بد عنـوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق "بد عنـوانی" جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف لے کر جاتی ہے۔ منڈیوں کو خراب کرتی ہے۔ زندگی کے معیار کو تباہ کرتی ہے۔ منظم جرائم، دہشت گردی اور دیگر خطرات کو پروان چڑھاتی ہے.بد عنوانی ہر جگہ موجود ہے اور اس کی قیمت سبھی کو چکانا پڑتی ہے۔ ملکی حالات کا جائزہ لیں تو بہت سی جگہوں پر بدعنوانی روزمرہ کا معمول ہے۔ جس کا واسطہ پولیس سے پڑ جائے وہ کچھ دے کر ہی جان چھڑواتا ہے. بلکہ ہمارے ہاں مقولہ مشہور ہے کہ خدا دشمن کو بھی تھانے, ہسپتال اور کچہری سے بچائے, ان کی دیواریں بھی پیسے مانگتی ہیں. اگرچہ بزرگوں کی یہ کہاوت نصف صدی سے بھی پرانی ہے لیکن آج بھی اتنی ہی سچی ہے. بلکہ اگر مزید سچ بولا جائے تو پھر آج من حیث القوم ہم سب سمیت پاکستان کا کوئی بھی محکمہ اور ادارہ اس کہاوت کی زد سے نہیں بچ سکتا. جانے انجانے سب بدعنوانی کی راہوں پر چل رہے ہیں کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہے. صرف صحت, تعلیم اور انصاف جیسے حساس اور اہم ترین شعبوں پر ہی ایک نظر ڈالیں تو ہر طرف, بدعنوانی اور لوٹ مار عروج پر ہے.اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر موثر کاروائی کے حکومتی فقدان سے مہنگائی کا طوفان برپا ہے. ضروریات زندگی کی اشیاء یا بازار میں فروخت ہونے والی کسی بھی چیز کے دکاندار منہ مانگے دام وصول کر رہا ہے کوئی اسے پوچھنے والا یا روکنے والا نہیں. آپ کسی بھی طرح کے ظلم و لاقانونیت کا شکار ہوئے ہوں, بھوکے ہوں یا پیاسے, پولیس کا سپاہی آپ سے دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے پیسے مانگـتا ہے۔ تھانیدار کو سرکاری گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کے لئے پیسے لینے پڑتے ہیں. امیگریشن اہلکار کو جب پاسپورٹ میں پیسے رکھ کر پیش کرتے ہیں تو وہ آپ کے ویزے کا کام تیزی سے کر دیتا ہے۔ کسی سرکاری ہسپتال میں ڈاکـٹر کے جلدی سے دیکھنے کے بدلے میں آپ اسے ملاقات کے وقت چاکلیٹ کا ایک ڈبہ دے دیتے ہیں وگرنہ آپ جانوروں جیسے سلوک کے حقدار بن سکتے ہیں. انصاف کی تلاش یے تو جیب بھری ہونی چاہئے ورنہ یہ تلاش ایک حسرت ناتمام کی شکل اختیار کر لے گی. اگرچہ کہ یہ تمام معاملات چھوٹی چھوٹی "بدعنوانیاں" ہیں اور ان سے نقصان کا اندیشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے مگر کبھی کبھار ان کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان بھی ہو سکـتا ہے۔ اپنے کام نکلوانے کے لیے چھوٹے موٹے تحفے تحائـف ،احسانات وغیرہ کرنے کی ضرورت، اکـثر ایک سنگین خطرے کی علامت ہوتی ہے۔ خصوصاّ اس وقت جب چند افراد کے فائدے کے لیے حکومتوں، کاروباری اداروں اور ثقافتی اداروں میں جوڑ توڑ ہونے لگے۔ بڑے پیمانے پر بدعنوانی اس وقت ہوتی ہے جب حکومتی اہلکار عوام الناس کے فائدے کی بجائے اپنے اور اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہیں۔ بدعنوان سرکاری اہلکار بولی لگانے کے عمل میں دھاندلی کر سکـتے ہیں۔ عوام کے پیسے چرا سکـتے ہیں، کام کرنے کے بدلے رشوت لے سکـتے ہیں۔ طاقت کا اس طرح کا غلط استعمال بدعنوانی میں فروغ اور حکومتی اداروں میں مداخلت کا سبب بنتا ہے۔ بدعنوان کاروباری ادارے سرکاری اہلکاروں کو ٹھیکے یا پرمٹوں کے حصول کے لیے رشوت دے سکـتے ہیں۔ یا کاروباری ادارے مالیاتی گوشواروں کے دوہرے ریکارڈ رکھ سکـتے ہیں۔ اِن میں سے ایک ریکارڈ سرکار کے لیے ہوتا ہے اور دوسرا ریکارڈ سرمایہ کاروں، ملازمین اور ٹیکس حکام سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ اس طرح سے نجی ادارے بدعنوانی کے ذریعے عوام الناس کی سلامتی اور خوشحالی کو متاثر کر سکـتے ہیں۔ لیکن شاید اب یہ بدعنوانی ہمارے معاشرے میں اس قدر زیادہ سرایت کر چکی ہے کہ شہری اسے روز مرہ زندگی کا ایک معمول سمجھنے لگے ہیں۔ مثلا سڑک کے کنارے چھابڑی لگا کر کاروبار جاری رکھنے والے سے پولیس کے سپاہی کا پیسوں کا تقاضا کرنا، اس سے قبل کہ والدین اپنے نو مولود بچے کو دیکھ سکیں ،کسی نرس کا پیسوں کے لیے ہاتھ پھیلانا، یا کسی استاد کا شاگرد کو پاس کرنے کے عوض ٹیوشن پڑھانے کے پیسوں کا تقاضا کرنا۔ ان سب کو بدعنوانی کی مختلف شکلوں کی چند ایک مثالیں کہا جا سکتا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے ذریعے بدعنوان ممالک کی عالمی رینکنگ کا آغاز 1995 میں میں کیا تھا. لیکن یہ جان کر ہر کوئی حیران رہ جائے گا کہ ان 27 سالوں میں کرپشن کے میدان میں دنیا کے 180 ممالک میں ہمارا کوئی ثانی نہیں اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک اتنی تیزی سے اس میدان میں ترقی کر سکا. یقیناْ ماضی حال سے بہتر تھا. عالمی رینکنگ کے پہلے سال 1995 میں پاکستان 180 ممالک کی فہرست میں 39ویں نمبر پر تھا، لیکن اگلے سال 1996 میں یکدم 14 درجے ترقی کر کے 53ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ 1997 میں کم ہو کر 48 مگر پھر اگلے ہی سال 1998 میں 71ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ 1999 میں 87، 2001 میں 79, 2002 میں 77, 2003 میں 92 اور پھر 2004 میں نہ صرف سینچری مکمل کی بلکہ 129ویں نمبر پر آنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔ لیکن ستم تو یہ ہوا کہ 2005 میں اب تک کی 27 سالہ تاریخ کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ہم 144ویں نمبر پر پہنچ گئے۔ 2005 میں قائم ہونے والا یہ ریکارڈ 18 سال گزرنے کے بعد بھی ٹوٹ نہیں سکا۔ لیکن اب لگتا ہے کہ یہ ریکارڈ بھی ٹوٹنے میں شاید زیادہ وقت نہ لگے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ سال ہم 150 ممالک کو کرپشن میں پیچھے چھوڑ چکے ہوں۔ 2006 میں ہونے والی رینکنگ میں دو درجہ تنزلی کے ساتھ ہم 142ویں نمبر پر آ گئے۔ 2007 میں 138, 2008 میں 134, 2009 میں 139, 2010 میں ایک بار پھر 143ویں نمبر پر، 2011 میں 134ویں، 2012 میں 139ویں، 2013 میں 127, 2014 میں 126, 2015 میں 117, 2016 میں 116ویں، 2017 میں 117ویں نمبر پر اور 2018 میں بھی 117ویں نمبر کو برقرار رکھا۔ 2019 میں بڑھ کر 120، 2020 میں 124ویں، 2021 میں 140 اور 2022 میں بھی 140 ویں نمبر پر قائم رہے۔ مجموعی طور پر کرپشن کے میدان میں ہم 27 سال کے عرصے میں 39 ویں نمبر سے 140 ویں نمبر کا سفر بڑی تیزی سے طے کر گئے ہیں۔ یعنی پاکستان نے 101 درجہ ترقی کی ہے۔ لیکن ایک بات اب بھی ایسی ہے جس پر یقیناّ بہت سے احمق خوش ہو کر کہہ سکتے ہیں کہ ماضی کی نسبت ہمارے ملک میں کرپشن کم ہوئی ہے کیونکہ 2005 اور 2010 میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے ابھی ہم بالترتیب چار اور تین درجے نیچے ہیں, شاید ایسے ہی کسی موقع کے لئے غالب نے کہا تھا
دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے.
جاری ہے