عدم برداشت کیسے ختم ہو ؟ 240

عدم برداشت کیسے ختم ہو ؟

دنیا بھر میں ہر سال برداشت کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر برداشت پیدا ھونے کی بجائے ختم ھوتی جا رہی ہے ، بلکہ عدم برداشت اتنی بڑھ چکی کہ معاشروں کو نگلتی جا رہی ہے ،گاؤں گوٹ جو امن و رواداری کا مرقع ھوا کرتے تھے وہ بھی تنازعات اور تفرقات کا شکار ہو رہے ہیں، کہتے ہیں کہ مکہ میں قبل از اسلام یہ حالت تھی کہ آگر ایک شخص کی گائے دوسرے کی فصل میں گھس جائے اس پر ایسا جھگڑا شروع ھوتا کہ جنگ چالیس چالیس سال تک جاری رہتی ، اسی کو سب سے بڑی جہالت کہا گیا جس کو ختم کرکے دین اسلام نے علم کے ذریعے انقلاب لایا ، مگر آج علم کے باوجود عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ 
سب سے بڑا قصور اہل علم و دانش کا ھے جنہوں نے مکالمے کو فروغ دینے کی بجائے سطحی اختلافات کو صرف اس لیے جنم دیا تاکہ وہ مادی اور دنیاوی مفادات سمیٹ سکیں ، اس میں سب سے بڑا حصہ مذھبی طبقات نے ڈالا وہ مسلم ھوں ، عیسائی یا یہودی سب نے طاقت ، دولت اور ذاتی مفادات کی خاطر علم برائے گروہ بندی کو فروغ دیا ، بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ اس کو جہالت کے پیروکار وں کے ھاتھوں فروخت کر دیا ، عیسائی ، عیسائی سے الجھ پڑا ، مسلم ، مسلمان سے باہم گتھم گتھا ہو گیا اور یوں یہ اختلافات اور تنازعات سیاست میں داخل ہوگئے ، اسی سے حکومت اور معاشرے میں پھیلتے پھیلتے جنگوں ، فسادات اور تنازعات میں الجھ گئے ، وقت کے ساتھ ساتھ غیر مسلم قوموں نے سیکھا ہے اور علم و دانش کو مکالمے اور برداشت کی طرف موڑ دیا جس کے باعث مسلمانوں کی نسبت برادشت زیادہ ہے اگرچیکہ کچھ ممالک دوسری انتہا پر پہنچ گئے مگر وہ اقدار تو بگاڑ سکتے ہیں امن کو نہیں ، اور کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لیے امن بنیادی ضرورت ہے ،
آج ھم دیکھیں تو معمولی سے تنازعات قتل و غارتگری تک پہنچ جاتے ہیں ، خاندان ، یہاں تک کہ ایک گھر میں اختلاف رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا ، بنیادی طور پر معاشرہ جب شروع سے دبا دیا گیا ھو تو جیسے ہی اس کو ذرا سی آزادی ملی اسے دوسرے کو دبانے کی تربیت گھر سے ملی تھی سو وہ اس کی آزادی میں تنازعات کی وجہ بن گئی ، اس آزادی کا اس نے تنازعات کو ھوا دے کر اعلان کیا ، معاشرے کے پڑھے لکھے افراد ، اساتذہ اور والدین ایک فرد کو اختلاف رائے رکھنے اور برداشت کرنے کا سبق دیتے اور مکالمے کی فضا پیدا کرتے تو وہ اپنی بات کی اہمیت کے لیے دلیل تلاش کرتا ، اس نے تو بس حکم اور برتری سیکھی تھی چاہے وہ پڑھا لکھا ھی کیوں نہ اس نے اس کو نافذ کرنا ھی اپنی بقا کے لیے ضروری سمجھا مسلم معاشرے میں کم تعلیم یافتہ اور مخصوص نظریات رکھنے والے علماء نے علم ، ادب اور اخلاق کے معنی ہی بدل دئیے ، ایک بڑے بندے کے آگے چپ رہنا ، سوال نہ کرنا ، من و عن مان لینا ادب کہلایا اور بولنے ، سوال کرنے اور اختلاف رائے رکھنے کو بغاوت ، گستاخی اور بے ادبی قرار دیا گیا یہی ھمارے معاشرے کا قانون بن گیا ، 
آج یہ قانون مسلم معاشرے کا خصوصاً اور بین الاقوامی دنیا کا بالعموم حصہ بن گیا ، "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" اسی سے جنم لینے والا قانون جدید دنیا میں راسخ کر گیا ، بات کو دلیل اور ثبوت کے ساتھ بیان کرنے کا اصول دم توڑ چکا ، ایسے میں برادشت کیسے پیدا ھو ؟
برداشت پیدا کرنے کا پہلا اصول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات مدینہ میں عملی طور پر دیا ، یہود ونصاریٰ سے گفتگو ، معاہدات اور پیغام اسلام کا اصول اخلاق ، دلیل اور ثبوت پر رکھا ، فتح مکہ ھو یا خطبہ حجتہ الوداع ، جنگ ھو کہ امن انسانیت ، دلیل ، اخلاق اور سچائی کو برتری حاصل رہی ، مگر آج کے علماء ، اساتذہ ، نشریاتی ادارے اور سماجی طبقات یہ کر رہے ہیں جواب نفی میں ھے ، سب سے بڑی ذمہ داری انہی طبقات کے ذمے ہے دوسری سطح پر والدین کا اپنے بچوں سے رویہ ، اہل علم کا رویہ اور مکالمے کا فروغ جدید دنیا کو مدنظر رکھ کر دیا جائے ، ناانصافی اور فرسٹریشن کے خاتمے کے لئے اخلاق اور گفتگو کو موقع دیا جائے برداشت پیدا ھو گی اور عالمی معاشرہ امن و ترقی کا گہوارہ بن سکے گا ،

بشکریہ اردو کالمز