جمہوریت کی کوئی بہتر صورت نصیب ہونے کا امکان 220

جمہوریت کی کوئی بہتر صورت نصیب ہونے کا امکان

نیا سال مبارک ہو۔ سب کا بھلا سب کی خیر مانگتے ہوئے بھی لیکن مجھے اس سال حالات بہتر ہونے کی زیادہ امید نہیں ہے۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کے ساتھ ہم ایک پروگرام میں بندھ چکے ہیں۔ مقصد اس پروگرام کا ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا لینے کے بعد استحکام و خوشحالی کی راہ پر ڈالنا ہے۔ مذکورہ اہداف کے حصول کے لئے حکومت پاکستان کو ”جگوں“ کی طرح تقریباً ہر پاکستانی سے ٹیکس وصول کرنا ہو گا۔ ”نان فائلر“ نام کا شخص ملک میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔

علم معاشیات کی مبادیات سے بھی نابلد ہونے کی وجہ سے میں ہرگز اس قابل نہیں کہ آپ کو بتا سکوں کہ ”ٹیکس نیٹ“ کو وسیع بنانے کے لئے جو اقدامات لئے جائیں گے وہ ہمارے بازار کس طرح ہضم کریں گے۔ ہمارے ”بازار“ جسے عہد جدید میں ”مارکیٹ“ کہتے ہیں ریاست کو ”اپنا“ تصور کرنے کے کبھی عادی نہیں رہے۔ اپنی دولت سرکار سے ہمیشہ چھپاتے رہے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے ”ہنڈی“ نامی ”غیر رسمی بینکنگ“ کا آغاز بھی سنا ہے ہمارے ہی خطے سے ہوا تھا۔ بے تحاشا محققین کا یہ دعویٰ ہے کہ موہن جودڑو کی تہذیب سے چند مہر نما تحریریں درحقیقت اس دور کے ”چیک“ تھے۔ ان میں سے چند مہریں عراق کے کئی شہروں میں بھی دریافت ہوئی تھیں جو ان کے ”تجارتی استعمال“ کی تصدیق کرتی ہیں۔

موہن جودڑو تو ہزاروں سال پرانی ثقافت تھی۔ 1840 ء کی دہائی مگر کئی حوالوں سے حالیہ تاریخ کہی جا سکتی ہے۔ اس دہائی کے دوران برصغیر ہند و پاک پر اپنے قبضے کو مضبوط و مزید پھیلاتے ہوئے بھی برطانوی سامراج نے شاہ شجاع کو کابل کے تخت پر بٹھانے کی کاوش شروع کر دی۔ پنجاب کے رنجیت سنگھ نے برطانوی افواج کو اپنے زیر نگین علاقوں سے گزرنے نہیں دیا۔ وہ سندھ اور بلوچستان کے ذریعے افغانستان کا رخ کرنے کو مجبور ہوئیں۔ شاہ شجاع کی کابل کے تخت پر بحالی اس زمانے کا بہت بڑا سامراجی پراجیکٹ تھی۔ اس کی تکمیل کے لئے بے تحاشا سرمایہ بھی درکار تھا۔ اس کے حصول کے لئے ہمارے سندھ کے شکارپور شہر میں آباد ہندو ساہو کاروں سے رجوع کرنا پڑا۔ اس سے قبل بنگال پر قابض ہونے کے لئے برطانوی سامراج نے نواب سراج الدولہ کو شکست دینے کے لئے جو فوج تیار کی تھی اس کی بھرتی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی بھارتی گجرات کے ساہوکاروں سے رقوم ادھار لینا پڑی تھیں۔ انگریز مگر ہمارے دولت مند افراد کو ”ٹیکس نیٹ“ میں لانے میں کامیاب نہ ہو پایا۔ زرعی زمینوں ہی سے ”مالیہ“ کا حصول اس کی ترجیح رہی۔ اسی باعث ڈپٹی کمشنر کو ”کلکٹر صاحب“ بھی کہا جاتا تھا۔

مالیہ وصول کرنے کی خاطر ہی برطانوی سامراج نے ہمارے خطے کے جنگلوں کو ”صاف“ کرنے کے بعد ایک وسیع تر نہری نظام کے ذریعے وہاں ”نقد آور اجناس“ اْگانے کے لئے زرعی رقبے تیار کیے۔ لائل پور اور منٹگمری وغیرہ میں یہ رقبے اپنے وفاداروں میں بانٹے اور پنجاب کو پورے برصغیر کا ”اناج گھر“ بنا دیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ لڑنے کے لئے سپاہی بھی وہ ہمارے بارانی علاقوں سے جمع کرتا رہا۔ قصہ مختصر اپنے طویل دور اقتدار میں سامراج نے ”مارکیٹ“ نامی شے متعارف کروانے سے گریز کیا۔ وہ متعارف ہو جاتی تو شاید ہمارے ہاں کے شہری متوسط طبقے کو ٹیکس دینے کا عادی بنایا جا سکتا۔ بہرحال پاکستان کو اب ”جدید ریاست“ بنانے کا فیصلہ ہو گیا ہے جہاں کے باسیوں کو ٹیکس تو ہر صورت ادا کرنا ہوں گے مگر اس کے عوض انہیں وہ حق فراہم کرنے کا وعدہ نہیں ہو رہا جو ٹیکس گزار کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی جانب سے دی رقم کے خرچ کا حکمرانوں سے حساب لے سکے۔

