کیا آپ سزائے موت کے حق میں ہیں؟
اور اگر حق میں ہیں تو کیا اس کی بنیاد آپ کے
مذہبی اعتقادات ہیں
سیاسی نظریات ہیں
یا
سماجی روایات؟
سزائے موت کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں مختلف ممالک اور معاشروں میں قانونی مجرموں یا مذہبی گنہگاروں کو موت کی سزا دینے کے مختلف طریقے تھے
کہیں انہیں سنگسار کیا جاتا تھا
کہیں انہیں سولی پر چڑھا دیا جاتا تھا
کہیں ان کا سر قلم کر دیا جاتا تھا
کہیں انہیں مصلوب کیا جاتا تھا اور
کہیں انہیں بندوق کی گولی سے مارا جاتا تھا
یہ سزائیں تکلیف دہ سزائیں تھیں۔ پچھلی صدی سے موت کی سزا کے ایسے طریقے ایجاد ہوئے ہیں جس میں درد جتنا کم ہو اتنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اب بیہوشی کی دوا یا ٹیکہ لگا کر ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے۔
مختلف ممالک اور معاشروں میں جن گناہوں اور جرائم پر سزائے موت کا حکم صادر کیا جاتا ہے ان میں
دوسرے انسانوں کا قتل
دہشت پسندی
جنسی جرائم
مذہبی گناہ
بلاسفیمی
اور
غداری
جیسے جرائم شامل ہیں۔
دو ہزار بائیس میں ساری دنیا میں جن تین ممالک میں سب سے زیادہ سزائے موت کے احکام سنائے گئے ان میں
چین۔ ایک ہزار سے زیادہ
ایران میں پانچ سو چھہتر
سعودی عرب میں ایک سو چھیانوے
شامل ہیں۔
انسانی تاریخ کا ایک وہ دور تھا جب جیلوں کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لیے مجرموں اور قاتلوں سے عوام و خواص کو بچانے کا کوئی خاطر خواہ اہتمام نہ تھا۔ مجرموں کے پاؤں میں زنجیریں ڈال کر درخت سے باندھ دیا جاتا تھا اور پھر انہیں شہر کے چوراہے میں بر سر عام سولی پر لٹکا دیا جاتا تھا اور چند دن لاش کو لٹکتے رہنے دیا جاتا تھا تا کہ باقی لوگوں کو عبرت ہو۔
جب سے جیلیں بنی ہیں اب مجرموں کو قید میں رکھا جاتا ہے تا کہ لوگ ان کے مظالم سے بچے رہیں۔
جب سے ساری دنیا میں انسانی حقوق کی تحریکیں چلی ہیں اور اخلاقیات کا معیار بلند ہوا ہے اس وقت سے سزائے موت کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے اور ساری دنیا کے مہذب ممالک نے سزائے موت پر پابندی لگا دی ہے۔
انسانی حقوق کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ قوانین بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے ایک صدی کا مجرم دوسری صدی کا مجرم نہیں رہتا۔
وہ ایسے واقعات بھی سناتے ہیں کہ بہت سے ایسے قاتلوں کو سزائے موت دے دی گئی جو بعد میں ثابت ہوا کہ معصوم تھے کیونکہ اصل قاتل پکڑے گئے۔ لیکن پھر بہت دیر ہو چکی تھی۔
انسانی حقوق کے ماننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ بعض دفعہ سزائے موت آمرانہ دور حکومت میں سیاسی اور عسکری وجوہات کی بنا پر بھی دی جاتی ہے۔
ایک وہ زمانہ تھا جب ایسے مجرموں کو کالے پانی بھیج دیا جاتا تھا
پھر وہ دور آیا جب جیلوں میں مجرموں کی اصلاح کے لیے پروگرام بنائے گئے
امریکہ میں ایک مجرم جسے سزائے موت دینے کا فیصلہ کر دیا گیا تھا اس کا نام ٹوکی ولیمز تھا۔
ٹوکی نے جیل میں بیٹھ کر کتابیں لکھیں اور نوجوانوں کو تشدد اور گینگز کے جارحیت کے اعمال کے نتائج بتائے۔ ٹوکی نے جیل میں بیٹھ کر گینگز کو ایسی تقریریں کیں کہ وہ تشدد سے تائب ہو گئے۔ ٹوکی ولیمز نے قید سے معاشرے میں امن قائم کرنے کے اتنے اقدام کیے کہ ان کا نام امن کے نوبل انعام کے لیے پیش کیا گیا۔
انسانی ارتقا میں ہم سزائے موت کے دور سے بہت آگے نکل آئے ہیں۔ اسی لیے مہذب قوموں نے سزائے موت کی روایت کو چھوڑ کر انسانی حقوق کی روایت کو گلے لگا لیا ہے۔
پاکستان میں موت کی سزا اب بھی قانونی طور پر قائم ہے۔
میں پچیس سال پیشتر کینیڈا سے پاکستان گیا تھا تاکہ سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال مغل کا کوٹ لکھ پت جیل میں تفصیلی انٹرویو کر سکوں۔ جاوید اقبال مغل کو بھی ایک پاکستانی جج نے موت کی سزا سنائی تھی اور حکم دیا تھا کہ اسے مینار پاکستان کے سامنے سولی پر چڑھا کر سزائے موت دی جائے
اور اس کی لاش کو سو ٹکڑوں میں کاٹ کر تیزاب کے ڈبوں میں ڈالا جائے جن میں وہ بچوں کو ڈالا کرتا تھا۔
میں نے جاوید اقبال مغل، اس کے بھائی، ہمسائے اور سپریم کوٹ کے وکیل عابد حسن منٹو کے انٹرویو کے بعد ایک کتاب لکھی تھی جو پاکستان میں مشعل پبلشرز نے
اپنا قاتل
کے نام سے چھاپی تھی۔
جاوید اقبال مغل کی کہانی بھی آدھی حقیقت تھی آدھا فسانہ۔
ایک انسان دوست ماہر نفسیات اور لکھاری ہونے کی وجہ سے میرا موقف ہے کہ سزائے موت انسانیت کے تاریک دور کی نشانی ہے۔
چاہے اسے انسان انفرادی طور پر کریں یا اجتماعی طور پر
چاہے اسے مذہبی رہنما کریں یا سیاسی رہنما
چاہے اسے ایک بے قابو مشتعل ہجوم کرے یا
اس کا حکم ایک معزز و محترم و معتبر جج دے
قتل بہر حال قتل ہے
ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر انسان کی ’چاہے وہ ملزم و مجرم ہی کیوں نہ ہو‘ زندگی محفوظ ہو۔
اگر کوئی انسان
چاہے وہ عوام میں سے ہو یا خواص میں سے
کالا ہو یا گورا
عورت ہو یا مرد
امیر ہو یا غریب
سرمایہ دار ہو یا مزدور
سماجی کارکن ہو یا سیاسی رہنما
اگر وہ معاشرے کے لیے خطرہ بن چکا ہے تو ہمیں اسے عمر بھر کے لیے معاشرے سے علیحدہ کر دینے کا تو حق ہے تا کہ اس کی منفی سوچ اعمال اور اثرات سے معاشرہ محفوظ رہے
لیکن اس کی جان لینے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔
انسان انسانوں کی جان نہیں لے سکتے
انسان انسانوں کو قتل نہیں کر سکتے کیونکہ
ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے