حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اولادیں اور ان کا مختصر تعارف (22) 3803

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اولادیں اور ان کا مختصر تعارف (22)


حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی اولادیں چھ تھیں، جن میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں شامل تھیں۔

(1) حضرت عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما:

آپ سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ آپ قتیلہ بن عبدالعزی کے بطن سے پیدا ہوئے، اور حضرت اسماء ؓ کے حقیقی بھائی تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب اسلام قبول کیا، تو آپ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ ہجرت مدینہ کے وقت اپنے والد ماجد اور رسالت مآبﷺ کی خدمت میں مشغول رہے۔ آپ ؓ کے سپرد یہ کام تھا، کہ دن بھر کی قریش کی خبریں جمع کرتے، وہ شام کو غار ثور میں پہنچا دیتے۔ آپ نے حضرت ام رومان، حضرت عائشہ صدیقہ اور اسماء رضی اللہ عنہم اجمعین کو لے کر مدینہ کی طرف ہجرت اس وقت فرمائی، جب رسالت مآبﷺ بخیر و عافیت مدینہ پہنچ گئے۔ آپ ؓ فتح مکہ اور غزوہ حنین و غزوہ طائف میں شریک رہے۔ غزوہ طائف میں آپ کو ایک تیر لگا تھا، جس سے شدید زخم پہنچا، جو علاج معالجہ کے بعد مندمل ہو گیا تھا، لیکن حضور اکرمﷺ کے وصال کے چالیس روز بعد پھر پھوٹ پڑا، جس سے آپ ؓ کی شہادت واقع ہوئی۔ 

(صدیق اکبر مرتب مولانا سعید احمد اکبر آبادی صفحہ 435)

آپ ؓ کے والد ماجد نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ نے عاتکہ سے نکاح کیا تھا، جس سے ایک بیٹا اسماعیل پیدا ہوا، جس کی وفات بچپن ہی میں ہوگئی۔ اور آپ کی نسل آگے نہیں چلی۔

(سیرت سیدنا ابو بکر صدیق از محمد حسیب قادری صفحہ 146)

(2) حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما:

آپ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دوسرے بیٹے ہیں۔ آپ حضرت ام رومان ؓ کے بطن ہیں۔ آپ کی کنیت ابوعبد اللہ ہے۔ آپ نے صلح حدیبیہ کے زمانہ میں اسلام قبول کیا، اور نبی کریمﷺ نے آپ کا نام عبد الکعبہ سے بدل کر عبدالرحمن رکھ دیا۔ آپ ایک ماہر تیر انداز تھے، زمانہ جہالیت اور قبول اسلام کے بعد بھی بے شمار معرکوں میں اپنے جوہر دکھائے۔ آپ کے ہاں تین بچے محمد، عبد اللہ اور حفصہ پیدا ہوئے۔

(سیرت سیدنا ابو بکر صدیق از محمد حسیب قادری صفحہ 147)

آپ کی وفات میں اختلاف ہے۔ بعض نے سنہ وفات 53 ہجری، بعض نے 56 ہجری، اور بعض نے 58 ہجری بیان کیا ہے۔ آپ کے بیٹے حضرت ابو عتیق محمد ؓ کو بھی شرف صحابیت حاصل ہے۔

(سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق از طالب ہاشمی صفحہ 605 اور 606)

(3) محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما:

آپ ؓ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ آپ کی والدہ اسماء بنت عمیس ہیں۔ آپ کی پیدائش دس ہجری ذیقعدہ میں ذوالحلیفہ کے مقام پر ہوئی۔ جب حضرت اسماء ؓ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے نکاح کیا، تو آپ بھی ان کی سایہ عاطفت میں آ گئے، اور آغوش مرتضوی میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے آپ کو اپنے عہد خلافت میں مصر کا گورنر بنایا۔ مصر پر جب عمرو بن العاص نے حملہ کیا، تو آپ ؓ نے ان کا پر زور مقابلہ کیا، لیکن شکست کھائی، اور گرفتار ہو گئے۔ بعد ازاں آپ کی شہادت ہوئی۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو آپ کی شہادت کی خبر ہوئی، تو آپ کے بیٹے قاسم کو اپنی آغوش شفقت میں لے لیا۔ یہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا، کہ قاسم اپنے دور کے بہت بڑے فقہیہ بن گئے، اور فقہائے سبعہ میں شمار ہونے لگے۔

(سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق از طالب ہاشمی صفحہ 609 اور 610)

(4) اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما:

آپ ؓ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں۔ آپ ؓ ہجرت مدینہ سے ستائیس سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا نکاح عشرہ مبشرہ میں شامل صحابی رسول حضرت زبیر بن عوام ؓ سے ہوا، جن سے حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ پیدا ہوئے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو پیدائش کے بعد نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں لایا گیا۔ رسالت مآبﷺ نے ایک کھجور منگوا کر اسے چبایا، اور پھر اسے عبد اللہ کے منہ میں ڈال دیا۔ حضرت عبد اللہ ؓ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے، کہ مدینہ منورہ میں مہاجرین کے یہاں پیدا ہونے والے پہلے بچے ہیں۔ حضرت اسما ؓ کا وصال اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بیس روز بعد ہوا۔ آپ ؓ کی اولاد میں عبد اللہ کے علاوہ عروہ، منزر، عاصم، مہاجر، خدیجہ ام الحسن اور عائشہ بھی شامل ہیں۔

(5) ام المومنین حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما:

آپ ؓ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی دوسری صاحبزادی ہیں۔ آپ کی پیدائش بعث نبوی کے پانچ سال بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ کا نام ام رومان ہے۔ ام المومنین خدیجہ بنت خویلد کے وصال کے بعد آپ ؓ حضور نبی کریمﷺ کے نکاح میں آئیں۔ نکاح کے وقت آپ کی عمر مبارک چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال تھی۔ آپ کا شمار رسول اللہ کی لاڈلی بیویوں میں ہوتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کا وصال  بھی آپ  ؓ کی گود مبارک میں ہوا، اور پھر آپ کے حجرہ مبارک میں نبی کریمﷺ مدفون ہوئے۔ نبی کریمﷺ کے وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک صرف اٹھارہ برس تھی۔ آپ ؓ نے سترہ رمضان المبارک 59 ہجری میں اس جہان فانی سے کوچ فرمایا، اور جنت البقیع میں مدفن ہوئیں۔

(6) حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر ؓ :

آپ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں، اور آپ کی پیدائش اپنے والد ماجد کے وصال کے بعد ہوئی۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی اولاد میں صرف آپ کا شمار تابیعین میں ہوتا ہے۔ آپ حبیبہ بن خارجہ کے بطن سے پیدا ہوئیں۔ آپ کی پرورش ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے زیر سایہ ہوئی۔ آپ کا پہلا نکاح طلحہ بن عبید اللہ سے ہوا۔ ان کی شہادت کے بعد آپ کا دوسرا نکاح عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ربیعہ سے ہوا۔ اللہ تعالی اس خانوادے کو اپنی شایان شان برکات سے نوازے۔ 

(سیرت سیدنا ابو بکر صدیق از محمد حسیب قادری صفحہ 147تا 149)

بشکریہ اردو کالمز