غزہ: تہذیبیں مائل بہ خودکشی؟ اور پاکستان 182

غزہ: تہذیبیں مائل بہ خودکشی؟ اور پاکستان

انسانی تہذیبی ارتقا کی تاریخ میں ایک سنگ میل (TURNING POINT) ایسا بھی آیا جس میں حقیقی امن عالم کا قیام اور پائیداری ممکن ہوگئی تھی۔ یہ کمیونزم کی شاہکار سلطنت سوویت یونین کی تحلیل کا عمل تھا، جس کے نتیجے میں سنٹرل ایشیا کی محبوس ریاستیں روسی جبر کی کشور کشائی سے آزاد ہوئیں اور پورا مشرقی یورپ وارسا پیکٹ کے عوام مخالف معاہدے کی جابرانہ جکڑ سے آزاد ہوا۔ دیوار برلن کا انہدام اس کی بڑی سبق آموز علامت بنا۔ اس پیراڈائم شفٹ کی اصل اور بڑی وجہ افغانستان میں سوویت جارحیت کے بعد 11سالہ روسی عسکری قبضہ تھا، جس کیخلاف افغانستان میں روسی افواج کے حملے کے فوری ردعمل میں 9افغان تنظیموں کے مجاہدین کے اتحاد کا اعلان جہاد تھا۔ واضح رہے یہ نتیجہ خیز افغان اینی شیٹو مکمل مقامی اور عالمی ردعمل آنے سے بھی پہلے اپنی مکمل خالص شکل میں آشکارہوا۔ دوسرا اہم ترین ردعمل پاکستان کا تھا، یہ بھی امریکی چار نکاتی ردعمل آنے سے پہلےضیائی مارشل لا حکومت کا تھا جس کا لب لباب تین نکاتی تھا، افغان مجاہدین کی حمایت، سوویت جارحیت کی کھلی مذمت اور پاکستان کو درپیش سلامتی کا بڑا خطرہ کہ حقیقتاً صورتحال یہ ہی تھی کہ کمیونزم کی یلغار پاک افغان سرحد پر بڑی برہمی سے پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔

نئی نسل کیلئے ذہن نشیں کرنے کا اہم ترین حوالہ (مکمل ثابت شدہ) یہ ہے کہ افغانستان پر سوویت جارحیت کا انتہائی برجستگی سے آیا افغانستان کا ردعمل کسی بیرونی اثر و دبائو سے آزاد (فری) خالصتاً مقامی اور فوری تھا۔ دوسرا اہم حوالہ جوبوجہ ذہن میں پاکستانی نئی اور آنیوالی نسل کے ذہن نشین رہنا ناگزیر یہ ہے کہ دسمبر 1979ء میں جب پورا مغرب کرسمس کی چھٹیوں سے روایتی لطف اندوزی کی کیفیت میں تھا افغانستان پر سوویت مسلح لشکرکشی کے پس منظر میں سوویت یونین کے بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اس کی ’’گرم پانیوں تک آسان پہنچ‘‘ (WARM WATER THEORY) عالم خارجی امور میں شہرہ آفاق تھی جو اصل میں نیٹو کے قیام اور وارسا پیکٹ کے شدید منفی منطقی نتیجے (سینٹرل ایشیا اور مشرقی یورپ کی غلامی) کی شکل میں سوویت یونین کی لانگ ٹرم حکمت عملی (اسٹرٹیجی) برائے وسعت پذیری تھی۔ سائوتھ ویسٹ ایشیا (افغانستان، پاکستان اور ایران) کے حساس ترین خطے میں پیدا ہونیوالی اس صورتحال میں امریکن اینگلو بلاک کے عالمی سیاست کے حوالے سے اہم ترین مفادات (سوویت توسیع پسندی کو محدود رکھنے کے) جہادی افغان مجاہدین کے آزادی اور ان کی بین الاقوامی معاونت کے بن گئے بیس کیمپ پاکستان کے حساس مفادات کے ساتھ بڑی گہرائی اور طویل عرصے (سوویت انخلا تک) کیلئے گڈ مڈ ہوگئے۔ دنیا اور پاکستان میں بھی ایک طبقے کے لئے اپنے محدود نظریے سے پختہ ہوئی رجعت پسندی اور مسلمانوں سے تاریخی متعصبانہ رویے کے باعث ماننا منوانا تو آسان نہیں لیکن تاریخ کی زندہ و جاوید حقیقت یہ ہی ہے جسے خصوصاً پاکستان اور افغانستان کی موجود اور آنے والی نسلوں نے محفوظ رکھنا اور اگلی نسلوں کے حوالے کرنا ہے، یہ کہ ’’مقامی جہاد و موقف سے تشکیل پائے افغان جہاد اور اس کی تائید کے پاکستانی موقف کو مقامی اور انفرادی (اثر سے پاک خالصتاً ریاستی) پاکستانی موقف کو بین الاقوامیت کے رنگ میں رنگ دیا، بھارت کی سب سے بڑی جمہوریہ جدید تاریخ کے اس اہم مرحلے میں روس کی جانب جھکائو رکھتے رکھتے غیر جانبدار ہوگئی، سوویت اثر کے ممالک جبری کیفیت میں ممکنہ حد تک خاموش رہے۔ اسلامی دنیا اکثریت کی سرگرمی سے افغان جہاد اور اس کی بطور سب سے عملی سرگرم (بشکل پاکستانی بیس کیمپ) اور مہاجرین کی محفوظ سرزمین کے امریکن اینگلو بلاک اور اس کے زیر اثر تمام ہی ممالک کے ساتھ یکجا اور سرگرم ہوگئی‘‘۔

