دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو 193

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

ہمارے ہاں تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے ۔غلطیوں کی اصلاح کرنے کے بجائے انہیں دہرائے چلے جاتے ہیں۔ آپ سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے والے بحران کا بغور مطالعہ کریں اور پھر موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے عہد میں درپیش حالات کا جائزہ لیں تو یوں محسوس ہوگاجیسے 27سال پرانی فلم ایک بار پھر ریلیز کردی گئی ہے۔ کردار،مکالمے،موسیقی،لوکیشنز اور یہاں تک کہ بیک گرائونڈ میوزک میںبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔جس طرح موجودہ بحران نے عدلیہ کی انتظامی معاملات میں مداخلت کی کوکھ سے جنم لیا ،اسی طرح جسٹس سجادعلی شاہ نے مسیحا اور نجات دہندہ بننے کی کوشش میں عدالتی دائرہ کار کو بہت وسعت دے دی تھی۔ بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف دیگر جج صاحبان کی بغاوت کاآغاز نوازشریف کے دور میں ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ لاوا برسہا برس سے دہک رہا تھا۔جب بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو تب ہی یہ سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ خیبرپختونخوا تب صوبہ سرحد کہلاتا تھا وہاںمسلم لیگ (ن)اور اے این پی کی اتحادی حکومت میں پیر صابر شاہ وزیراعلیٰ تھے۔پیپلز پارٹی سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے وہاں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی تھی مگر پیر صابر شاہ کو راستے سے ہٹائے بغیر تبدیلی لانا ممکن نہ تھا، اسلئے صدر فاروق لغاری نے 25فروری 1994کو آئین کے آرٹیکل 234کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نہ صرف گورنر راج نافذ کردیا بلکہ وزیراعلیٰ صابر شاہ اور ان کی کابینہ کی بھی چھٹی کروادی گئی۔ پیر صابر شاہ نے اس صدارتی حکم نامے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کی حکومت برطرف کرنے کا اقدام بدنیتی پر مبنی ہے کیوں کہ جب گورنر راج لگایا گیا توانہیں ایوان میں اکثریت حاصل تھی۔ آئین کے آرٹیکل 234کے تحت صدر مملکت کو وزیراعلیٰ یا کابینہ کو برطرف کرنے کا کوئی اختیار نہیںاور اس اقدام کا واحد مقصد آئینی طور پر قائم صوبائی حکومت کاتختہ الٹنا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس سعد سعود جان نے سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں 9رُکنی بنچ تشکیل دیدیا۔ سپریم کورٹ نے 21اپریل1994ء کو اکثریتی فیصلے میں اس درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کو اس حد تک کالعدم قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 234کے تحت صدر مملکت کو وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کو برطرف کرنے کا اختیار نہیں اور ایسا کرکے انہوں نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دو ماہ کی مدت ختم ہوگی تو وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ اپنے عہدوں پر بحال ہو جائیں گے اور گورنر اپنے آئینی کردار کے تحت وزیراعلیٰ کواسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے کہیں گے۔اکثریتی فیصلہ جسٹس اجمل میاں نے تحریر کیا جب کہ جسٹس سعد سعود جان اور جسٹس سجاد علی شاہ نے اختلافی نوٹ لکھا ۔جسٹس سعد سعود جان کا خیال تھا کہ ابھی ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دو ماہ کی مدت پوری نہیں ہوئی جب کہ جسٹس سجاد علی شاہ کے مطابق صدارتی اقدام درست تھا اور یہ پٹیشن قابل سماعت نہ تھی۔

پیر صابرشاہ عدالتی جنگ جیتنے کے باوجود وزیراعلیٰ کے منصب پر برقرار نہ رہ سکے کیونکہ دو باغی ارکان پارلیمنٹ شاد محمد اور اختر حسین شاہ نے اعتماد کا ووٹ نہ دیا۔ پیر صابر شاہ نے اپنے باغی ارکان اسمبلی کوپولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت نااہل قرار دینے کیلئے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا ۔الیکشن کمیشن نے ایک کے مقابلے میں دو کی اکثریت سے یہ ریفرنس مسترد کردیا ۔جسٹس بشیر جہانگیری اور جسٹس شیخ ریاض دونوں نے قرار دیا کہ باغی ارکان فلورکراسنگ کے مرتکب نہیں ہوئے مگر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)نعیم الدین نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ یہ دونوں ارکان اسمبلی پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دے کربطور رکن اسمبلی نااہل ہو چکے ہیں۔پیر صابر شاہ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو ایک ایسی فیصلہ کن عدالتی جنگ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں قائم مقام چیف جسٹس سعد سعود جان ناک آئوٹ ہو گئے۔ جسٹس سعد سعود جان نے پیر صابر شاہ کی اپیل پر سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں بنچ تشکیل دیا اور اس بنچ نے مئی 1994ء کے تیسرے ہفتے میں اس پٹیشن کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے 9جون1994ء کو اسلام آباد میں باقاعدہ سماعت کی تاریخ مقرر کردی۔جسٹس اجمل میاں جو اس بنچ کا حصہ تھے اور بعد ازاں چیف جسٹس بنے وہ اپنی کتاب ’’A Judge speaks out‘‘میں لکھتے ہیں کہ میں نے قائم مقام چیف جسٹس سے اس کیس کے اثرات سے متعلق غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا کہ چونکہ یہ بہت اہم مقدمہ ہے اسلئے ممکن ہے کہ وفاقی حکومت کیس کی سماعت کیلئے مقرر کی گئی تاریخ سے پہلے کوئی سرپرائز دے۔اور پھر سرپرائز کی گھڑی آگئی۔صابر شاہ کیس کی سماعت9جون کو ہونا تھی مگر5جون 1994ء کی دوپہر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کر رہے جسٹس سجاد علی شاہ کو ایک چٹ موصول ہوئی جس پر لکھا تھا کہ وفاقی سیکرٹری قانون فوری طور پر بات کرنا چاہتے ہیں ،جسٹس سجاد علی شاہ چیمبر میں آئے تو سیکرٹری قانون جسٹس شیخ ریاض احمد لائن پر تھے ۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز