جناب! وزیر اعظم پاکستان آپ کے مختصر دور حکمرانی کا وقت اختتامی مراحل میں ہے آپ نے بلاشبہ وطن عزیز کے لیے گراں قدر خدمات مختصر عرصے میں سر انجام دی ہیں آپ کے بقول آپ نے ملکی معیشت کو مثبت سمت میں متعین کردیا ہے, آپ کےبقول قومیں قرضہ لیکر ترقی نہیں کرسکتیں, آپ کے بقول آپ نے ہنگامی بنیادوں پر مشکل فیصلے کیے آپ نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دی, آپ نے نسل نو کی آبیاری کے عمل میں اپنی سابقہ روایات کے مطابق ملکی اثاثہ نوجوان بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ دیے, آپ نے سابقہ ادوار میں کئی میگا پراجیکٹس دیے, آپ اس نظریے کے حامی ہیں کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے, ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چائہیے , جس طرح ماں ہر بچے کا خیال کرتی ہے اسی طرح ریاست کو بھی خیال کرنا چائہیے, اگر ماں اپنے بچوں میں سے کچھ کا خیال کرے اور کچھ کا خیال نہ کرے تو گھر سے ہی بغاوت شروع ہوگی, آپ خاموشی سے محبت تو کرسکتے ہیں, خاموشی سے بغاوت نہیں کر سکتے , بغاوت کی زبان اور ہوتی ہے , ہم بات کر رہے تھے ریاست ماں ہوتی ہے تو ریاست کو ماں جیسا کردار ادا کرنا ہوگا, ماں کا پیار, ماں کی محبت, ماں کی وراثت سب بچوں میں برابر تقسیم ہوتی ہے تو ریاست بھی سگی ماں بنے سوتیلی ماں والا کردار ادا نہ کریں, اس کی مثال میں یہ دینا چاہوں گا کہ, آپ نے اس سال بجٹ میں جو تنخواہیں سرکاری ملازمت سے وابستہ افراد کی بڑھائیں کیا اسی تناسب سے پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں بڑھیں بالکل نہیں بڑھیں کیا یہ ریاست ماں کا کردار ادا کر رہی ہے؟ سوال میں آپ پے چھوڑتا ہوں, پنجاب کے تعلیمی سیکٹر میں وفاق کے بر عکس جب تنخواہیں بڑھانے کا صوبے میں مسئلہ پیدا ہوا تو پنجاب کے سرکاری اساتذہ احتجاج پے آئے کئی روزتک اساتذہ نے احتجاج کیا پھر مذاکرات شروع ہوئے, کامیاب مذاکرات کی صورت میں احتجاج ختم ہوا اگر ایسا احتجاج نجی سیکٹر سے منسلک اساتذہ یا افراد کرتے تو اگلے روز نجی سیکٹر کے مالکان انہیں ملازمت سے برخاست کردیتے, کیونکہ سرکاری سطح پر کوئی میکنیزم نہیں کوئی پیمانہ نہیں کوئی سرپرستی نہیں ,نجی سیکٹر سے وابستہ افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے, اگر آپ لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے تو ان کی چیخ و پکار بہت سارے لوگوں کی چیخیں نکلوا دے گی, جناب وزیر اعظم پاکستان آپ کے پنجاب کے نگران کابینہ میں بہت سارے وزیر ایسے ہیں جو نجی سیکٹر مالکان کے بچے ہیں -
نجی سیکٹر کے لیے کوئی لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ لوگ خود کو ریاست ماں کے بچے سمجھیں-
