عبید اللہ بیگ : کیا باکمال شخصیت تھے! 230

عبید اللہ بیگ : کیا باکمال شخصیت تھے!

انہیں دنیا سے رخصت ہوئے (13) برس ہو گئے۔ جنہیں اللہ پاک نے ذہانت فطانت اور غیر معمولی یادداشت کی نعمت سے چھپر پھاڑ کر نوازا تھا۔75سالہ زندگی میں مطالعے کا جنون ان پر موسلا دھار بارش کی طرح برستا رہا۔ میں یونیورسٹی کے دور سے بیگ صاحب کا مداح تھا۔ ان سے دوستی کا رشتہ اپنے صحافتی کیرئر میں ہمارے مشترکہ دوست جناب شجاعت علی بیگ اور ان کی اہلیہ محترمہ خوش بخت شجاعت کی رہائش گاہ پر ملاقاتوں سے شروع ہوا۔ لیکن 90کی دہائی میں جب انہوں نے کراچی میں باقاعدہ ایک ممتاز ماحولیاتی ادارے آئی یو این سی میں ملازمت اختیار کی تو پھر تسلسل سے ملاقاتیں ہوتی رہیں جس نے اس تعلق میں بے تکلفی اور اپنائیت کا رنگ شامل کر دیا۔ وہ سچ مچ ایک انمول شخصیت تھے وہ دھیمے لہجے کے مالک اور پیشہ وارانہ مہارت سے مالا مال تھے۔ زندگی بھر ان کا کردار اور شناخت اجلی بھی رہی اور بے داغ بھی۔ کڑوی بات کو بھی شیریں انداز میں بیان کرنے کا فن کوئی ان سے سیکھتا۔ حقائق کو سچ کے پیرائے میں بیان کرنے اور اسی پر اپنی فکری عمارت تعمیر کی۔ سماجی اور معاشرتی حالات پر کھل کر گفتگو کرتے۔ تعریف اور وضاحت میں ہمیشہ اعتماد اور یقین کا عنصر غالب رہتا اس لئے جو بات کہتے اس میں کبھی ابہام کا شکار نہ ہوتے۔ ان کے ساتھ کئی سماجی تقاریب اور اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر طرف ان کے لئے تعظیم اور محبت بکھری ہوتی۔ نوجوانوں کے بے تاب چہروں پر تڑپتے سوالات اور بیگ صاحب کی طرف سے پرسکون انداز میں منطقی جوابات۔ کیا بات تھی اس زمانے میں پی ٹی وی کی شہرت کو عروج پر پہنچانے میں بیگ صاحب کا ایک کلیدی کردار تھا۔ وہ اپنی وضع قطع رویے اور اظہار کے لئے موضوع کے حوالے سے منفرد انداز کے حامل تھے ان کے ناول ایک طویل عرصے تک ان کے اسلوب کی قوت کا احساس دلاتے رہیں گے۔ بہت سارے ایسے لوگ تھے جنہوں نے انہیں فاصلے سے دیکھا اور سنا۔ جن سے بالمشافہ گفتگو نہ ہو سکی میرا خیال ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں ان پر انسان دوستی کا سبق حاوی تھا کہ وہ آخر وقت تک محبتیں اور مسکراہٹیں بکھیرتے رہے وہ باوقار انداز والہانہ پن اور ہمیشہ شگفتہ اور زندہ دل وجود کا احساس دلاتے رہے۔ سچ پوچھیں تو وہ ایک موج علم و فکر تھے جو دنیائے عقل و دانش میں تحلیل ہو گئی۔ میں نے کبھی انہیں دنیاوی تفکرات میں الجھتے نہیں دیکھا۔ پی ٹی وی پر کسوٹی ان کی پہچان ضرور بنا۔ لیکن ان کی تخلیقی صلاحیت اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔ ماحولیات اور جنگلی حیات پر بیگ صاحب نے ایسی شاندار اور معلوماتی ڈاکو منٹریز تیار کیں جو ان کے ویژن ‘ٹیکنیکی سوجھ بوجھ اور پروڈکشن کی اعلیٰ مثال ثابت ہوئیں صحافت سے ایڈورٹائزنگ اور ناولوں کی صورت میں قلم کی جادوگری سے پی ٹی وی کے لئے اچھوتے آئیڈیاز ان کی خداداد صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھے جنہیں کسی ایک مضمون میں نہیں سمویا جا سکتا۔ ایک ایسا شخص جو بہت سے لوگوں کے لئے بہت کچھ تھا وہ سمجھتے تھے کہ کوئی بھی آپ سے اللہ تعالیٰ سے دعا اور محبت کرنے کا حق نہیں چھین سکتا۔ خوش اخلاقی اور منکسر المزاجی ان کے نمایاں اوصاف تھے۔ بیگ صاحب اور سلمیٰ بیگ صاحبہ کی تین بیٹیاں ہیں اور تینوں اپنے والد کی طرح روشن خیال اور زندگی کو اس کے حقیقی روپ میں دیکھنے کی عادی ہیں۔ عبید اللہ بیگ ایک شفیق اور مہربان انسان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فروغ تعلیم کی تحریکوں اور انسانی ہمدردی کے جذبوں کو مدہم نہیں ہونا چاہیے ہر باشعور انسان کو اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیے تاکہ ایک دوسرے سے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ہم ان دائروں کو زیادہ موثر اور وسیع کر سکیں چونکہ یہ ایک کمزور اور ناتواں معاشرہ ہے۔ یہاں مالی اور فکری مشکلات موجود ہیں اس لئے ہم سب کو ایک دوسرے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے پھر ہم اللہ کی برکت اور رحمت پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ عبید اللہ بیگ کا خیال تھا کہ تعلیم کے فروغ اور ترویج پر ہمیں خصوصی توجہ دینی ہو گی۔ ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں طلباء و طالبات سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو مالی طور پر بے پناہ مشکلات کا شکار ہیں ہمیں ضرورتمند ہونہار اور محنتی طلباء پر خصوصی توجہ دینی چاہیے جو مستقبل میں اس قوم کا اثاثہ بنیں گے۔ ایسی بے شمار کہانیاں اور داستانیں بکھری پڑی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی متعدد فلاحی تنظیمیں بڑی گرانقدر خدمات انجام دے رہی ہیں اللہ تعالیٰ نے جن بچوں کو ذہانت اور محنت کی نعمت سے نواز رکھا ہے اور یہ بچے غربت اور وسائل کی کمی کے باعث اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے یہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکالر شپ اور معاونت کی دوسری اسکیمیں جاری کر کے ان مالی رکاوٹوں کو دور کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ان تمام تر مشکلات اور ناہموار حالات کے باوجود میں نے خود ایسے بچوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے جنہوں نے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کیا اور خود کو ایک امتیازی حیثیت میں معاشرہ کے کارآمد اور انسان کہلائے یہ کہانیاں محض کہانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ معجزے ہیں ۔ ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اگر یہ ادارے روشنی کی یہ کرن شامل نہ کرتے تو شاید یہ ذہین بچے کامیابی کا ستارہ بننے کے بجائے حالات کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ایسے بچوں کو آگے بڑھانے کے لئے معاشرے کے جو افراد اور ادارے کام کر رہے ہیں وہ ہر اعتبار سے لائق ستائش ہے ان کا خیال تھا کہ جس طرح ضرورت انسان کو کامیابی کا ایک موقع فراہم کرتی ہے بالکل اسی طرح وہ ہم میں سے ہر ایک کو نیک کرنے کا ایک آدھ موقع دیتی ہے۔ ایک دن میں نے بیگ صاحب سے پوچھا کہ کوئی شخص اپنے شعبے میں عروج اور ناموری کیسے حاصل کر سکتا ہے انہوں نے اپنے دفتر کے شیلف سے نکال کر ایک کتاب مجھے تھما دی۔ جو پولینڈ سے تعلق رکھنے والی مادام کیوری کی کہانی تھی جس نے ریڈیم ایجاد کر کے کینسر کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لئے زندگی کا ایک ایسا پیغام دیا تھا جسے ہم شعاعوں کا علاج کہتے ہیں یہ دنیا کی وہ واحد خاتون تھی جسے زندگی میں دو بار نوبل پرائز ملا۔ جس کی زندگی پر (30) فلمیں بنیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور جس کی وجہ سے آج دنیا بھر میں سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پر سرسے ٹوپی اتار دیتے ہیں۔ اتفاق دیکھئے بیگ صاحب زندگی کے آخری سالوں میں کینسر کے مرض سے نبرد آزما رہے لیکن انہوں نے علاج کے لئے کیمو تھراپی کا سہارا نہیں لیا اور 75برس کی عمر میں اپنے وسیع حلقہ احباب کو اداس اور افسردہ کر کے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بیگ صاحب جیسے انمول انسان کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ فرمائے (آمین)

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز