ن لیگ مقتدر حلقوں سے آشیر باد اور عمران خان کے خلاف غیر قانونی نگران حکومت سے انتقامی کارروائیاں کرانے کے باوجود عوامی نفرت کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف کے پاس 18ماہ کی شہباز شریف حکمرانی کی لوٹ مار،عوام پر بدترین مہنگائی مسلط کرنے اور عام پاکستانی کی بنیادی ضروریات چھیننے کے سوالات کے کوئی جوابات نہیں،حافظ آباد کے جلسہ میں جو لوگ نواز شریف کی تقریر کے وقت موجود تھے وہ مریم نواز کی تقریر کے وقت جلسہ گاہ سے نکل رہے تھے،اور جب ان سے پوچھا گیا کہ ووٹ کس کو دو گے تو ان کا موقف تھا کہ عمران خان کو ووٹ دیں گے،انتخابی نشان چھیننے کے باوجود عمران خان کا ووٹ بنک نہیں ٹوٹا بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے،اوکاڑہ کے جلسہ میں مریم نواز نے گھی کے ڈبوں کا لالچ دیکر جو جلسہ کیا،مقامی کالج اور سکولوں کے طلبہ کو جلسہ گاہ بھرنے کیلئے اوکاڑہ کے ڈی سی نے چھٹی کرائی اس میں بھی عمران خان کے نعرے لگ گئے اور باقاعدہ جھنڈے پھاڑے گئے جس پر ایک طالب علم عمار حذیفہ سمیت 7نامعلوم طلبہ پر اوکاڑہ کے تھانہ اے ڈویژن میں ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے عوام میں اپنی مقبولیت کا گراف دیکھ کر میاں نواز شریف نے لیہ کا جلسہ منسوخ کردیا ہے،اب لیہ کی سیاست کا رخ کرتے ہیں میں نے لکھا تھا کہ صاحبزادہ فیض الحسن اور ان کے بھتیجے کی لڑائی عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے کی جارہی ہے اور اب اس کا رزلٹ آگیا ہے بعد ازاں میں نے ایک کالم میں یہ بھی لکھا کہ این اے 181اور این اے 182میں پیروں کا قبضہ ہے سید ثقلین شاہ نے اس قبضہ کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے ساتھ ایک اور پیر کو شامل کر لیا ہے،اور جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملے انہیں بھی شہباز شریف کا حکم ملا ہے کہ ن لیگ کے امیدواروں کی حمایت کریں لیہ میں مہر فضل سمرا کے بعد سمرا اور لوہانچ برادری نے بھی پیروں کے ہاتھ پر بیعت کرکے اپنی سیاست کو دفن کردیا ہے،مہر فضل سمرا اور مہر منظور حسین سمرا نے لیہ میں عام لیہ وال کی سیاست کی مہر فضل سمرا کو میں نے سائلین کے ساتھ پیدل چلتے دیکھا،لیہ کی سیاست میں اگر کوئی روشن ماضی نظر آتا ہے تو وہ مہر فضل سمرا اور مہر منظور سمراء کی شکل میں نظر آتا ہے جنہوں نے سیاست سے کچھ کمایا نہیں گنوایا ہے،اسی طرح ماضی کا ایک بڑا نام مہر گل محمد لوہانچ تھا،چوہدری اصغر علی گجر نے اسامہ اصغر گجر کی سیاست کی جو بنیاد رکھی ہے یہ اب شاید نہ ٹوٹ سکے انہوں نے خوف کے بت توڑ کر پہلے روز ہی لدھانہ یونین کونسل میں جلسہ کرکے مزاحمت کا آغاز کردیا،اور اویس نیاز جکھڑ نے بھی اپنی طوفانی الیکشن مہم کا جس طرح آغاز کیا ہے اس نے مخالفین پر گھبراہٹ طاری کردی ہے،خود ثقلین شاہ بخاری پر اب جکھڑوں کا خوف طاری ہے وہ براہ راست جکھڑوں پر تنقید کر رہا ہے جس کا نہ کوئی سر ہے اور نہ کوئی پاؤں ہے،ثقلین شاہ بخاری نے کبھی ماضی میں اپنے مخالفین کا نام نہیں لیا تھا مگر اب ان کا کہنا ہے کہ جکھڑاور تھند امیدوار بدل کر میدان میں آتے رہے مگر ان کو کون یہ سمجھائے کہ غلام حیدر تھند نے جس طرح ایک الیکشن میں آپ کی عمر کے حوالے سے مخالفت کی آپ پھر غلام حیدر کے ساتھ کھڑے ہوگئے،پھر آپ نے چوہدری اشفاق کے ساتھ پینل بنایا،پھر چوہدری اصغر گجر آپ کو یاد آگیا اب سید رفاقت گیلانی کا ووٹ بنک آپ کو جیت کیلئے درکار ہے،مہر طفیل،عابد انوار علوی،مہر اسلم سمرا،چوہدری اشفاق کو آپ نے لارا لپا لگائے رکھا،چوہدری اشفاق سے آپ نے پیپلز پارٹی کا پلیٹ فارم چھڑوایا،پارلیمانی میٹنگ میں بشارت رندھاوا نے جو آپ کے بارے میں کہا وہ سچائی ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں،آپ جس طرح چاہیں سید رفاقت گیلانی کی حمایت کریں لیکن پی پی 282میں وہی امیدوار جیتے گا جس کو ملک نیاز احمد جکھڑ کی حمایت حاصل ہوگی،دوسرا کیا اب بھی لوگ مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں گے جس نے 18ماہ کی حکومت میں عوام سے نوالہ تک چھین لیا اور اب نگران حکومت کے نام پر ن لیگ عوام پر حکمرانی کر رہی ہے ن لیگ اپنی لے پالک پولیس کے ذریعے شریف شہریوں کو اٹھوا رہی ہے،پٹرول جو عمران خان کے دور میں 150روپے لیٹر تھا اب 260پر ہے،بجلی جو عمران خا کے دور میں 15روپے یونٹ تھی اب 60روپے یونٹ ہے ملک اویس جکھڑ اور چوہدری اسامہ اصغر گجر ن لیگ کے گھمنڈ اور غرور کو توڑ کر جیتے گا،خود پی ٹی آئی کے امیدواروں کی توقعات سے بڑھ کر آٹھ فروری کو عوام کا ن لیگ کے خلاف رد ِ عمل آئے گا کل کو ہمارے کان سید رفاقت گیلانی کے یہ الفاظ بھی سنیں گے کہ سید ثقلین شاہ نے مجھے ووٹ نہیں دلوائے کیونکہ چوہدری اصغر علی گجر کے ساتھ یہ ہاتھ ہوچکا ہے،چوک اعظم جو کبھی ن لیگ کا گڑھ تھا اس بار ن لیگ اس شہر سے بڑے اپ سیٹ کیلئے تیار رہے،لالہ طاہر رندھاوا اپنے اقتدار میں ڈاکٹر امتیاز سہیل،چوہدری خالد ارائیں،صفدر خان جیسے دوستوں سے محروم ہو چکے ہیں
311