قارئین آج ہم دنیا کے ایک ایسے علاقے کا ذکر کر رہے ہیں جس کو روسی لوگ رشین گودام کہتے ہیں اور دنیا اسے سرد ترین اور برف سے ڈھکے پہاڑی علاقے کے نام سے جانتی ہے جہاں کی سرزمین ہمیشہ منجمد رہتی ہے اور سورج کئ کئ دن نہیں نکلتا درجہ حرارت سال کے چھ ماہ منفی ڈگری رہتا ہے باقی چھ ماہ معتدل اس علاقے کی سرحدیں کئ ممالک سے ملتی ہیں -
یہ علاقہ روس کا ایک خوبصورت ,برف سے ڈھکے پہاڑوں پر مشتمل وسیع و عریض علاقہ ہے جو یُورال پہاڑی سلسلے سے شروع ہوکر بحرالکاہل تک پھیلا ہوا ہے۔ سائبریا کے شمال میں بحر منجمد شمالی اور جنوب میں آلتائی کے پہاڑوں اور دریائے آموُر تک پیھلا ہوا ہے -
سائبریا کا اکثر حصہ روس کی سرزمین میں آتا ہے سائبیریا کا رقبہ چین اور برازيل کے رقبہ کے ڈیڑھ گنا کے برابر ہے۔
سائبریا کا علاقہ دنیا کے سرد ترین علاقوں میں سے ایک ہے اس علاقے کو بے جان اور ویران علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
سائبریا کی آب و ہوا کافی سرد ہےاور موسم سرما میں درجہ حرارت صفر سے نیچے منفی پچاس ڈگری ٹمپریچر کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ سائبریا کے بڑے حصہ کی مٹی ہمیشہ منجمد رہتی ہے۔ لیکن سائبریا کے ان برفیلے علاقوں میں انسانی بستیاں اور شہر قائم ہیں۔ سائبیریا میں عمارتوں کو ستونوں پر تعمیر کیا جاتا ہے تاکہ عمارت کی گرمی کے باعث برف پگھل جانے کی صورت میں عمارت کی بنیاد میں شگاف نہ پڑ جائیں۔
مکانات کی دیواریں معمول کی نسبت زیادہ چوڑی ہیں اور کھڑکیوں میں شیشے تین تہوں کی شکل میں لگائے جاتے ہیں۔ سائبریا کے جنوبی علاقوں کی آب و ہوا کچھ مناسب ہے- ماسکو کی آب و ہوا کی طرح ہے، حالانکہ یہاں موسم گرما تو زیادہ مختصر ہوتا ہے۔
تاہم سخت موسمیاتی حالات کے باوجود سائبیریا میں کاشت کاری کامیابی سے کی جاتی ہے۔ آب و ہوا کو مد نظر رکھتے ہوئے روسی سائنسدانوں نے نئی قسم کی گندم اور موسمی سبزیاں آلو وغیرہ اگائے جاتے ہیں جو مختصر گرمیوں میں تیار ہو سکتی ہیں۔ موسموں کی شدت کے باعث سائبریا کے جنوبی علاقوں میں کاشت کاری کی جا رہی ہے جبکہ اکثر لوگ مویشی جانور بھی پالتے ہیں سائبریا میں بارہ سنگھے، گھوڑے اور مونٹینیاک پالے جاتے ہیں۔
سائبریا اپنے قدرتی وسائل کے لیے مشہور ہے۔ بالخصوص یہ تائگا نامی جنگلات جو دنیا کے جنگلات کا ایک انمول حصہ ہے۔ تائگا جنگلات کا ایک تہائی حصہ بھی انسانوں کی سرگرمیوں سے ابھی تک متاثر نہیں ہوا۔
ان جنگلات کو کرۂ ارض کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔ سائبریا کا تائگا دریائے ایمیزون کی وادی کے جنگلات کے مقابلہ میں دگنی زیادہ کاربن ڈائی اکسائڈ جذب کرتا ہے۔
روسی لوگ سائبریا کو اپنا قدرتی گودام کہتے ہیں کیونکہ وہاں گیس، تیل، سونے، ہیروں وغیرہ کے بڑے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ 75 فی صد روسی تیل، 90 فی صد گیس، 90 فی صد سونا اور تقریباً ایک سو فی صد ہیرے سائبیریا میں ہی پائے جاتے ہیں- سائبریا کے تیز رو دریاؤں پر تعمیر کردہ پن بجلی گھروں میں روس کی 25 فی صد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سائبریا کے تمام قدرتی وسائل کا ابھی تک مکمل سروے نہیں کیا گیا۔ مزید کئی ذخائر تلاش کئے جانے کا امکان ابھی باقی ہے-
سائبریا کے ذخائر کو زیر استعمال لانے کے لیے تجربہ کار ماہرین اور جدید ترین ساز و سامان کی ضرورت ہے- سائبریا میں شاہ راہیں اور ریل وے لائینیں ہیں اور کوئی دو سو شہر آباد ہیں- شہر اومسک، کراسنویارسک، نووسبیرسک، یاکوُتسک، ماگادان ان میں سب سے بڑے ہیں۔
زندگی کے سخت حالات کے سبب مقامی باشندوں کی طبیعت کی خصوصی صفات منفرد ہیں - روسی انہیں سائبیریا مزاج کہتے ہیں۔ سائبیریا کے رہنے والے تندرست، مستقل مزاج، ہم درد اور ملنسار لوگ ہیں۔ جنم دن یا سال نو کے موقع پر مبارک باد دیتے ہوئے ایک دوسرے کو زندگی کی مکمل تندرستی اور تمناؤں کی تکمیل کی دعائیں دیتے ہیں۔
433