پاکستان کے لئے بڑا علمی اور دانشوری کا چیلنج یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم خود اپنے اور عالمی امن و استحکام کے مفادات کے پیش نظر اس تاریخ کو اگلی بنتی تاریخ کے اسباق میں اپنی حقیقی شکل میں زندہ و محفوظ رکھیں کہ یہ افغان جہاد کی برکات و ثمرات ہی تھیں کہ پاکستان و افغانستان کے تاریخ ساز، فوری اور خالصتاً انفرادی ردعمل کے نتیجے میں سوویت یونین کی جارحیت کے خلاف عالمی برادری کے بڑے حصے کی بھرپور تائید و عملی حمایت (خواہ یہ عالمی خصوصاً امریکن، اینگلو بلاک کے وسیع تر مفادات سے ہی ملی) سے پورے سنٹرل ایشیا کی مسلم ریاستیں، وارسا پیکٹ کی اذیت ناک جکڑ بندی میں دو اڑھائی عشرے سے سوویت یونین کی گرفت میں آیا مشرقی یورپ اور منقسم جرمنی کا ایک حصہ آزاد ہوئے، جرمنی متحد ہوا۔ بالٹیک ریجن کی تین ریاستیں اور جارجیا آزاد مملکت بنیں، سکنڈے نیویائی جغرافیائی قربت ہونے کے باعث ان پر کسی اچانک بدلی صورت میں ناروے، فن لینڈ، سویڈن اور ڈنمارک پر ہر دم موجود سوویت دبدبے اور سرد جنگ کا عذاب ختم ہوا۔ آزاد منش افغانستان اگر چہ خانہ جنگی میں دھکیل دیا گیا اور خود بھی چلا گیا لیکن انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں سے گیارہ سال کے لئے افغانستان کے دوبارہ نیٹو کے مقبوضہ ہونے پر اسے اک بار پھر موقع ملا کہ وہ حتمی ثابت کردے کہ وہ کتنا آزاد منش اور اس کو قائم رکھنے کا دم رکھتا ہے۔ پاکستان بعض مہلک اطرافی اثرات سے متاثر ہونے کے باوجود ، بنے سازگار ماحول کا فائدہ اٹھا کر اپنی مرضی و منشا کے عین مطابق ایٹمی طاقت بنا، ہماری عسکری قوت میں جدت آئی، دنیا میں پاکستان عالمی سیاست کا بڑا اور کامیاب چیمپئن بن کر ابھرا۔ الگ ہے کہ فالو اپ میں ایک تباہ کن اولیگارکی (مافیا راج)کیسے پاکستان میں تشکیل ہوا۔

قارئین کرام! زیر بحث موضوع حالات حاضرہ اور پاکستان کی موجود حالت میں ابتر غزہ سے نکلا موضوع ہے۔ غزہ مسلم دنیا اور مڈل ایسٹ کا 9/11 بن گیا ہے، یہ بھی عالمی سیاست کو نیویارک کے 9/11 کی طرح ہی بلند درجے پر متاثر کرے گا، غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور عورتوں اور بچوں کے قتال و خون سے جو پیراڈائم شفٹ ہو رہا ہے وہ ’’آئین نو‘‘ کےزیر نظر موضوع پاکستان کے خصوصی حوالے سے اسی کا عکاس ہے۔ (جاری ہے) 

بشکریہ جنگ نیوزکالم