جناب! وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب! سابقہ ادوار میں بے سہارا لوگوں نے جن کے پاس چھت نہیں تھی انہوں نے حکومتی پالیسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف بنکوں سےہاؤس لون کی مد میں قرضہ لیا 2018ءسے بے روزگاری اور مہنگائی کے سبب اقساط ادا کرنا بہت مشکل ہے ریاست ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے یا تو جب تک سرکاری ملازمت نہیں ہوتی تب تک اقساط مؤخر کرے یا ریاست ماں وہ قرضہ معاف کردے, وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب! ایک دور تھا ہم زیادہ دور نہیں جاتے 2008ءسے 2018ءتک صوبہ پنجاب کے ہسپتالوں کی صورت حال مثالی ہوتی تھی اب صورت حال بہت دگرگوں ہے-
کچھ روز پہلے گاؤں سے فون آیا کہ بچی کے پیٹ میں شدید درد ہے ,کیا, کیا جائے شہر پڑوس کے ڈاکٹر کہتے ہیں ملتان یا بہاولپور لے جائیں میں نے مشورہ دیا کہ ملتان چلڈرن کمپلکس ایمرجنسی میں لے آئیں بچوں کا ہسپتال ہے صییح علاج ہو جائے گا وہ بیچارے تین گھنٹوں کی مسافت طے کرکے ہسپتال پہنچے, جو حال چلڈرن کمپلکس کی ایمرجنسی والوں نے کیا وہ کافی تکلیف دہ ہے بچی کو داخل تک نہیں کیا بار بار باہر کی ادویات لکھ کے دیتے رہے رات دو بجے پانچ گھنٹے ضائع کرنے کے بعد کہا کہ یہاں کوئی سینیئر ڈاکٹر نہیں لے جائیں, پھر نشتر ہسپتال لے آئے خیر انہوں نے داخل تو کرلیا,یہ نشتر ہسپتال کے وارڈ نمبر 03جراحی اطفال کی بات کر رہا ہوں صفائی صفر ڈاکٹر کا رویہ صفر ہر چیز باہر کی لکھ کے پرچی تھما دیتے رہے ایک بار میں نے وزیر اعلی پنجاب شکایت سیل یہ شکایت کی مگر جوں تک نہیں رینگی بس ایسے ڈرامہ ہے شکایت سیل کے نام پر, ایک ہفتے بعد مریضہ بچی کو چھٹی دے دی وہ دوردراز گھر پہنچے پھر شام کو بچی کے پیٹ میں شدید درد ہوگیا وہ جلدی سے نشتر پہنچے ایمر جنسی والوں نے اسی وارڈ نمبر 03جراحی اطفال بیھج دیا اگلے روز سینیئر ڈاکٹر سے ملنے میں خود گیا اس نے کہا کہ پتہ نہیں کس نے چھٹی دے دی تھی میں نے تو چھٹی نہیں دینی تھی خیر ساتھ بیھٹے جونئیر ڈاکٹر سے پوچھا کہ فلاں دن کون ڈیوٹی پے تھا اس نے ایسے گھما پھرا کر بات کی خیر ہمیں کہا کہ کل میں خود راؤنڈ پے آؤں گا, وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف صاحب کیا کہیں بھی ماں کا رول نظر آرہا ہے, ہماری جامعات کا حال سب کے سامنے ہے,آپ کے عوامی دفاتر میں بیھٹے ہوئے ذمہ داران کیا عام آدمی کی بات سنتے ہیں؟
کیا وہاں تک عام آدمی پہنچ پاتا ہے کوئی محکمے ایسا نہیں جہاں میرٹ پر کام ہوتا ہو-
آج کل ہر محکمے کا سوشل میڈیا پیج بنا ہوا ہے محکمے کے ذمہ دران فوٹو شوٹ کے لیے آتے ہیں کار کردگی صفر / صفر ہے -
جناب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب آپ فوری طور پر کچھ گزارشات ضرور قبول کریں -
1-نجی یا پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کوئی لائحہ عمل یا میکنیزم بنائیں, مہنگائی, عہدہ کے مطابق تنخواہ کا جائزہ لیں وفاق کی طرز پر یا صوبے کی طرز پر سرکاری ملازمین کی طرح نجی سیکٹر کے ملازمین کو حقوق حاصل ہوں -
2-ہاؤس لون کی مد میں لیے گئے قرضوں کو معاف کریں یا دو سال کےلیے اقساط مؤخر کریں -
3-محکمہ صحت کا میکنیزم بنائیں ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے-
4-پاکستان میں نجی تعلیمی سیکٹر کے اساتذہ کی رجسٹریشن کی جائے انہیں وہی حقوق دیے جائیں جو سرکاری تعلیمی سیکٹر کے ملازمیں کو حاصل ہیں -
491