ذوالفقار چوہدری
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کوپشاور ہائیکورٹ، جسٹس روزی خان کو بلوچستان ہائیکورٹ جبکہ جسٹس محمد جنید غفارکو سندھ ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کے طور پر نامزد کردیا ہے۔ ججز کی تقرری کیلئے ناموں کی منظوری چاروں ہائیکورٹ کے سینئر ترین تین ججز کے ناموں پر غور کے بعد دی گئی۔ جسٹس سرفراز ڈوگر کے حق میں 9اکثریتی ووٹ آئے، چیف جسٹس اورPTIکے2 ارکان نے جسٹس گل حسن اورنگزیب کے حق میں ووٹ دیا جبکہ جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے جسٹس محسن اختر کو ووٹ دیا۔ اس طرح 26آئینی ترمیم کے مطابق چاروں چیف جسٹسس کی تقرری تو ہو گئی۔ مگر عوامی اور سماجی حلقوں میں چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ ہی کچھ ایسی رہی ہے جہاں آئین، قانون اور انصاف کی بلند بانگ باتیں ہر سرکاری، عدالتی اور سیاسی تقریر کا لازمی جزو ہوتی ہیں، مگر جب ان بلند دعوؤں کو عملی سطح پر پرکھا جائے، تو حقیقت کسی زخمی سچائی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ ملک کا نظامِ عدل شدید بحران کا شکار ہے۔ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات برسوں سے زیرِ التوا ہیں، سائلین انصاف کی امید لیے روز عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں اور اکثر انصاف ملنے سے پہلے ہی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس المیے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں عدالتی ڈھانچے کی خامیاں، انتظامی نااہلی، اور سب سے بڑھ کر حکومتوں اور طاقتوروں کی طرف سے عدلیہ پر دباؤ شامل ہیں۔ آج پاکستان کی سپریم کورٹ سے لے کر تحصیل سطح کی عدالتوں تک لاکھوں مقدمات فیصلے کے انتظار میں ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے نے رواں برس ہی ایک تقریب میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں 24 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، اور 86 فی صد زیر التوا کیسز ضلعی عدالتوں میں ہیں۔ صرف سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے، جبکہ ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں یہ تعداد کئیلاکھ ہے۔ ہر مقدمہ کسی شخص کی زندگی کا ایک اہم باب ہوتا ہے، لیکن عدالتی نظام کی سست رفتاری اسے ایک طویل اذیت میں بدل دیتی ہے۔ اس تاخیر کی بنیادی وجوہات میں ججوں کی شدید کمی، تفتیشی اداروں کی ناقص کارکردگی، غیر تربیت یافتہ وکلا، جھوٹے مقدمات، اور غیر معیاری عدالتی کارروائی شامل ہیں۔ ایک عام شہری کو مقدمہ دائر کرنے سے لے کر فیصلہ حاصل کرنے تک بعض اوقات دہائیاں گزر جاتی ہیں۔ عدالتی وقت کا بیشتر حصہ غیر ضروری التوا، تاریخ پر تاریخ، اور غیر پیشہ ورانہ وکالت کی نذر ہو جاتا ہے۔ عدالتوں کا بنیادی فریضہ انصاف فراہم کرنا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ تاثر اب عام ہوتا جا رہا ہے کہ عدلیہ طاقتوروں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ کئی بااثر افراد اور سیاستدانبرسوں تک مقدمات کا سامنا کیے بغیر ضمانتوں پر آزاد رہتے ہیں، جبکہ عام شہری معمولی جرائم میں بھی جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ عدالتیں اکثر طاقتور حلقوں کے زیرِ اثر فیصلے دیتی نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر، بعض فیصلے ایسے اوقات میں آتے ہیں جب سیاسی منظرنامہ فیصلہ کن موڑ پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات انتخابی شیڈول، اسمبلی کی تحلیل، یا سیاسی جماعتوں کی قیادت کے فیصلے محض قانونی معاملات نہیں رہتے، بلکہ سیاسی بیانیے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عدلیہ کو کبھی بھی مکمل آزادی سے فیصلے کرنے کا ماحول فراہم نہیں کیا گیا۔ مختلف ادوار میں سیاسی حکومتیں، طاقتورادارے اور خفیہ ہاتھ عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ عدالتوں سے "من چاہے" فیصلے حاصل کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ ماضی میں جسٹس منیر کے نظریہء ضرورت سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے آئین توڑنے کو "جائز" قرار دینے تک، عدلیہ نے کئی ایسے فیصلے سنائے جن پر آج خود عدالتی حلقے نادم ہیں۔ حالیہ برسوں میں بھی بعض فیصلے، مثلاً کسی وزیراعظم کو تاحیات نااہل قرار دینا، یا کچھ افراد کو سیاسی میدان سے باہر رکھنا، سیاسی انجینئرنگ کی علامات سمجھے جاتے ہیں۔اگر عدالتیں آزاد اور غیر جانبدار ہوتیں، تو شاید ایسے فیصلے محض آئینی بنیادوں پر ہوتے۔ لیکن جب جج صاحبان خود تسلیم کریں کہ اْن پر دباؤ تھا، یا عدلیہ کے اندر سے آوازیں اٹھیں کہ بعض فیصلے ‘‘کسی اور کی خواہش اور مرضی’’ سے سنائے گئے، تو عدلیہ کی ساکھ خود بخود مشکوک ہو جاتی ہے۔ پاکستان کا عام شہری جب اپنی زمین کے جھگڑے، وراثت کے مسائل، یا کسی اور قانونی معاملے میں عدالت سے رجوع کرتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایک پیچیدہ نظام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکیل کی فیس، عدالتی اخراجات، پیشی پر چھٹی، اور برسوں پر محیط مقدمے کی طوالت، سائل کو ذہنی، جسمانی اور مالی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔جب انصاف مہینوں اور برسوں کی بجائے نسلوں کے بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں ظلم بن جاتا ہے۔ اسی لیے عوام کا عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ وہ عدلیہ کو ایک ایسا نظام سمجھتے ہیں جو طاقتور کو تحفظ اور کمزور کی گرفت کرتا ہے۔ نظامِ عدل کو بحال کرنے اور عدلیہ کو اس کے اصل مقام تک پہنچانے کے لیے چند سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں:ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹایا جا سکے۔ماتحت عدلیہ کو ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے تاکہ عدالتی عمل تیز اور شفاف ہو۔جھوٹے مقدمات پر جرمانے اور سخت سزائیں دی جائیں تاکہ عدالتی وقت ضائع نہ ہو۔عدلیہ کو آئینی تحفظ دیا جائے کہ کوئی بھی ادارہ یا حکومت اس کے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہو سکے۔عدالتی اصلاحات پر پارلیمان، بار کونسلز، اور سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت کی جائے تاکہ ایک نیا، شفاف اور قابلِ اعتماد عدالتی نظام ترتیب دیا جا سکے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو انصاف کے نام پر بنا، مگر انصاف ہی اس کی سب سے بڑی محرومی بن چکا ہے۔ اگر عدلیہ کو واقعی آزاد، باوقار اور عوام دوست بنانا ہے تو اسے سیاسی اور ادارہ جاتی دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، عدالتوں میں بیٹھے منصف متنازعہ فیصلے سناتے رہیں گے، اور عام آدمی انصاف کی تلاش میں سسکتا، بلکتا اور بالآخر خاموش ہو جاتا رہے گا۔
انصاف کی تلاش میں بھٹکتا پاکستان