جنیوا کانفرنس ،سعودی اعلان اور حقیقت حال  304

جنیوا کانفرنس ،سعودی اعلان اور حقیقت حال 

    جنیوا ڈونرز کانفرنس میںپاکستان کیلئے دس ارب ڈالرز سے زائد کی امداد کے اعلانات کے بعد سعودی عرب کی جانب سے بھی سرمایہ کاری کو ایک ارب سے بڑھا کر دس ارب ڈالر تک کرنے اور سٹیٹ بینک میں سعودی ڈیپازٹ کی رقم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے اعلانات یقینا پاکستان کی ڈوبتی معیشت کیلئے ایک خوش آئند خبر ہے مگر فوری طور پر پاکستان کی معیشت کو ان اعلانات سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا ،کیونکہ یہ اعلانات ابھی محض وعدے ہیں ،اعلان کردہ امداد یا سرمایہ کاری کیلئے قواعد و ضوابط طے کئے جائیں گے شرائط منوائی جائیں گی اس کے بعد ہی امدادی رقوم یا سرمایہ کاری آنے کی توقع اس صورت میں کی جاسکتی ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی مکمل کیا جائے اور آئی ایم ایف معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کردے کیونکہ ہر قسم کی عالمی امداد اور سرمایہ کاری آئی ایم ایف کے اطمینان پر منحصر ہوتی ہے ۔

    بدقسمتی سے پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں قابل اطمینان درجہ نہیں رکھتا اور پاکستان میں آئی ایم ایف پروگرام بھی تعطل کا شکار ہے ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی جانب سے بھی امدادی قرضے یا قلیل مدتی قرضے نہیں مل پا رہے ،حالیہ  دنوں میں پاکستان نے جب متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ واپس کیا تو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں ،اس قرض کی واپسی کے بعد معاشی صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے ،پانچ ارب ڈالر سے کم ہوچکے ذخائر سے ملکی ضروریات کو ایک ماہ تک بھی نہیں پورا کیا جا سکتا اور دوسری جانب فوری طور پر کہیں سے بھی قرض یا امداد ملتی دکھائی نہیں دیتی اور ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات زور پکڑتے جارہے ہیں ،پاکستان کیلئے بچت کا واحد دروازہ  آئی ایم ایف پروگرام سے ہی کھل سکتا ہے جس کے اطمینان کے بغیر اب دوست ممالک بھی مدد سے اجتناب برت رہے ہیں ۔

    لین دین گھریلو سطح پر ہو یا کاروباری سطح پراعتماد ہی وہ واحد کنجی ہے جس سے لین دین کے راستے کھلتے ہیں اور جہاں اعتماد متزلزل ہوتا ہے وہاں لین دین کے راستے بھی تنگ ہو جاتے ہیں ،عالمی سطح پر ہونے والا لین دین بھی اعتماد و یقین پر ہی انحصار کرتا ہے ،عالمی سطح پر لین دین کیلئے ایک مروجہ نظام قائم ہے جسے IMF(انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ) کہا جاتا ہے ،دنیا کا کوئی بھی ملک یا مالیاتی ادارہ کسی بھی دوسرے ملک کو سرمایہ فراہم کرنے کیلئے سب سے پہلے آئی ایم ایف کا کریکٹر سرٹیفکیٹ دیکھتا ہے ،اگر آئی ایم ایف کسی ملک پر اعتماد کا اظہار کردیتا ہے تو قرض فراہم کرنے والے ممالک یا مالیاتی ادارے بنا کسی حیل حجت قرض فراہم کردیتے ہیں اور اگر آئی ایم ایف کسی ملک پر عدم اعتماد کا اظہار کردے تو کوئی بھی ملک یا مالیاتی ادارہ قرض فراہم کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اسے ایک عالمی قانون کا درجہ حاصل ہو چکا ہے ،آئی ایم ایف قرض لینے والے ملک سے ایسی شرائط پر عمل درآمد کراتا ہے جن سے قرض کی رقم مقررہ مدت میں واپس ہو سکے ۔

    درحقیقت پاکستان پر قرض اتنا بڑھ چکا ہے اور ہمارا قرض واپس کرنے کا ریکارڈ اتنا برا ہے کہ عالمی سطح پر ہمارے ملک کا اعتماد کھوکھلا ہو چکا ہے ،یہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا23واں پروگرام چل رہا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کا تناسب 10فیصد بھی نہیں ،حالیہ پروگرام میں پیدا ہونے والا تعطل اس کی ایک تازہ مثال ہے ،یہی وجہ ہے کہ بدترین معاشی صورتحال میں بھی ہمیں دوست ممالک سے بھی امداد نہیں مل رہی ،حالیہ امدادی اعلانات پر اگرچہ حکومتی حلقوں کی جانب سے بہتری کی نوید سنائی جا رہی ہے مگر جب تک آئی ایم ایف پروگرام کو بحال نہیں کیا جاتا ،بہتری کی توقع خام خیالی ہی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے کیلئے حکومت کو کچھ مشکل فیصلے ہر صورت کرنا پڑیں گے ،آئی ایم ایف کی بڑی شرائط میں درآمدات پر پابندی ،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور اضافی ٹیکس لگانا شامل ہے جو موجودہ قلیل مدتی حکومت کیلئے امر محال بنے ہوے ہیں ،اگر حکومت یہ مشکل فیصلے لیکر آئی ایم ایف پروگرام بحال کرتی ہے تو ملکی معیشت کی سانس تو بحال ہو جائے گی مگر حکومتی اتحاد کو  سیاسی طور پر نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،یہ تو معلوم نہیں کہ حکومتی اتحاد سیاست بچائے گا یا معیشت مگر حالات و واقعات  سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ سیاستدان اب بھی ملکی مفاد کو نظر انداز کررہے ہیں اور سیاسی خودغرضیوں کے خول میں بند ہو چکے ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز