پاکستان کو آزاد ہوئے76برس بیت چکے ہیں ،اس دوران پڑوسی ممالک سمیت دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے لیکن ہم وہیں کے وہیں ہیں، جہاں آزادی سے قبل تھے،بلکہ عوام کی حالت زار دور ِ غلامی سے بھی بدتر ہوگئی ہے۔ولی خان مرحوم کہا کرتے تھے کہ انگریز اگر مکھن ،دہی اوردودھ خود استعمال کرتا تھا تو کم از کم لسی اپنی رعایا کو دے دیا کرتاتھا ،موجودہ کالے انگریز(پاکستانی حکمرانوں )نے تو وہ لسی بھی چھین لی ہے ۔تمہید اس لئے باندھی ہے کہ وہی حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے پر بھنگڑے ڈال رہی ہے جس کے وزیر خزانہ نے مہینوں ہفتوں نہیں بلکہ چند روز قبل فرمایا تھا کہ پاکستان مخالف بیرونی قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان سری لنکا بن جائے، ہم آئی ایم ایف کی ہر بات نہیں مان سکتے۔جس پر ہم نے لکھا تھا ،یوں تو یہ بیان پڑھ کر سواد آ گیا لیکن کیا وزیر خزانہ واقعی سنجیدہ ہیں؟ یعنی کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت اقبال نے حضرت خوشحال خان خٹک کے متعلق کہا تھا،’’ حرف حق با شوخی رندانہ گفت‘‘، گویا جو بات دل میں آئے سود وزیاں سے بے نیاز وہ و ہی کہہ جاتے ہیں جو حق سچ ہو۔ جناب یہ یاد رکھیں ہم بھارت تو کیا اقتصادی طور پر بنگلہ دیش بھی نہیں کہ بقول فراز کسی کو آنکھ بھر کر دیکھ سکیں۔ آپ کی جماعت تو کیا پاکستان کی اقتدار پرست جماعتوں پر آج بھی جاگیر داروں،وڈیروں کاقبضہ ہے، جبکہ بھارت نے آزادی کے پہلے ہی روز تین سو ریاستوں کے نوابوں کو چلتا کیا، جبکہ ہم اس دوران ہر ہفتے نئے حکمران کو چلتا کرنے کا شوق پورا کرتے رہے۔ بھارت میں آج تک ایک دن کیلئے بھی مارشل لا نہیں لگ سکا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب ہمارے ہاں استحکام ہی آج تک نہیں آیاتو ہم کیوں کر مرحوم سلطان راہی کی طرح ’للکارے‘ مار کر داد پا سکتے ہیں۔اب ہمارے کالم کے اگلے دنوں ہی میں یہ خبر آپ کی نظر سے یقیناًگزرچکی ہوگی، جس کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، جس سے توقع ہے کہ جولائی کے وسط تک اس درخواست پر غور کیا جائے گا۔اگست 2022 میں 2019 کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت مشترکہ ساتویں اور آٹھ جائزوں کی تکمیل کے بعد سے، معیشت کو کئی بیرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ان مشکلات کے ساتھ ساتھ کچھ پالیسی غلطیوں بشمول زر مبادلہ مارکیٹ کے کام کرنے میں رکاوٹوں کی وجہ سےمعاشی ترقی رک گئی اور اشیائے ضروریہ سمیت مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ اب اس معاہدے میں بھی وہی روایتی باتیں ہیں کہ نیا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ حالیہ بیرونی مشکلات سے معیشت کو مستحکم کرنے، پاکستانی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کیلئے ملکی آمدنی کو بہتر بنانے اور محتاط اخراجات پر عمل درآمد کے ذریعے سماجی اور ترقیاتی اخراجات کیلئے جگہ بھی پیدا کرے گا۔آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے مستحکم پالیسی پر عمل درآمد کلیدی حیثیت رکھتا ہے، بشمول زیادہ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی دباؤ کو جذب کرنے کیلئے مارکیٹ کے تعین شدہ زر مبادلہ کی شرح اور اصلاحات پر مزید پیش رفت، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، موسمیاتی لچک کو فروغ دینے اور بہتر بنانے میں مدد کرنا شامل ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے سے توانائی کی اصلاحات یقینی بنائی جائیں گی۔اب جہاں تک توانائی کی بات ہے تو اس وقت کراچی کی یہ حالت ہے کہ یومیہ 12 گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ جاری ہے،راقم جس کچی آبادی سلطان آباد میں رہتاہے وہ ایم ٹی خان روڈ پر واقع ہے یہاں صبح ساڑھے نو بجے سے 12بجے تک ڈیڑھ سےساڑھے چار6،بجے سے 9اور رات گیارہ بجے سے ساڑھے12بجے تک کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ۔ستم یہ ہے کہ اس دوران گیس کی مکمل لوڈشیڈنگ بھی جاری رہتی ہے۔جماعت اسلامی سے لاکھ نظریاتی اختلاف سہی لیکن اس جماعت کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ وہ شہری مسائل پراحتجاج کے حوالے سے ہمیشہ صف اول میں رہی ہے،وہ جہاں عوام کو شاہراہوں پر لانے کا فن جانتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ سمیت ہر شہری مسئلےکو قانونی طور پر اجاگرکرنے اور قانونی جنگ لڑنے میں بھی پیش پیش ہے۔اب ایک طرف قیامت خیز گرمی دوسری طرف اتحادی حکومت ،جس میں شامل دو اتحادی توجو کچھ کررہےہیں شاید ہی ایسا مارشل لاادوار میں ہواہو،انہیں صرف اپنا ذاتی ،جماعتی اور مستقبل کی حکمرانی کیلئے ہر جائز وناجائز کرنے کی کھلی آزادی ہے،ایک جماعت ڈیلنگ کی اُستاد ہے تو دوسری جماعت کی اسٹریٹ پاورسے شہباز صاحب کی پروازمیں کوتاہی کےسواکچھ نظر ہی نہیں آرہا۔
214