کرتے دھرتوں کی ٹائم بجٹنگ سے بے نیازی 220

کرتے دھرتوں کی ٹائم بجٹنگ سے بے نیازی

قیام پاکستان کے بعد اور انتقال سے پہلے حضرت قائداعظم کے قوم کو آخری سبق ’’ایمان، اتحاد اور تنظیم‘‘ کے برعکس آج کل بدنیتی (میلافائیڈی) تقسیم (ڈیوائیڈ) اور انتشار (عدم استحکام) کے الفاظ ہمارے سیاسی و حکومتی ابلاغ اور پبلک ڈس کورس (زبان زد عام) میں بہت ہائی فری کوئنسی پر استعمال ہو رہے ہیں۔ کمیونیکیشن اور پولیٹکل سائنس کے ریسرچرز کیلئے یہ ہائی کوالٹی ریسرچ کا بڑا سامان ہے۔ تادم اسکا حاصل مسلسل بڑھتا اقتصادی و سیاسی و آئینی اور انتظامی بحران اور اب وائے بدنصیبی اس میں اضافے کے طور پر شامل ہونیوالا بے مثال نیشنل کمیونیکیشن ڈیزاسٹر ہے، جس میں ہمارے مین اسٹریم میڈیا کا کردار بہت محدود، میڈیا انڈسٹری کیلئے خسارے والا اور ثمر آور سوشل میڈیا کو بھی مزید غیر ذمے دار اور غیر سنجیدہ بنانے والا ہوگیا ہے، لیکن پیمرا اور وزارت اطلاعات جیسے کرتے دھرتوں کو یہ سمجھانا محال ہی نہیں ناممکن سا نظر آتا ہے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ففتھ سکستھ جنریشن وارفیئر کے تیزی سے تشکیل پذیر پیرا ڈائم میں عوام کا بااعتماد ہمارا نیشنل اور آزاد پروفیشنل میڈیا فقط روایتی میڈیا ہی نہیں، دفاع وطن اور اندرونی استحکام و سلامتی کا بڑا اور موثر ترین ذریعہ ہے۔ حجم کے لحاظ سے تو ہماری یہ قومی ضرورت وقت کے ساتھ ساتھ پوری ہو رہی تھی لیکن سیاسی کھلواڑوں اور فقط پاور گیم پر ’’فوکس‘‘ (انہماک)نے ہر دو پاکستانی ترقی پذیر مین اورسوشل میڈیا پرمطلوب فوکس کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن ملکی کرتے دھرتوں کو موجود مہلک ماحول میں یہ سمجھانا بھی خارج از امکان ہی معلوم دیتا ہے۔

یہ جوناچیزبالائی سطر میں ’’فوکس‘‘ کو زیر بحث لایا ہے، آج کےپیچیدہ ترین ملکی بحران میں اسکی حقیقت کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے، ملکی کرتے دھرتوں کو ہی نہیں خود عوام الناس کو بھی۔ کبھی تو انہماک (فوکس) کسی کاز (بڑے مقصد) کے حوالے سے قربانی مانگتا ہے کہ پہلو بہ پہلو توجہ کی طالب عوامی ریاستی ضرورتوں پر توجہ کو قربان کرکے اس بڑے اور اہم مقصد پر فوکس کرنا پڑتا ہے، اور کبھی مختلف اہم ترین اور کئی ترجیحی ضروریات و مفادات کے حصول پر مطلوب کے مطابق و مساوی توجہ دینے کا ’’توازن‘‘ کرتے دھرتوں سے فوکس بمطابق (توجہ) کا طالب ہوتا ہے۔ جب جب ہماری تاریخ میں اس اصول سے پہلو تہی کی گئی، سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوکر بڑے بڑے قومی ڈیزاسٹر ہوئے۔ اسکے برعکس جب بھی جملہ ضروریات پر اور فقط ایک ہی ترجیح پر انہماک سے بچتے انہماک و توجہ کا مطلوب توازن (حصہ بقدر جثہ کے اصول پر) قائم کیا گیا استحکام پیدا ہوا اور جملہ قومی ضرورتیں مکمل نہیں بھی تو بڑی حد تک پوری ہوتی رہیں، سیاسی عمل چلتا رہا اور تنقید و تجزیے کے ساتھ ساتھ اصلاح کی بڑی گنجائش کیساتھ وقت کا نظام قائم رہ کر ملک و عوام کو خطرات و خدشات سے بچاتا رہا، آج یہ تقریباً دم توڑ گیا۔ تمام تر ریاستی نظام خطرات و خدشات میں ہی گھرا اور جکڑا پڑا ہے، کرتے دھرتے تباہ کن مہم جوئی میں اپنی مہلک اور غیر آئینی طاقت برقرار رکھنے، خود کو اقتدار میں لانے اور دوسرے کے روکنے کے ہی اہم بڑے لیکن خطرناک حد تک محدود منفی ایجنڈے پر فوکس کئے ہوئے ہیں۔ منفی یوں کہ اپنا اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے خود کو کسی آئین، ضابطے کی پابندی سے عملاً آزاد ہو چکے، حتیٰ کہ ٹیلر میڈ قانون سازی اور الیکشن کیلئے بھی اور منتخب کی جگہ ’’نگرانوں‘‘ سے صوبے چلانے کے لئے بھی۔ محدود یوں کہ اس مہم جوئیانہ ’’پاور گیم‘‘ کا عوامی مفادات تو کیا روزمرہ بنیادی ضروریات اور حقوق سے بھی دور دور کوئی تعلق نہیں بلکہ کرتے دھرتوں کی اپروچ سوچ بڑے بڑے قومی و عوامی مفادات ہر دو سے متصادم ہے۔

