حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا عشق رسول اور احترام نبویﷺ (23) 1333

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا عشق رسول اور احترام نبویﷺ (23)

 

(1) عشق رسولﷺ

رسالت مآبﷺ نے جب دعوت حق کا آغاز فرمایا، تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سب سے آگے بڑھ کر اس پر لبیک کہا۔ جب نبوت کے چوتھے سال دعوت عام کا حکم خداوندی نازل ہوا، تو مشرکین کے قہر و غضب کا آتش فشاں پوری شدت سے پھٹ پڑا۔ مشرکین نے اہل حق کو لزرہ خیز مظالم کا نشانہ بنایا، جن میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ بھی شامل تھے۔ 

سرور عالمﷺ نے جب شب معراج کی صبح کو کفار کے سامنے واقعہ معراج بیان فرمایا، تو انہوں نے اسکا مذاق اڑایا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ باہر تھے۔ ابوجہل نے ان سے جا کر کہا، کہ تمہارے دوست اس قسم کی ناقابل یقین باتیں کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بلا تامل جواب دیا:

" نبی کریمﷺ نے سچ فرمایا، اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں"

سفر ہجرت میں آپ کو اپنے آقا و مولا کی رفاقت کا وہ مہتم بالشان شرف حاصل ہوا، کہ بارگاہ الہی کی طرف سے "ثانی الثنین" کے لازوال اور بے مثال لقب سے نوازے گئے۔ اس موقع پر حضور اکرمﷺ کی رفاقت کوئی آسان کام نہیں تھا، بلکہ اپنی جان پر کھیلنا تھا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے سفر ہجرت میں جس طرح نبی اکرمﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی، وہ بھی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ 

صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کے سفیر عروہ بن مسعود نے نبی کریمﷺ  سے مخاطب ہو کر کہا؛ کہ اے محمد(ﷺ) یہ جو تمہارے ارد گرد بھیڑ ہے، اگر تم پر کوئی نازک وقت آیا، تو تمہاری حمایت کا دم بھرنے والے آناً فاناً چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ پاس حضرت ابو بکر صدیق ؓ کھڑے تھے، سراپہ جلال ہو کر کہا؛ کہ ہم اور رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ جا اپنا کام کر۔ اور خوب ان کی کلاس لی۔

اسی طرح نبی کریمﷺ کے وصال فرمانے کے بعد حضرت اسامہ بن زید ؓ کے لشکر کی روانگی کا مسئلہ بنا، کیونکہ اس وقت تمام عرب میں ارتداد کا فتنہ کھڑا ہو گیا تھا۔ تب کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چاہتے تھے، اس مہم کی روانگی ملتوی کر دی جائے، تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا:

" قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں ابوبکر صدیق ؓ کی جان ہے، اگر مجھے جنگل کے درندے اٹھا کر لے جائیں، تب بھی میں جیش اسامہ کو روانہ کر کے رہوں گا، کیونکہ اسے خود نبی کریمﷺ نے روانہ ہونے کا حکم دیا تھا۔ اگر مدینہ میں میرے سوا کوئی بھی متنفس باقی نہ رہے، تو بھی حضور اکرمﷺ کے حکم کی تعمیل ہو کر رہے گی۔

(2) ادب و احترام نبویﷺ

حضرت ابو بکر صدیق ؓ نبی کریمﷺ سے بے پناہ محبت اور عقیدت کے بنا پر جس قدر ادب و احترام کرتے تھے، وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔ ہمیشہ دھیمی آواز میں گفتگو کرتے تھے، اور بات بات میں کہتے تھے؛ " اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“

سفر میں حضور اکرمﷺ کے ہمرکاب ہوتے، تو آپ کے آرام و راحت کا خیال رکھتے، اور آپ استراحت فرما ہوتے، تو آپ کو سوتے سے جگاتے نہ تھے، جب تک کہ

رسالت مآبﷺ خود نیند سے بیدار نہ ہو جاتے۔

سفر ہجرت میں ایک مقام پر حضور اکرمﷺ کو سوتا چھوڑ کر دودھ کی تلاش میں نکلے، جب واپس ہوئے، تو خود بیان فرماتے ہیں، کہ میں نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ 

سفر ہجرت کے واقعہ میں قباء آتے ہوئے، جب حضور اکرمﷺ پر دھوپ پڑنے لگی، تو آپ کو دھوپ سے بچانے کے لیے چادر تان کر کھڑے ہو گئے۔ 

یہ چند مثالیں پیش کی ہیں، ورنہ تاریخ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے جزبہ عشق رسولﷺ  اور احترام

نبویﷺ سے بھری پڑی ہے۔ اللہ تعالی حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر اپنی شایان شان رحمتیں نازل فرمائے۔

بشکریہ اردو کالمز