اس میں کوئی شک نہیں کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور پاکستان کی ترقی کیلئے گیم چینجر ہے جس کے مختلف منصوبے پاور جنریشن، انفرااسٹرکچر ،گوادر پورٹ اور اسپیشل اکنامک زونز تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان منصوبوں میں مجھے سب سے زیادہ انتظار اسپیشل اکنامک زونز کے قیام کا تھا کیونکہ اس منصوبے سے ہمیں ملک میں صنعتکاری، صنعتوں کی منتقلی، نئی ملازمتوں کے مواقع اور ایکسپورٹ جیسے اہم اہداف حاصل ہوں گے۔ دنیا میں اسپیشل اکنامک زونز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کا تجربہ نہایت کامیاب رہا ہے جس میں خصوصی جغرافیائی نوعیت کے خطے کو صنعتکاری اور ایکسپورٹ کیلئے ون ونڈو آپریشن کے ذریعے جدید انفراسٹرکچر اور سہولتوں کے ساتھ ڈویلپ کیا جاتا ہے۔ زون میں بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے بجلی، گیس، پانی، مسابقتی نرخوں پر CETP پلانٹ کی سہولتیں اور ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ دی جاتی ہے تاکہ صنعتکار اور ایکسپورٹرز عالمی معیار کی مصنوعات مسابقتی نرخوں پر بناکر ایکسپورٹ کرسکیں۔ اس وقت دنیا کے 150ممالک میں 5400اسپیشل اکنامک زونز کام کررہے ہیں جس میں کمبوڈیا، بنگلہ دیش، فلپائن، بھارت، افریقی ممالک مراکو، کینیا اور گھانا کے SEZs قابل ذکر ہیں۔ مراکو کے تنجیر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی ایکسپورٹ 20ارب ڈالر سالانہ ہے جس میں زیادہ تر گاڑیوں کی فرانس اور دیگر یورپی ممالک کوایکسپورٹ شامل ہے۔ مجھے کینیا میں نیروبی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون جانے کا اتفاق ہوا جہاں بے شمار صنعتیں ٹیکسٹائل مصنوعات امریکہ کو ڈیوٹی فری برآمد کررہی ہیں۔
پاکستان میں 2016میں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت9اسپیشل اکنامک زونز قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس میں ہر صوبے میں 2اور گلگت بلتستان میں ایک SEZ شامل ہے۔ ان زونز میں سے 4اکنامک زونز میں کام شروع ہوچکا ہے جس میں سندھ میں ٹھٹھہ میں 1530ایکڑ پر محیط دھابیجی اسپیشل اکنامک زون شامل ہے جس میں فیز 1کیلئے 750ایکڑ اور فیز 2 کیلئے 780 ایکڑ زمین مختص کی گئی ہے اور یہ زون پورٹ قاسم سے صرف 8کلومیٹر، کراچی ایئرپورٹ سے 30کلومیٹر اور نیشنل ہائی وے سے نہایت قریب ہے۔ اس منصوبے کی ماسٹر پلاننگ اور فزیبلٹی رپورٹ بن چکی ہے اور حال ہی میں وفاقی حکومت نے اسے مکمل SEZ کا درجہ دیا ہے جس کی رو سے سرمایہ کاروں کو 10سال کیلئے ٹیکس کی چھوٹ اور پلانٹ مشینری کی ڈیوٹی فری امپورٹ کی سہولت حاصل ہوگی۔
قارئین! ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اور اسپیشل اکنامک زون میں فرق یہ ہے کہ EPZ میں صرف ایکسپورٹ کرنے والی صنعتیں قائم کی جاتی ہیں جبکہ SEZ میں مختلف نوعیت کی صنعتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔ گزشتہ دنوں دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے رکھاجس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، مشیر سرمایہ کاری سندھ قاسم نوید قمر، صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چین کے قونصل جنرل اور بزنس کمیونٹی کے ممتاز لیڈرزبھی موجود تھے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ دھابیجی اکنامک زون میں ڈیڑھ لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ پاکستان میں پیپلزپارٹی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ماڈل متعارف کرایا تھا جس میں حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر مختلف منصوبے مکمل کرتے ہیں اس کی کامیاب مثال تھرکول پروجیکٹس ہیں۔ بلاول بھٹو نے دھابیجی زون کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ڈویلپ کرنے کو حکومت سندھ کا ایک کامیاب ماڈل قرار دیا ہے جس نے صوبہ سندھ کو دنیا میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ رینکنگ میں چھٹے نمبر پر پہنچا دیا ہے جو پاکستان کے دیگر شہروں کیلئے رول ماڈل ہے ۔ مشیر سرمایہ کاری سندھ قاسم نوید قمر اور سندھ اکنامک زون مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدل عازم اوکیلی نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت 750ایکڑ پر مشتمل فیز1 ڈویلپ کررہے ہیں جس پر 18مہینے میں 100ملین ڈالر کی لاگت آئے گی۔ دھابیجی اکنامک زون کی ڈویلپمنٹ کا ٹھیکہ نیلامی کے ذریعے مقامی کمپنی ZKB ڈویلپر کو دیا گیا ہے جنہوں نے ملک میں کئی بڑے پروجیکٹس کامیابی سے مکمل کئے ہیں۔ کمپنی کے چیئرمین مہابت خان نے بتایا کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں زمین کی الاٹمنٹ سے پہلے بجلی، گیس، پانی اور اعلیٰ معیار کا انفرااسٹرکچر فراہم کیا جائے گا اور منصوبے کی تکمیل کے بعد کمپنی زون کے آپریشن اور مینٹی نینس کی بھی ذمہ دار ہوگی۔ دھابیجی زون کو پورٹ قاسم سے ملانے کیلئے براہ راست 8کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کی جارہی ہے جس کی بنیاد پر زون میں تیار کی گئی اشیاء پورٹ قاسم سے براہ راست ایکسپورٹ کی جاسکیں گی۔
میں نے اپنے گزشتہ کالموں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں انہیں بتایا ہے کہ کراچی میں نئی صنعتیں نہ لگنے کی بڑی وجہ صنعتی پلاٹوں کی عدم دستیابی اور نہایت مہنگا ہونا ہے۔ سائٹ اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں صنعتی پلاٹوں کی قیمت 25سے 30کروڑ روپے فی ایکڑ تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی درمیانے درجے کی صنعت لگانے کیلئے زمین کیلئے اربوں روپے چاہئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کراچی میں نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں۔ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کی کامیابی کا دارومدار سستے صنعتی پلاٹس، بجلی، گیس ، پانی، ون ونڈو آپریشن اور معیاری سہولتوں پر ہوگا۔ میں دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھنےپر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ اور حکومت سندھ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