غور فرمائیں! پاکستان کے پہلے ہی عشرے کے ابتدا میں ہی ہماری حکومت، فوج اور بہادر قبائل نے بھارتی حکومت کی بدنیتی اور جاتی جاتی فرنگی کی منافقانہ معاونت کے مقابل جموں و کشمیر کو ہڑپ کرنے کا مذموم ارادہ ممکن نہیں ہونے دیا، مہاجرین کی آمد اور آباد کاری کے جاری سخت ترین مرحلے میں بھی اپنی تنظیم، ایمان اور اتحاد سے قبضہ ہوتے کشمیر کا ایک تہائی آزاد کرا ہی لیا۔ (اسی اصول پر ہم ایٹمی طاقت بنے) بعدازاں کرتے دھرتوں کی اجتماعی بدنیتی و بے ایمانی سے نکلے سازشی اور اقتدار کی ہوس میں مبتلا مزے نے اسکا تشخص عدم استحکام کے عشرے کا بنایا، لیکن کسی نہ کسی حد تک فوکس آئین سازی پر بھی رہا، جس سے دیر آید متفقہ آئین 1956ء تشکیل بنانے میں کامیابی ہوئی لیکن اسے بھی سبوتاژ کردیا گیا۔ اس سے قبل اسمبلی توڑی گئی اور مارشل لا کا نفاذ ہوا۔ یہ ہوس اقتدار اور حصول اقتدار پر ہی فوکس کا شاخسانہ تھا، حتیٰ کہ بنے بنائے اور اطلاق میں آئے کو بھی دفن کر دیا گیا۔ جس نے عدم استحکام ختم کرکے ملک کومستحکم کرنا تھا۔ ایوبی دور میں فرد واحد کے آئین (1962ء) سے ملک چلانے کے دور رس تباہ کن نتائج ہماری 75سالہ پرآشوب تاریخ کی چند تلخ ترین حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ ایوب خان نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے ساتھ ساتھ ریاست کی ادارہ سازی اور مطلوب اسٹیٹ اسٹرکچر کی وسعت اور عوام کو بنیادی اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی کا ایک نظام قائم کرنے کیساتھ، زراعت و صنعت کی ترقی میں توازن کے کمال متوازن ترقی ماڈل سے آٹھ نو برس تو نیم آمرانہ طرز حکومت سے بھی سیاسی و اقتصادی استحکام کا متاثر کن ماڈل تو قائم کر دیا تھا۔ حقیقی بحالی جمہوریت کے لئے ایوب حکومت ڈیمو کریٹک ایکشن کمیٹی سے مذاکرات میں مکمل سنجیدہ تھی لیکن بھٹو بھاشانی کے سیاسی کھلواڑ نے ملک کو جمہوری پٹری پر لانے سے روک دیا۔

عوام تو بیچارے مکمل بے بس و مجبور اپنی مکمل ناکامی کے بعد حکومتی گمراہی کا سارا فوکس اپنے مفادات سمیٹنے کے بعد آئین و الیکشن سے فرار پر ہی رہا۔ 14ماہ میں اور کچھ نہیں تو فو ڈ سیکورٹی کا نظام تویقیناً قائم کیا جاسکتا تھا (الٹا 64 ارب کے ناقص آٹے کی تقسیم میں 20ارب کی چوری ہوگئی) خصوصاً جبکہ پی ڈی ایم آئی ہی ’’مہنگائی‘‘ کی آڑ میں جو آتےہی اس تیزی سے بڑھائی کہ آج تین وقت والوں کے لئے دو اور دو والوں کے لئے ایک وقت کی روٹی کا حصول محال ہوگیا۔ کچھ ناگزیر کرنے کیلئے ملکی کرتے دھرتے مکمل بے نیاز ہیں۔ سارا زور کراچی جیسے انتخابات اور نتائج حاصل کرنے پر ہے۔ جس کے دور رس ہی نہیں فوری نتائج (اللہ خیر) بھی تباہ کن ہوں گے۔ موجود صورتحال اس کی سیٹیاں بجا رہی ہے، لیکن سننے والا کوئی نہیں۔میرے کانوں میں تو سیٹیوں کا بہت شور ہے، خدارا ! ملکی واضح قومی آئینی اور بنیادی عوامی ضروریات پر توجہ کیلئے بھی اپنی موجد ٹائم بجٹنگ پر نظر ثانی کی جائے۔ وما علینا الالبلاغ۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم