ضروری نہیں کہ دکھائی نہ دینے والے پروردگار سے ہی گلہ کیا جائے،زمینی خدائوں سے شکوہ کرنے کا خطرہ بھی مول لیا جا سکتا ہے۔اقبال کے الفاظ مستعار لوں توـ؛
ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصّہ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
سازِ خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اے خدا! شکوہ اربابِ وفا بھی سُن لے
خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سُن لے
اور
رحمتیں ہیں تری’ امراء‘ کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے ’بے سر و سامانوں ‘ پر
(شعر میں تحریف پر معذرت)۔
وفاقی کابینہ نے جاتے جاتے بجلی 7روپے 50پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دیکر عوام پر ایک بار پھر برق گرادی ہے ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ اس ظالمانہ فیصلے کی ذمہ داری لینے کے بجائے یہ توجیہہ پیش کی جارہی ہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹینڈنگ ایگریمنٹ کے تحت یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔ دراصل بجلی کی تقسیم کار کی ذمہ دار کمپنیاں جنہیں ایکس واپڈا ڈسکوز کہا جاتا ہے ،انہیں سالانہ 150ارب روپے خسارے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے پاور سیکٹر کے نقصان اور گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس خسارے کو ختم کریں تو بجلی کے نرخ بڑھا کر اس مسئلے کو حل کرلیا جاتا ہے۔ہمسایہ ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی ،پنجاب اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں بجلی بالکل مفت فراہم کی جارہی ہے۔ہمارے ہاں بھی حکومت عام آدمی کو نہایت معمولی سبسڈی دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن میں کہتا ہوں آپ نہ تو سبسڈی دیں اور نہ ہی بجلی مفت فراہم کریں،جو بھی کاسٹ آتی ہے وہ صارف سے وصول کریں ،اخراجات پورے کرنے کیلئے بجلی کی قیمت بڑھانا پڑتی ہے تو ضرور بڑھائیں لیکن اپنی نااہلی ،مجرمانہ غفلت ،غیر ذمہ داری ،کرپشن اور عیاشیوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پر نہ ڈالیں۔پہلے تو یہ طے کرلیں کہ جب غریب آدمی سے پورا بل وصول کرنا ہے تو پھر بجلی کسی کیلئے مفت نہیں ہوگی۔کیا یہ بھونڈا مذاق نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کوپرکشش تنخواہوں،رہائش اور دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ 1000یونٹ ماہانہ بجلی ،گیس اور 200لیٹر پیٹرول مفت فراہم کیا جارہا ہے؟واپڈا کے ملازمین کو ان کے گریڈ کے حساب سے ماہانہ 1100 یونٹ تک بجلی مفت دی جارہی ہے۔گریڈ ایک سے چار تک کے ملازمین کیلئے 100،گریڈ 5سے گریڈ 10تک کے ملازمین کیلئے 150یونٹ ،گریڈ 11سے گریڈ15تک کے ملازمین کیلئے 200،گریڈ 16کے ملازمین کیلئے300 ،گریڈ 17کے ملازمین کیلئے450،گریڈ 18کے ملازمین کیلئے600، گریڈ 19کے ملازمین کیلئے 880،گریڈ 20کے ملازمین کیلئے1110جبکہ گریڈ 21اور گریڈ 22کے ملازمین کیلئے1300 یونٹ فری ہیں ۔اور یہ فارمولہ تو محض کتابوں تک محدود ہے ، عملاً واپڈا کے اہلکار اور افسر جتنی چاہیں بجلی استعمال کریں ،نہ تو ان کے ہاں لگے میٹر کی ریڈنگ نوٹ کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں اضافی بل اداکرنا پڑتا ہے۔افسر وں کے تو ٹھاٹھ باٹھ ہی الگ ہیں ،آپ کسی لائن مین کے گھر جا کر دیکھ لیں،روٹی ہانڈی کیلئے بجلی کا ہیٹر استعمال ہوتا ہے ،سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے ونڈو ایئر کنڈیشنڈچلائے جاتے ہیں کیونکہ مالِ مفت دلِ بے رحم ۔16ستمبر 2021ء کو سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں ہونے والے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق سال 2018-19ء میں واپڈا ملازمین (بشمول ڈسکوز اور پاور جنریشن کمپنیوں میں کام کرنیوالے ملازمین)نے بجلی کے391ملین یونٹ مفت یونٹ استعمال کیے۔تب تو اس مفت خوری کا تخمینہ 5.26ارب روپے بنتا تھا مگر اب موجودہ نرخوں کے حساب سے 2لاکھ واپڈا ملازمین کی یہ عیاشی 10ارب روپے میں پڑ رہی ہے ۔ 30مارچ 2023ء کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے اس مفت خوری کا نوٹس لیا اور حکم دیا کہ مفت بجلی کی سہولت ختم کی جائے۔میں نے سوچا کیوں نہ چیئرمین PACکو یاد دلائوں کہ 24جون 2022ء کو بھی آپ نے بطور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی، اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے یہی حکم صادر فرمایا تھا لیکن ایک سال بعد دوبارہ وہی احکامات جاری کرنے کا مطلب ہے کہ ’نوٹس ملیا ،ککھ نہ ہلیا‘‘۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ واپڈا کا عملہ (اگرچہ تکنیکی اعتبار سے یہ الیکٹرک ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے اہلکار ہیں مگر عام آدمی کو سمجھانے کے لئے واپڈا کی اصطلاح ہی استعمال کی جاتی ہے)نہ صرف خو د مفت بجلی استعمال کرتا ہے بلکہ بجلی چوری کرنے والوں کی سہولت کاری کرکے مزید خسارے کا سبب بنتا ہے۔فروری 2023ء میں قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2022-23کے دوران 380ارب روپے کی بجلی چرائی گئی اور اگلے سال بجلی چوری سے ہونے والا نقصان 520ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔صرف ایک گرڈ اسٹیشن بنوں سے 5ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔بجلی چوری کا مطلب ہے کہ یا توعملہ چوروں کے ساتھ ملا ہوا ہے یا پھر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا ۔ دونوں صورتوں میں اس کا خمیازہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ملازمین اور افسروں کو بھگتنا چاہئے لیکن یہ بوجھ بھی صارفین کو اُٹھانا پڑتا ہے،کیوں؟عام آدمی آپ کی نااہلی ،غفلت اور بدعنوانی کی سزا کیوں بھگتے؟یہ قانون سازی کی جائے کہ جس سب ڈویژن سے جتنی بجلی چوری ہوگی اس کی کٹوتی متعلقہ SDOاور اس کے ماتحت کام کرنیوالے عملے کی تنخواہوں سے کی جائے گی۔کسی کوبجلی کا ایک یونٹ بھی مفت نہیں ملے گا۔اگر اس کے بعد بھی پاور سیکٹر کا خسارہ ختم نہیں ہوتا تو بجلی کے نرخ ضرور بڑھائیں۔اگر کڑوی گولیاں نگلنا ضروری ہیں تو پھر سب کو اپناحصہ وصول کرنا ہوگا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف عام انسانوں اور بے سروسامانوں پر مسلسل برق گرتی رہے۔