ہجرت ایک تاریخی حقیقت ہے انسان کو اپنی زندگی میں بے شمار حالات واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہجرت عموما نامساعد حالات میں کی جاتی ہے ایک ہی ملک میں گاؤں سے شہر میں آنا یا چھوٹے شہر سے بڑے شہر میں چلے جانا بھی ہجرت کہلاتا ہے۔ ہمارے جیسے ممالک میں بے روزگاری کے شدید مسائل ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو یہاں اپنا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔اور وہ بہتر مستقبل کے لیے عرب یورپ انگلینڈ امریکہ کینیڈا وغیرہ جانے کے لیے دن رات کوششیں تو شاید چھوٹا لفظ ہوگا تڑپتے رہتے ہیں آج اگر آپ ہر دوسرے شخص سے سوال کریں گے کہ برطانیہ جانا ہے تو اس کا جواب اثبات میں ہوگا بلکہ ایک حسرت صاف عیاں ہوگی۔میں یہاں صرف برطانیہ کے متعلق بات کروں گا کہ اچھے بھلے کھاتے پیتے گھرانے پوری فیملی سمیت برطانیہ جانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں ان کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے ہیں گھروں میں ملازمین بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ گیراج میں دو دو گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں ہر کمرے میں اے سی لگا ہوتا ہے اچھا کھاتے اور پیتے ہیں بہترین سوسائٹیوں میں رہائش بھی ہے اور پھر بھی خواب برطانیہ جانے کا ہی دیکھتے ہیں۔ میرے قریبی ملنے والے ہیں بینک میں اچھی خاصی ملازمت کر رہے تھے۔ بیوی لیکچرار تھی بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے تھے ایک دن مجھے بتانے لگے کہ میں برطانیہ شفٹ ہو رہا ہوں یہاں مجھے اپنا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے یا میرے بچوں کو اچھا ماحول نہیں مل رہا پڑھ لکھ کر یہاں کون سی نوکری مل جائے گی۔ میں نے ان سے گھر کی آمدنی کا پوچھا تو بولا تقریبا ماہانہ ایک ملین کے قریب ہے میں نے کہا یار یہ تو بہت معقول رقم ہے۔ دو گاڑیاں بھی تمہارے پاس اور عمدہ گھر ہے پھر بھی سب کچھ یوں چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو کہنے لگا وہ تو اللہ کا شکر ہے مگر یہاں سکون نہیں ہے۔ میں نے اسے کہا کہ پردیس ایک کرب ہے یہ کوئی جواز نہیں ہجرت کا مگر ہر دلیل بے اثر کسی ایجنٹ نے اسے بتایا کہ ایک کروڑ 25 لاکھ کا ورک پرمٹ ملے گا تمہاری بیوی کو ہاسپٹل یا کیئر ہوم وغیرہ میں نوکری ملے گی ایک ملین پاکستانی ماہانہ تنخواہ کا پیکج ہوگا۔ اس کی بیوی کا ویزہ لگ گیا پھر باقیوں کا بھی تقریبا دو کروڑ سے اوپر لگ گئے سامان سمیٹا نوکریاں چھوڑی اور برطانیہ پہنچ گئے۔ سب سے پہلے رہائش کا پتہ کیا چند دن کبھی کسی دوست کبھی کسی فلاں رشتہ دار کے گھر سوشل میڈیا پر چمک دمک کی تصاویر اپلوڈ کی تمام نے ماشاء اللہ مبارکباد بہت اچھا فیصلہ آپ کا کامیاب ہوئے اور سب مبارکباد دینے والوں کے دلوں میں حسرت کاش ہم بھی چلے جائیں اگر کوئی خوشحال خاندان ایسے جائے گا تو نیچے والے اور بھی سوچیں گے کہ یہ بھی گیا واپس برطانیہ چلتے ہیں۔ سب سے کم کرائے کا فلیٹ اسے پانچ لاکھ پاکستانی روپوں میں ملا جو تقریباً میں نے سمجھا یہاں انہوں نے اپنے ملازمین کے لیے کوٹھی سے ملحقہ بنایا ہوا تھا گھر کا راشن وغیرہ لیا کچھ سامان تو چیخیں نکل گئیں۔ دو میاں بیوی تین بیٹے ایک بیٹی یہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ 670 پاؤنڈ اس ورک ویزے کو مینٹین رکھنے کے لیے ہر مہینے ریاست آپ سے لے گی۔ یعنی پاکستانی ڈھائی لاکھ ٹیکس دینا ہوگا اور اسی ویزا میں 12 لاکھ روپیہ یہ میڈیکل کا ایڈوانس دے کر آئے ہیں اور وہاں کے ہسپتال آپ کو صرف پیراسیٹامول ہی دیں گے اس سے بدترین کے لوگوں نے اکیلی بچیاں وہاں بھیجی ہوئی ہیں جو بدترین حالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ مطلب زندہ رہنے کے لیے کام کام اور کام ہمارے ایک مشترکہ دوست ہیں میں نے اس سے اس فیملی کے متعلق دریافت کیا کہ کیسے حالات ہیں ان کے ایک سال سے اوپر ہو گیا ہے انہیں برطانیہ گئے ہوئے۔ اس نے بتایا بیوی کو نوکری وہاں تو نہ ملی جہاں بتایا گیا تھا لہذا علیحدہ سے نوکری کر رہی ہے خاوند کے ہاتھ پر ایک گھڑی باندھی ہوئی ہے جو فیکٹری کام کے دوران کمپنی دیتی ہے جس سے آپکے کام کرنے کی حرکت کا وقت ریکارڈ ہوتا ہے۔ مطلب آپ سر بھی کھجا نہیں سکتے۔ آٹھ دس گھنٹے وہ کام کرتا ہے تقریبا دو ہزار پاؤنڈ تنخواہ لیتا ہے جس سے ریاست چار پانچ سو پاؤنڈ ٹیکس کا کاٹ لیتی ہے۔ مہینے میں ایک گھنٹے کے لیے مجھے ملتا ہے جب 59 منٹ ہوتے ہیں تو کھڑا ہو کر نمناک آنکھوں کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ ایک دن ایک ہوٹل میں جانا ہوا وہاں اس کے دونوں بچے کچن میں برتن دھو رہے تھے جنکے مستقبل کے لیے وہ یہاں آیا ایک 18 سال سے اوپر تھا اسے بھی ٹیکس دینا پڑے گا اور جو 18 سال سے نیچے تھا وہ چھپ چھپا کے ٹیکس بچانے کے لیے ساتھ برتن دھو رہا تھا۔ ایک دفعہ جب وہ پاکستان آیا تھا تو جب ابھی وہ فیملی بھی یہاں ہی رہتی تھی وہی بچہ اسے گاڑی پر گھر چھوڑنے گیا چونکہ رات بہت ہو چکی تو باپ نے اسے بھیجا اور آج وہ یہاں برتن دھو رہا ہے کام کرنے میں کوئی حرج نہیں بہت اچھی بات ہے مگر دکھ اس بات کا ہے کہ وہاں ہم کیا کچھ سوچ کر جاتے ہیں۔ اب حساب لگائیں اس فیملی کا ہر فرد جب تک انہیں پاسپورٹ نہیں مل جاتا یہ یونہی ٹیکس بھی دیتی رہے گی اور مشین بھی بنی رہے گی۔ تقریباً اس فیملی کا ایک فرد ٹیکس اور دیگر واجبات کی مد میں برطانیہ کو پاکستانی چھ یا سات کروڑ روپیہ دے چکا ہوگا۔ ان پانچ افراد سے وہ کروڑوں روپیہ نکلوا لیں گے اور پھر یہ اس نظام کا حصہ بنیں گے۔ یہ ساری چمک دمک جدید ترقی اور زر مبادلہ کے ہوشربا ذخائر ان ممالک میں اسی وجہ سے ہیں ایک سراب ہے جس کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں اور حاصل کچھ بھی نہیں اور وہی نسل جس کے لیے ہم یہ سب کچھ کرتے ہیں اسی کلچر کا حصہ بن جاتی ہے۔
برطانیہ جانے کا سراب!