(گزشتہ سے پیوستہ)
درویش اپنے اسکول اور کالج کے دور سے ہی ذہنی و فکری طور پر جماعتِ اسلامی اوراس کے بانی مولانا مودودی کے’’مخصوص فہم اسلام‘‘ پر ایمان لے آیا تھا۔ بالفعل یہ نونہال مولانا مودودی کے حضور پیش ہوا اور انکی گفتگو کو سرمایۂ حیات خیال کیا ۔مودودی صاحب کے بعد ان کے جانشین محترم میاں طفیل محمد سے تو بہت قربت رہی، میاں طفیل محمد مولانا مودودی کے معتمد ترین ساتھی رہے بلکہ طویل عرصے تک جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکرٹری (قیم) کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے۔ 1972ء میں مولانا مودودی نے خرابی صحت کے باعث امیر جماعت کا عہدہ چھوڑ دیا تو میاں طفیل محمد تب سے لے کر 1987ء تک مسلسل جماعتِ اسلامی کے امیرمنتخب ہوتے رہے۔ میاں صاحب کے آخری دور میں قاضی حسین احمد ایک اچھی خاصی مگر نادیدہ پلاننگ کے ساتھ اُبھر کر سامنے آرہے تھے میڈیا میں بھی قاضی صاحب کا خاصا اثر و رسوخ تھا انہیں دیکھنے سننے اور سمجھنے کے کافی مواقع ملے۔ بہرحال جب میاں صاحب نے اپنی مجلس شوریٰ سے پیہم اور بھرپور استدعا کی کہ شوریٰ، ارکان جماعت کی رہنمائی کیلئے جو تین نام بھیجے ان میں میرا نام شامل نہ کیا جائے کیونکہ میں اب مزید امیر جماعتِ اسلامی کی ذمہ داری یا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوں اس پر درویش نے میاں صاحب کو ایک بھرپور خط لکھا کہ ایک ٹرم کا بوجھ آپ مزید اٹھالیں اور ابھی چھوڑ کر نہ جائیں۔ جماعت کے ریکارڈ میں وہ خط ضرور کہیں موجود ہوگا بہرحال خط حرف بہ حرف یہاں پیشِ خدمت ہے۔
عزیزم ریحان صاحبالسلام علیکم و رحمۃ اللہ!
محترم میاں طفیل محمد صاحب کے نام آپ کا محبت نامہ ملا۔ انہوں نے آپ کا خطجواب کیلئے میرے سپرد کر دیا ہے اس لیے میں آپ کو جواب تحریر کر رہا هہوں ۔ آپ جانتے ہیں کہ محترم میاں طفیل محمد صاحب1967-68سے وقفے وقفے کے ساتھ کئی مرتبہ قائمقام امیر جماعت ر ہے ہیں 1972 کے انتخاب امارت کے موقع پر مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے امارت کے منصب پر منتخب کیے جانے سے معذوری کا اظہار ارکان جماعت کے نام ایک خط لکھ کر کر دیا تھا ۔ اس پر ارکان کی واضح اکثریت نے محترم میاں طفیل محمد صاحب کو پانچ سال کیلئے امیر جماعت منتخب کر لیا ۔ اسکے بعد 1977میں انہیں دوسری بار اور 1982میں انہیں تیسری بار امیر منتخب کر لیا گیا ۔ اسکے بعد 1983 سے 1987تک هر مجلس شوری یا مجلس عاملہ کے اجلاس کے موقع پر محترم میاں صاحب اپنی جسمانی کمزوری ، عام صحت ، نظر اور عمر کی کیفیت کے پیش نظر اپنا عذر پیش فرماتے رہے کہ میں اب جماعت کی امارت جیسے اہم منصب کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل نہیں رہا اس لیے آپ میری جگہ کوئی دوسرا امیر بنالیں لیکن ہر مرتبہ مجلس شوری یا مجلس عاملہ ملکی حالات کے پیش نظر محترم میاں صاحب کی درخواست کو قبول نہ کرتی رہی ۔ اپریل 1987میں مجلس شوری کے اجلاس کے موقع پر محترم میاں صاحب نے فرمایا کہ میری عمر 73سال ہو چکی هہے اور مرکز میں کام کرتے ہوئے مجھے قریباً 44سال ہو رہے ہیں ۔ میں اپنی عمر ، صحت اور قوائے جسمانی کے ضعف کی وجہ سے زیادہ مشقت برداشت نہیں کر سکتا اور پبلک کے اندر کام کرنے اور دورے وغیرہ کرنے کے قابل نہیں رہا۔ اس پر اگلی صبح جماعت کے نائب امرا اور قیم جماعت قاضی حسین احمد صاحب نے محترم میاں صاحب کے گھر جا کر ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی معذرت واپس لے لیں اور حسب سابق کام کرتے رہیں لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپنی معذرت پر بہت اصرار کیا بلکہ مجلس شوری کے اجلاس میں بتایا کہ یہ پانچ حضرات مجھ سے گھر پر ملے ہیں لیکن میں نے انکی بات منظور نہیں کی اس لیے ارکان شوری نے جو تین نام اسی اجلاس میں تجویز کرنے ہیں ان میں میرانام شامل نہ کیا جائے ۔ محترم میاں صاحب نے اس پر اس قدر اصرار کیا کہ ارکان شوری کیلئے ان کی معذرت قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا مجلس شوری نے جو تین نام تجویز کیےہیں ان میں سے مولانا جان محمد عباسی صاحب 1972 سے جماعت کے نائب امیر چلے آ رہے ہیں وہ پورے پاکستان میں دورے کرتے رہتے ہیں اور جماعت کے معروف رہنما ہیں۔ اسکے علاوہ پروفیسر خورشید احمد صاحب ہیں جو 1979سے نائب امیر جماعت ہیں۔ تیسرا نام قاضی حسین احمد صاحب کا ہے جو1978سے قیم جماعت ہیں اور نو سال سے محترم امیر جماعت کے ساتھ ان کے مددگار اور ان کے معتمد نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں وہ بھی پورے ملک میں اکثر دورے پر ہی رہتے ہیںاور جان مار کر جماعت کی دعوت ، تنظیم اور تربیت کا کام کرتے چلے آ رہے ہیں اب جبکہ امیر جماعت کے منصب کیلئے پرچہ ہائے رائےدہی جاری ہو چکے ہیں، محترم میاں طفیل محمد صاحب نے ارکان جماعت کے نام ایک مفصل مراسلہ 24اگست کو بھیجا ہے جس میں انہوں نے اپنی عمر ، صحت اور قوائے جسمانی کے ضعف کا حال بیان کرکے فرمایا ہے کہ’’اب میں اس عریضہ کے ذریعے آپ سب بھائیوں اور بہنوں سے بھی عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی خرابی صحت سے ان کی زندگی میں ہی امارت سےمعذرت قبول کر لی گئی تھی، اسی طرح میری یہ درخواست قبول فرما کر میری اس ذمہ داری سے معذرت قبول فرما لیں، یعنی آئندہ انتخاب امیر کے سلسلے میں مجھے مستثنیٰ کرکے دوسرے جن صاحب کو موزوں خیال فرمائیں ، ان کے حق میں رائے دیں۔ ارکان جماعت ان شاء اللہ جو بھی فیصلہ کریں گے اس میں اللہ تعالیٰ خیر وبرکت ڈالے گا اور جماعت کیلئے بہتر ہو گا۔پھر یہ پہلو بھی ملحوظ رکھیے کہ محترم میاں صاحب جماعت کی اسی طرح سرپرستی و رہنمائی فرماتے رہیں گے جس طرح مرحوم و مغفور مولانا مودودی 1972لیکر1979 تک سرپرستی فرماتے رہے تھے ۔ جماعت کا جو بھی امیر منتخب ہوگیا وہ انشاء اللہ محترم میاں صاحب کا قابل اعتماد رفیق کارہی ہو گا۔ امید ہے کہ اس جواب سے آپ کا اطمینان ہو جائے گا آپ کا خط آپ کی جماعت سے محبت اور آپ کے خلوص کا آئینہ دار ہے اور جماعت سے آپ کی سچی خیر خواہی کا ثبوت ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین خاکسار( محمد اسلم سلیمی)۔نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان۔