کوئی23 برس پہلے کی بات ہے ۔پرویز مشرف نے جب مارشل لا لگایا تھا ،میں ان دنوں ایک ڈرامہ سیریل کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں برطانیہ گیا ہواتھا ۔میرے ساتھ ڈاکٹر شیر افگن خان کے بیٹے اور میانوالی سے پی ٹی آئی کے ایم این اے امجد علی خان کے چھوٹے بھائی مرحوم بیرم خان بھی تھے ۔مجھے پاکستان میں کوئی مسئلہ درپیش ہوا تومیں نے اوربیرم خان نے کچھ عرصہ برطانیہ میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔تقریباً چھ ماہ بعد بیرم خان واپس آ گئے مگر مجھے وہیں رہنا پڑ ا ۔ویز ہ چھ ماہ کا تھا سومیں نے وہاں کے محکمۂ داخلہ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ میں ابھی واپس پاکستان نہیں جا سکتا تو وہاں کےہوم آفس نے تھوڑے ہی عرصہ میں میرے پاسپورٹ پر انڈیفینیٹ ویزا چسپاں کردیا۔ مجھے بچوں کو پاکستان سے وہاں بلالینے کی اجازت بھی دے دی ۔ میں حیران ہوا تودوستوں نے بتایا ’’یہ تو دنیا بھرسے تمہارے جیسے لوگ ڈھونڈڈھونڈ کر اپنے ملک میں اکٹھاکرتے ہیں‘‘ ۔برطانیہ جس کی آبادی تقریباً چھ کروڑ ہے، اس میں صرف 45 فیصد انگریز ہیں یعنی 55 فیصد لوگوں کے آبا ئواجداد کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں۔کہتے ہیں یہی یورپ اور امریکہ کی کامیابی کا راز ہے کہ وہ دنیا سے اعلیٰ دماغوں کو تلاش کرکے اپنے پاس لے آتے ہیں ۔یہی دیکھئے کہ اس وقت کا برطانوی وزیر اعظم خاندانی طور پرگوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے۔ میرے دو بیٹے ہیں، صاحب منصور اور عادل منصور ،تقریباً اٹھارہ سال برطانیہ رہنے کے بعد میں جب واپس آیا تو میرے ساتھ میرا عادل منصوربھی پاکستان آ گیا اور الحمدللہ تین سال سے یہیں پاکستان میں کام کررہا ہے اور وہ اکثراپنے بھائی کو مشورہ دیتاہے کہ تم بھی واپس آجائو ۔ برطانیہ جتنا خوبصورت سہی ، وہاں جتنی سہولتیں سہی مگر اپنا وطن اپناہوتا ہے۔اس نے آج مجھے ایک انگریزی اخبارکی خبر فاروڈ کی ۔ خبر یہ تھی کہ موجودہ سال میں اس وقت تک سات لاکھ پینسٹھ ہزار افراد روزگار کی تلاش میں پاکستان چھوڑ گئے ۔ان میںنوے فیصد نوجوان جن میں5534انجینئرز، اٹھارہ ہزار ایسوسی ایٹ الیکٹریکل انجینئر، 2500ڈاکٹر، دوہزار کمپیوٹر ماہرین، چھ ہزار پانچ سو اکاؤنٹنٹس، دوہزار چھ سو زرعی ماہرین وغیرہ شامل تھے۔پچھلے سال تک ان کی تعداددو سوا دو لاکھ سے زیادہ نہیں تھی۔یقیناً یہ تشویش میں مبتلا کرنےوالے اعداد و شمار ہیں ۔اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو دماغوں کی یہ ہجرت (برین ڈرین) پاکستان کےلئے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عمران خان کی حکومت آئی تھی تو سینکڑوں دماغ یورپ اور امریکہ سے واپس پاکستان آئے تھے ۔افسوس کہ اب جن میں سے بہت سے واپس بھی جا چکے ہیں ۔اپنی پاکستان واپسی کا بھی قصہ سنا دوں۔ یہ اگست دوہزار سولہ کی بات ہے جب برطانیہ میں طاہر چوہدری اور صابر رضا نے’’جشنِ منصور آفاق ‘‘منایا، جس سے متعلق ڈاکٹر صغرا صدف نے اپنے کالم میں لکھا تھا، ’’اردو ٹائمز کی طرف سے جشنِ منصور آفاق مانچسٹر اور برمنگھم میں اس سال کا سب سے عظیم اجتماع تھا جس میں پاکستانی دنیا ئے صحافت اور ادب کے معتبر نام مجیب الرحمٰن شامی، سہیل وڑائچ، رؤف کلاسرا، ڈاکٹر سعادت سعید، آغا نثار، وفاقی وزیر امین الحسنات، ممبر نیشنل اسمبلی امجد علی خان، ممبر یورپین پارلیمنٹ سجاد کریم، صاحبزادہ فیاض الحسن، امجد شیخ، تنویر حسین ملک، صابر رضا اور احسان شاہد کے علاوہ برطانیہ اور یورپ بھر سے معروف شعراء اور ادبی دنیا کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی اور میانوالی کا منصور دنیا کے نقشے پر ایک نئے تعارف سے طلوع ہوا‘‘۔اس تقریب کے بعد مجیب الرحمٰن شامی نے مجھ سے کہا کہ’’ اب تم برطانیہ میں نہ رہنا، تم واپس چلو ،میں خود تمہیں لاہور میں لانچ کروں گا‘‘۔یوں پہلی بار میرے دماغ میں وطن واپسی کا خیال آیا اور پھر میں دوہزار سترہ کے آغاز میں پاکستان آ گیا۔یقیناً یہاں مجھے بہت مشکلات درپیش آئیں مگر مجیب الرحمٰن شامی ، شعیب بن عزیز ، ہارون الرشید ،سہیل وڑائچ اور حسن نثار جیسے دوستوں کی مہربانیوں سے سلسلہ آگے بڑھتا رہامگر پاکستان میں بگڑتے ہوئے معاشی مسائل ابھی تک مجھے پریشان کرتے رہتے ہیں ۔میں، جسے اتنا کچھ میسر ہے اگر یہ بات کہہ رہا ہوں تو دوسروں کےکیا حالات ہوں گے؟یہی سبب لوگوںکو مسلسل ہجرت پر مجبور کرتا رہا ۔ سو رواں سال پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی معاشی ہجرت ہوئی اورتقریباً سات آٹھ لاکھ افراد ملک چھوڑ گئے۔انجم خیالیؔ نے کہاتھا اذاں پہ قید نہیں، بندشِ نماز نہیں ہمارے پاس تو ہجرت کا بھی جواز نہیں بدلتا ہوا زمانہ ہجرتوں کے نت نئے جواز پیدا کرتا رہتا ہے ۔اس معاشی ہجرت میں سب سے اہم کردار آئی ایم ایف نے ادا کیاہےجس کے مسلسل دبائو کے باعث روپے کی قیمت کم ہوتی چلی گئی ۔ جب کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے تو باہر سے منگوائی جانے والی مشینری اور صنعتی خام مال مہنگا ہوجاتا ہے۔ پیدواری لاگت بڑھتی ہے تو صنعتیں بند ہونے لگتی ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً پچیس فیصد گریجویٹس روزگار سے محروم ہیں ۔ظلم کی آخری انتہا یہ ہے کہ ہمارے باطنی اور ظاہری حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ افراد کوملک سے باہر جاکر کام کرنا چاہئے کیونکہ وہ وہاں جا کر اپنے ملک کو زر مبادلہ بھیجتے ہیں جس سے ملک کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے۔پاکستان کی معیشت کو پچھلے سات آٹھ ماہ میں جس طرح تباہ کیا گیا ہے ،اس کی مثال نہیں ملتی۔ اللّٰہ تعالی اس ملک کو دیوالیہ ہونے سے محفوظ رکھے مگر ہم اس وقت جس ڈھلوان پر پائوں جمانے کی کوشش کررہے ہیں اس پر کھڑاہونا آسان نہیں۔ابھی ممکن ہے کہ ملک کو تباہی سے بچالیا جائے۔کہیں دیر نہ ہوجائے۔ کہیں دیر نہ ہوجائے۔
250