مہمان کالم - جنگیں،میدان بدل گئے جنگیں،میدان بدل گئے

ایک زمانہ تھا جب جنگ کا مفہوم بڑا واضح تھا ۔دو لشکر، دو سپہ سالار، ایک معرکہ، ایک میدان، اور فتح یا شکست کا تعین تلواروں کے سائے میں ہوتا تھا۔ جنگ جسموں سے لڑی جاتی تھی اور لاشیں گرتی تھیں۔ لیکن اب... نہ وہ میدان باقی رہے، نہ وہ جنگ۔مستقبل کی جنگوں میں نہ توپوں کی گرج ہوگی، نہ گولیوں کی آواز،نہ مورچے ، نہ خندقیں،نہ اعلانِ جنگ ، نہ صلح کا کوئی پرچم لہرائے گا۔ جنگیں ہوںگی لیکن ہر طرف خاموش، چالاک، اور انتہائی ’’مہلک ہتھیاروں ـ‘‘کے ساتھ۔ جنگیںدماغوں پر قبضے کی جنگ ہو گی ۔اب جنگ زمینوں کے لیے نہیں، ذہنوں پر قبضے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ دشمن فوجیں نہیں بھیجے گا، اپنا بیانیہ بھیجے گااورنوجوانوں کی سوچ پر قبضہ کرے گا۔انہیں اپنے ہیروؤں سے بدگمان کرے گا۔انہیں تاریخ سے کاٹ دیتا ہے،انہیں فیشن، شہرت، اور فالوورز کی لذتوں میں غرق کر دے گا۔جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یونیورسٹیوںکے نصاب، یوٹیوب کے وی لاگرز، اور انسٹاگرام کی ریلز ۔یہی دشمن کے نئے ہتھیار ہیں ۔ ان کا توڑ بھی انہی ہتھیاروں کے اندر موجود ہے۔ سوچیے اگر ہم دشمن کے بیانیے کو لے کر فالوورز کی دوڑ میں ہیں تو یہ دشمن کا مورچہ ہے ،جہاں سے ہم اپنی کنپٹی پر فائر کر رہے ہیں اور اگر بیانیہ آپ کا اپنا ہے اور یہ ریاست کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا بیانیہ ہے تو یقین جانیے آپ جنگ جیت جائیں گے۔صرف ایک فرد پوری ریاست کی جنگ لڑ سکے گا۔ اس کے لیے کاپی پیسٹ اور بلا سوچے سمجھے بات شئیر کرنے والی عادت کو ایک دم چھوڑنا پڑے گا۔پاکستان کے ادارے اگر تہیہ کر لیں کہ اپنی نئی نسل کو ان ہتھیاروں سے مسلح کرنا ہے تو مستقبل کی کوئی بھی جنگ جیتنا بالکل بھی ناممکن نہیں۔ کبھی گھوڑے دوڑتے تھے،اب ''ٹویٹس'' دوڑتے ہیں۔آج کی جنگ یہی سب سے بڑی فتح ہے ۔اگر ہم دشمن کے جرم کو ''حق'' اور اپنی مزاحمت کو ''دہشت گردی'' کہنے لگیںتو یقین جانیے ہم ہار جائیں گے۔مستقبل کی جنگ کا خاموش ہتھیارمعیشت ہے۔بندوق سے زیادہ خطرناک ہتھیار اب بینکنگ سسٹم ہے۔کرنسی کی قیمت گرانا،اسٹاک مارکیٹوں پر حملے کرنا،ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو ہیک کرنا ۔یہ سب دشمن کے جدید حربے ہیں۔اگر ہمارا دشمن ہمیں میدانِ جنگ میں نہ ہرا سکے،تو وہ ہمیں افراطِ زر اور قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ دے گا۔ایسے میں قومیںخود ہی خودکشی کرنے لگتی ہیں گولی چلانے یا میزائل چلانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔اب جنگیں صرف انسان نہیں لڑیں گے بلکہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹک ہتھیار میدان میں آئیں گے۔جب مشینیں لڑتی ہیں، اور وہ غلطی نہیں کرتیں۔ڈرونز، AI میزائلز، آٹو میٹک بندوقیں،جنہیں دور بیٹھا کوئی انسان صرف ایک کلک سے ’’فائر‘‘ کرتا ہے اور ہزاروں میل دور دشمن کی بستیاں خاک ہو جاتی ہیں۔اس لمحے آپ دیکھیں گے کہ کل انسان لڑتا تھا، آج مشین لڑ رہی ہے،اور بعید نہیں کہ کل مشینیں فیصلے بھی خود کرنے لگیں کہ کب اور کہاں کس کو ملیا میٹ کرنا ہے،کسے زندہ رہنے دینا ہے، اور کسے نہیں۔ہائبرڈ وارنہ جنگ ہے، نہ امن ۔۔کبھی کسی سرحدپر دہشت گردی،کبھی کسی فضا میں جھوٹی خبریں،کبھی تعلیمی اداروں میں نظریاتی زہر کی یلغار۔یہ سب ہائبرڈ وارہے۔دشمن نظر نہیں آتا، مگر ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔پھر ہم دفاع کیسے کریں گے؟ دفاع صرف فوجی نہیں کرے گا بلکہ استاد، صحافی، انجینئر، کوڈ لکھنے والا نوجوان، اور مائیں اس محاذ پر لڑیں گی۔اپنی نسلوں کو ہوشیار ،بیانیے پر قبضہ ،اپنی ٹیکنالوجی کی تیاری اور اپنے ایمان کے ہتھیار کو مضبوط بنانا ہو گا۔ایک مشہور مقولہ ہے کہ:''اگر تمہیں اپنے حق پر یقین نہ رہا، تو تم دشمن کی زبان بولنے لگو گے۔''یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ مستقبل کی جنگوں کا بنیادی اصول ہے۔ جنگ صرف بیانیے سے جیتی جاتی ہے۔ قومیں توپوں سے پہلے دماغوں میں فتح ہوتی ہیں ۔جب دلوں سے یقین چھن جائے اور زبان پر دوسروں کا بیانیہ آ جائے تو پھر آپ کو کوئی شکست سے نہیں بچا سکتا۔ دنیا جس ہائبرڈ وار فیئر کے شکنجے میں ہے، اس میں سب سے نازک مورچہ ہماری نظریاتی سرحد ہے۔ دشمن اب ہماری جغرافیائی حدود پر حملہ آور ہونے کے بجائے ہمارے نصاب، میڈیا، فلم، اور ادب کے ذریعے ہماری سوچ پر حملہ کر رہا ہے۔ اگر ہم نے اپنے بیانیے کا تحقیقی، مدلل اور جدید اسلوب میں دفاع نہ کیا، تو ہم خاموشی سے مفتوح ہوتے چلے جائیں گے اور ہمیں خبر بھی نہ ہو گی۔یہی وہ وقت ہے جب ہمیں اسلامی بیانیہ کو محض واعظ کے انداز میں نہیں، بلکہ عقلی دلائل، سائنسی تفہیم اور تہذیبی وقار کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔ میڈیا کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ فکری مورچہ بنانا ہو گا۔ فلم اور ڈرامہ صرف کہانی نہیں، قومی پیغام کا ہتھیار ہو گا۔ اور تعلیمی نصاب صرف کتابوں کا مجموعہ نہیں، نئی نسل کا فکری راستہ بنانا ہوگا۔جس اسلام کی خاطر ہمارے حقوق سلب کیے جارہے ہیں،بڑی اقوام جس شدت کے ساتھ اسلامی ممالک پر وار کر رہی ہیں ،اس اسلام کی حقانیت واضح ہے۔ یہ قومیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ اسلام ہی مستقبل کا مذہب ہے ۔نائن الیون کے ڈرامے کے بعد اسلام کو ابھرتا ہوا وہ دیکھ چکے ہیں۔ ایک اور محاذ جوہمارے لیے زیادہ مہلک ہے وہ داخلی انتشارہے۔مستقبل کی جنگ میں قومیں باہر سے نہیں، اندر سے توڑی جائیں گی۔فرقہ واریت، لسانیت، اور طبقاتی نفرتیں یہ سب دشمن کے تیار کردہ ہتھیار ہیں، جو ہم نے اپنی زمین پر خود نصب کر رکھے ہیں۔ دشمن کا حملہ کامیاب تب ہوتا ہے جب قوم اندر سے بکھر جائے۔ جب ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کو شک کی نظر سے دیکھے، جب سیاست نظریے پر غالب آ جائے، جب ہر مسلک دوسرے کو کافر اور ہر زبان دوسری زبان کو دشمن سمجھے تو دشمن کا کام آسان ہو جاتا ہے اسے توپ و تفنگ کی حاجت نہیں رہتی۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم قومی وحدت کو ہتھیار بنائیں۔ ہمیں ایک ایسا قومی بیانیہ تشکیل دینا ہو گا جو ہر سیاسی وابستگی، مسلکی اختلاف، اور لسانی تقسیم سے بالا تر ہو۔ یہ بیانیہ ہمیں صرف دشمن کے خلاف نہیں، اپنے شکوک کے خلاف بھی لڑنے کی ہمت دے گا۔

بشکریہ روزنامہ آج