اسکرپٹ کیا ہے؟ 297

اسکرپٹ کیا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس وقت ملکی سیاست کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ ان کے مخالفین کی ساری تدبیریں ناکام ہو گئی ہیں ۔ عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کو تحلیل کرنے اور قومی اسمبلی سے اپنے ارکان کو استعفیٰ دلانے کا جو فیصلہ کیا ہے ، اس کے ان کی اپنی سیاست اور ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن وہ حالات کو اس نہج پر لے آئے ہیں کہ قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا۔

پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا یہ کہنا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ قومی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی خالی کردہ نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرا لئے جائیں گےجبکہ ملک میں عام انتخابات مقررہ وقت پرہی ہوں گے ، قرین از حقیقت نہیں لگتا ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کے 70فیصد حصے میں عام انتخابات سے چند ماہ پہلے وسط مدتی اور ضمنی انتخابات کر ادیئے جائیں اور پھر چند ماہ بعد پورے ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہو ؟اگرچہ وسط مدتی اور ضمنی انتخابات کرانا آئینی طریقہ ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ملک اتنے تھوڑے عرصے میں دو انتخابات کرانے کا متحمل ہو سکتا ہے اور موجودہ معاشی بحران میں ان انتخابات پر اخراجات کئے جا سکتے ہیں ۔ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل اور قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں سے کوئی آئینی بحران پیدا نہیں ہو گا لیکن وہ اس بات کوبھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ سنگین معاشی بحران کے ساتھ ساتھ ملک میں بڑا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

جب بطور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی اور عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی تھی ، اس وقت سے بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے ’’ ٹریپ ‘‘ میں آ گئی ہے ۔ عمران خان کی حکومت اس لئے ختم کی گئی تھی کہ ان کی حکومت کسی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی اور عمران خان کی مقبولیت گرتی جا رہی تھی ۔ ان حلقوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بدترین معاشی بحران میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نہیں چل سکے گی اور عمران خان دوبارہ مقبولیت حاصل کرکے پھر ملکی سیاست کو کنٹرول کریں گے ۔ یہ حلقے اس سارے کھیل کو ایک ’’ اسکرپٹ ‘‘ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

یہ واقعی کوئی اسکرپٹ ہے یا نہیں لیکن ہوا وہی ہے ، جس کی نشاندہی یہ حلقے کر رہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر عمران خان کی عوامی مقبولیت نہ ہوتی تو یہ اسکرپٹ بھی کامیاب نہ ہوتا ۔ سب لوگ اس امر سے بھی واقف ہیں کہ پی ٹی آئی کے بہت سے ارکان صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل اور استعفوں کے مخالف تھے ۔ اس کے باوجود انہوں نے عمران خان کے فیصلے کومانا ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ عمران خان کی مقبولیت اور ان پر اعتماد کے باعث اپنا سیاسی مستقبل بھی ان سے وابستہ دیکھتے ہیں ۔ پی ٹی آئی میں بعض ایسے ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی بھی تھے ، جو 2018کے عام انتخابات سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے ۔ وہ ارکان مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ میں اپنی ایڈجسٹمنٹ کے لئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت بھی کررہے تھے ۔ وہ بھی عمران خان کے فیصلے سے انحراف نہ کر سکے ۔ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کا بھی ایک مضبوط دھڑا ہے ۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 11 جنوری کو وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ کو اعتماد کا ووٹ حیرت انگیز اور ڈرامائی طور پر ملا ۔ پی ڈی ایم والے خاص طور پر اس کی توقع نہیں کر رہے تھے ۔ کچھ لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اسی ’’ اسکرپٹ ‘‘ کے تحت ہوا لیکن پھر وہی بات ہے کہ اگر عمران خان کی مقبولیت نہ ہوتی تو یہ اسکرپٹ کیسے کامیاب ہو سکتا تھا ۔ اسی مقبولیت کی وجہ سے ان کے ساتھ چلنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو کوئی دوسرا آپشن نظر نہیں آتا۔

موجودہ حکمراں اتحاد پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ عام انتخابات کی طرف جائیں۔وہ اگرچہ قبل از وقت انتخابات کے حامی نہیں ہیںلیکن اب ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں رہا اور قبل از وقت انتخابات کرانا آئین کے خلاف بھی نہیں ہے ۔ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی والے اگر قبل از وقت انتخابات کے لئے تیار نہیں ہوتے تو اس کا فائدہ بھی عمران خان کو ہو گا ۔ ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے کراچی اور حیدر آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست ایک بار پھر مسترد کر دی گئی ہے ۔

یہ بھی تحریک انصاف اور عمران خان کی فتح ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ قبل از وقت انتخابات کے لئے بھی عمران خان سے بات کر لی جائے اور ملک کو مزید سیاسی بحران سے بچا یا جائےبعض حلقے یہ شوشہ بھی چھوڑ رہے ہیں کہ عدالتی فیصلوں سے عمران خان کو سیاست سے آئوٹ کرنے کا بھی اسکرپٹ ہے ۔ اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پہلے اسکرپٹ کی طرح ایسا کوئی نیا اسکرپٹ ہے یا نہیں لیکن جس کا لوگ ساتھ دیں گےمستقبل کی سیاست کا اسکرپٹ وہ لکھے گا۔

بلا کسی رکاوٹ کے لوکل باڈیز کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں اس کا نتیجہ کیا ہوگا اس میں کتنا Participateہوا ہے یہ بعد میں معلوم ہو گا ، کراچی کو ایک بار پھر سازش کا شکار بنا دیا گیا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

بشکریہ جنگ نیوزکالم