وہ جسے ”جمہوری نظام“ کہا جاتا ہے اس کی بنیاد ہی یہ نعرہ تھا کہ جب تک عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو مطلق العنان بادشاہ ریاستی اخراجات کا حساب لینے کا حق نہیں دیں گے، ان کی رعایا ٹیکس ادا نہیں کرے گی۔ بادشاہ مذکورہ نعرے کے ہاتھوں بے بس ہوئے تو ”ہاؤس آف کامنز (House of Commons)“ جیسے ادارے بنے جنہیں ہمارے ہاں قومی اسمبلی اور بھارت میں ”لوک سبھا“ کہا جاتا ہے۔ منتخب حکومتوں کا بجٹ ان اداروں میں پیش ہوتا ہے۔ ان کی منظوری کے بغیر اسے لاگو کیا نہیں جا سکتا۔ حکومت ہم سے ٹیکس وصول کرنے کے بعد اسے جس انداز میں خرچ کرتی ہے اس کا آڈٹ یعنی حساب کتاب ہوتا ہے۔ جو حساب کتاب ہوتا ہے اسے آڈیٹر جنرل قومی اسمبلی کے روبرو رکھتا ہے۔ آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لینے کے لئے ”پبلک اکاؤنٹس کمیٹی“ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے ہمارے ہاں کا متوسط طبقہ ”اچانک“ جمہوریت کا دیوانہ ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ روایتی میڈیا کے لئے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر کالم لکھنے والے مجھ جیسے قلم گھسیٹ افراد کو یہ طبقہ ”بکاؤ“ اور ”لفافہ“ قرار دیتا ہے۔ ان کے طعنے سر آنکھوں پر۔ حقیقی جمہوریت کو بے تاب اس طبقے کو مگر خبر ہی نہیں کہ فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد آئی قومی اسمبلی ابھی تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا قیام بھی عمل میں نہیں لا پائی ہے۔ مذکورہ کمیٹی کے بغیر موجودہ نظام کو ”ہائی برڈ“ پکارنے کا جواز مل جاتا ہے جو ایسی طرز حکومت کی نشاندہی کرتا ہے جو تیتر ہے نہ بٹیر۔ جمہوریت شاعروں کے محبوب کی کمر کی طرح ”ہے کہ نہیں ہے“ ۔ ایسے دو نمبر نظام کے تحت جب وزیر خزانہ اور ان کے ”راجہ ٹوڈی مل“ سینہ پھلا کر ”ٹیکس نیٹ“ بڑھانے کی بات کرتے ہیں تو میرا پنجابی والا ”ہاسا“ چھوٹ جاتا ہے۔

فروری 2024 ء کے بعد قائم ہوئی حکومت کو مگر ہائی برڈ نظام کے استقلال کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔ گزرے برس کے اس مہینے میں جو انتخاب ہوئے تھے وہ بے تحاشا حوالوں سے ہرگز ”صاف و شفاف“ نہیں تھے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف ہزاروں مشکلات کے باوجود ان کی بدولت واحد اکثریتی جماعت کی صورت ابھری۔ اس کا فرض تھا کہ واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت میں حکومت سازی پر اپنے حق کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیگر جماعتوں سے رابطے استوار کرتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے اسے ایسی ہی حمایت مل سکتی تھی جیسی ان دنوں شہباز شریف کی حکومت کو میسر ہے۔ ”مرغے کی ایک ٹانگ پر“ اصرار کرتے ہوئے مگر تحریک انصاف نے اپنے حق کو بچگانہ انداز میں نظرانداز کر دیا۔ اس کے بعد اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود وہ موجودہ قومی اسمبلی ہی میں حکومت کو دیوار کے ساتھ لگانے کو مجبور نہیں کر پائی ہے۔ اس کے اراکین قومی اسمبلی کے اجلاس میں دھواں دھار تقاریر کے بعد گھر چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد پر چڑھائی کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ ”جمہوریت“ مگر بحال نہیں ہوئی اور تحریک انصاف کے بانی بھی جیل سے رہا نہیں ہو پائے۔ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ نئے سال کا آغاز ہوتے ہی تحریک انصاف حکومت کے ساتھ جن مذاکرات میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے اس کے انجام پر ہمیں جمہوریت کی کوئی بہتر اور قابل برداشت صورت نصیب ہو۔

 

بشکریہ ہم سب