلیمی ادارے میں پروفیشنل کیریئر کونسلنگ سیشنز کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ والدین اور طلبا وقت آنے پر درست فیصلے کر سکیں۔
مزید برآں والدین کے لیے آگاہی پروگرام رکھے جائیں۔ بچوں کی تعلیمی رہنمائی میں والدین کو باشعور بنانے کے لیے باقاعدہ سیشنز کا انعقاد کیا جائے۔
طلبا کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کالج کے امتحان سے لے کر یونیورسٹیوں میں داخلے کے پیچیدہ عمل سے گزرنے والے ہمارے اکثر طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے طلبا کے لیے کالج کی سطح پر ماہرینِ نفسیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
ای کیٹ اور ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے نام پر لوٹ مار کرنے والے اداروں کو قوانین کا پابند کیا جائے کیوں کہ علم روشنی ہے، سودا نہیں۔ خواب بیچنے والوں کی دکان تب بند ہوگی جب ریاست، والدین اور طلبا مل کر اپنی آنکھیں کھولیں گے۔
جب تک علم کو کاروبار، اور کامیابی کو مقابلہ سمجھا جاتا رہے گا، تب تک ہر دروازے پر ایک نیا خواب دفن ہوتا رہے گا۔ ایک نئی نسل، ایک نیا نقصان۔