کشمیر قدرتی طور پر تقسیم شدہ خوبصورت وادیوں کا مرقع ہے ، اقصائے تبت سے لے کر سری نگر تک ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے آپ ھنزہ ، گلگت بلتستان سے لداخ اور کارگل تک چلے جائیں ، مختلف زںان ، ثقافت اور خوبصورتی دیکھنے کو ملے گی ، شینا زبان کی تہذیب و تمدن اور زبان کا سلسلہ دریاؤں اور کہسار تک جاتا ہے ، کوہ ہمالیہ کا یہ سلسلہ اپنے دامن میں وادیوں اور جھیلوں میں ایک وسیع دامن ثقافت اور خوبصورتی رکھتا ہے، جہاں کے لوگ انتہائی پرامن اور معمولی کھیتی باڑی کے علاؤہ ثقافتی ورثہ کی بنیاد پر تھوڑے بہت کاروبار سے منسلک ہیں اور زیادہ تر کاروبار کا دارومدار صرف سیاحت ہے ، جہاں ہر سال لاکھوں افراد آتے جاتے ہیں اور لوگ اسی ذریعہ کاروبار سے اپنے گزر اوقات کے لیے کماتے ہیں ،
دوسری طرف میرپور سے لے کر جموں تک کا یہ سلسلہ بیرون ملک ملازمت ، چھوٹی چھوٹی زرعی پیداوار اور سب سے زیادہ اس سلسلے کا دارومدار بھی سیاحت پر ہے ، جموں کی کئی وادیوں میں ہندو یاتریوں کے ذریعے ہر سال مقامی افراد اپنے کاروبار سے جڑے رہتے ہیں ، دنیا بھر سے مذہبی اور ثقافتی ورثے کو دیکھنے اور لطف اندوز ھونے کے لیے آتے ہیں ، یہاں بھی تجارت اور ترقی کا بڑا ذریعہ سیاحت ہی ، بل کھاتے دریا ہوں کشن گنگا اور جمنا ہو ، سب کا بہتا پانی انسانیت کے لیے ھے کسی ھندو و مسلم کی اس پہ اجارہ داری نہیں ہے ، توی ، مینڈھر ، پیر پنجال کے سلسلے ، برف سے ڈھکی وادیاں ، قدرت کے کارنامے ہیں ، جس پر قبضہ گیر اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں ، آپ نے دیکھا نہیں حضرت ابراھیم خلیل اللہ ، اپنے پیارے بیٹے کو کس صحرا میں چھوڑ کر گئے اور اللہ نے پہلا بندو بست پانی کا کیا ، جو آج تک جاری و ساری اور پوری دنیا کے لئے سیرابی روح کا باعث بن گیا ، آپ کس طرح پہ پانی پر پابندی لگا سکتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کنوئیں خرید کر لوگوں کے لیے عام کر دیتے تھے ،
کشمیر کا تیسرا سلسلہ باغ کے مضافات سے لے کر پونچھ کی وادیوں تک پھیلا ہوا ہے جو کسی زمانے میں ریاست پونچھ ہؤا کرتی تھی یہاں کے کہ لوگوں کی تعلیم ، روزگار اور ترقی کا سفر پونچھ شہر سے جڑا ہوتا تھا جو تقسیم سے مختلف چیزوں میں بٹ گیا ہے ، لوگ روزگار کے حصول کے لیے مشرق وسطی اور دوسرے ممالک تک کام کرتے ہیں اور امن کی تلاش اور پُرسکون زندگی کے لیے واپس چلے آتے ہیں ، یہاں بھی مقامی لوگوں کی زندگی سیاحت سے جڑی ہوئی ہے ، بارود ، باہمی لڑائی اور خزانوں کی تلاش نے انسانیت کا سکون چھین لیا ھے ، ھمارے بزرگ پونچھ شہر تک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے ، آج یہ پونچھ بھی تقسیم اور بدامنی کے خوف سے روزگار ، سیاحت اور تجارت سے محروم ہے ،
تیسرا سب سے بڑا اور اہم سیاحتی مقامات پر مشتمل علاقہ مظفرآباد مانسہرہ سے لے کر سری نگر تک ان گنت وادیوں ،جھرنوں ، جھیلوں اور جنت نظیر علاقوں پر مشتمل علاقہ ھے ، جہاں مغل کارڈنز ، پہلگام ، کشتواڑ ، سری نگر ، روحانی مراکز مخصوص کشمیری لباس ، زبان اور تاریخ سے جڑے لوگ ہیں ، ایک سے بڑھ کر ایک وادی آپ کو جنت کا احساس دے گی اگرچیکہ آزاد کشمیر میں سیاحت ، سری نگر سے کم ھے لیکن بدستور اضافہ ھو رہا ھے ، زراعت ، مقامی ثقافتی کاروبار ، پھلوں کی پیداوار اور دیگر ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں ،سات لاکھ سے زائد فوج اور تین لاکھ دیگر سیکورٹی اہلکار ہر کشمیری کے سر پر کھڑے ہیں ، پانچ کشمیریوں پر ایک فوجی کے حساب سے خوف ، بندوق اور بارود موجود ہے ، اس خوف میں زراعت ، اور خصوصا سیاحت مکمل بیٹھ چکی ہے ، پہلگام واقعہ سے تو ہر طرف خوف کے سائے ہیں کیا ان لوگوں کو خطے میں موجود ایک ارب سے زائد ابادی کا بالکل خیال نہیں ؟
کس نے ان وادیوں کا امن چھینا ہے ؟ ھندوستان کی فوج نے انہی وادیوں میں آج سے نہیں 1931ء سے خون کی ہولی کھیلی ، مہاراجہ ہو یا ہندوستان کی سرکار ، آج تک لاکھوں افراد کی جانیں لے چکا ہے ، تقسیم کے بعد سرحد کی طرف دھکیلے جانے والے لاکھوں افراد کا قتل ہو یا وادی میں کشمیری نوجوانوں ،بچوں اور خواتین کا قتل عام ہو ، آج تک دس لاکھ سے زائد لوگ جانیں ، عزتیں اور روزگار قربان کر چکے ہیں ، اب کیا چائیے ؟ آر پار ، نہیں امن و کاروبار ، ترقی و خوشحالی کی ضرورت ہے ، جس میں سب سے بڑی ضرورت امن ہے ، پانی قدرتی چشموں سے بہتا ہے اور پہاڑ برف سے ڈھکے ہیں تو قدرت کا انمول عطیہ ہیں ، اجارہ داری نہیں پانی تقسیم سے ہی بڑھتا ہے ، بہتا ہے تو رہتا ہے ، پانی پر جنگ کرنی ہے تو پہلے پہاڑوں سے لڑنا پڑے گا ، ویری ناگ سے جنگ کرنی ہوگی ،
اصل جنگ تو عوام کے روزگار سے کی جا رہی ہے ، یہ 27 بندے مارے گئے لیکن 27 لاکھ لوگوں کا روزگار بند ہو گیا ، کیونکہ سب کا دارومدار سیاحت پر تھا ، ٹرانسپورٹ سے لے کر ھوٹل تک ، سڑک سے دکان تک ، ایک ریڑھی بان سے مزدور تک اسی انڈسٹری سے وابستہ ہیں ، بھارت براہ راست بھی کشمیری عوام کا قتل عام کر رہا ہے اور اس طرح کے جنگی ڈراموں سے کشمیر کی معیشت مکمل تباہ کر دی گئی ہے ، کشمیری عوام کو سوچنا چاہیے کہ اس سے کیسے نکلیں تقریبا 70 فیصد لوگوں کی معیشت اس انڈسٹری سے وابستہ ہے ، بس یہ سوچیں وہ کیا کریں گے ، کیا فرسٹریشن مزید عدم برداشت نہیں پیدا کرے گی ۔
134