لیہ کے سیاسی گدی نشین 302

لیہ کے سیاسی گدی نشین

2017میں (ن لیگ)کو ووٹ دینا حرام ہے کا فتویٰ دینے والے پیر آف سیال شریف مریدوں سمیت دوبارہ مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے،پنجاب میں اس وقت مزارات کی تعداد 598 ہے، ان میں 64 درباروں کے گدی نشین، متولی اور پیر آج بھی براہ راست سیاسی نظام میں حصہ دار ہیں۔ جو براہ راست انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، یہاں کے گدی نشین پہلی بار جنگ آزادی کے مجاہدین کو کچلنے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دست راست بنے اور ان گدی نشینوں نے انگریزوں کے حق میں فتویٰ دیے اور جنگ کو بغاوت قرار دیا اور انعام کے طور پر جاگیریں پائیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان گدی نشینوں کو انگریزوں نے نوآبادیاتی عہد کے پاور سٹرکچر میں شامل کیا اور کورٹ آف وارڈز کے ذریعے انھیں مستقل سیاسی طاقت دی گئی۔ یہی خاندان یونینسٹ پارٹی کو چھوڑ کر آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور اپنے مفادات کو پاکستان کی حمایت سے جوڑ دیا۔ان گدی نشین پیروں نے قومی جمہوری اور مارشل لاء کی سیاست میں مستقل طور پر اپنا وجود قائم کر لیا۔ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے تصور سے لے کر ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ میں اسلامائزیشن کے تصور کو رائج کرنے اور جنرل پرویز مشرف کے روشن خیال تصورات کی حمایت میں یہ گدی نشین پیش پیش رہے۔ قومی و صوبائی سیاست میں نمائندہ درباروں کے با اثر گدی نشین اور پیروں کے حلقہ جات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہاں شرح خواندگی تشویش ناک حد تک کم ہے۔ یہ دراصل ہندستان پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے برٹش پیر الائنس تھا جسے پنجاب تک پھیلایا گیا تھا۔ 29 مارچ 1849 ء میں دس سالہ سکھ حاکم سے بذریعہ معاہدہ انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا اور اس قبضے کے بعد یہاں پیروں کے ایک نئے طبقے کی پرورش کی گئی۔ برطانوی سرکار پنجاب میں شہری سیاست کو دیہی سیاست سے الگ رکھنے میں کامیاب ہوئی جس کے لیے انگریز کے وفادار پیروں نے بھر پور کردار نبھایا، پنجاب کے تمام بڑے پیر اور مزارات کے گدی نشین بڑے بڑے زمیندار و جاگیردار تھے۔ سرکاری مشینری کے ذریعے سے مُریدوں کو یہ ادراک کرایا گیا کہ پیر گورنر پنجاب یا ڈپٹی کمشنر تک رسائی رکھتا ہے تو اس سے عوامی سطح پر پیر کے رُعب و دبدبے میں اضافہ ہوتا۔۔ قومی سیاسی نظام کے تحت ان درباروں کو مذہبی طاقت فراہم کی گئی ہے تاکہ ملک پر استعماری نظام کے تسلط اور قومی ذہن اجتماعی سوچ و فکر اور جدوجہد سے عاری رکھ کر اجارہ دار طبقات کی تکونی طاقت برقرار رہے۔ضلع لیہ بھی ان بدقسمت اضلاع میں شامل ہے جہاں قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر گدی نشینوں کا قبضہ ہے،جبکہ لیہ کی شہری نشست پر بھی ایک پیر نے اپنے قبضے کی بنیاد رکھ دی ہے مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے ورکروں کو سنا اور ان سے سوال کیا کہ لیہ کی شہری اور مرکزی نشست پر ملک شکور سواگ کے بعد مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے صوبائی اسمبلی کی نشست کیوں نکل گئی؟ تو مسلم لیگ ن کے ورکروں کا کہنا تھا کہ یہاں آپ نے ایم این اے کا ٹکٹ جس گدی نشین کو دے رکھا ہے وہ پارٹی مفادات کو نہیں دیکھتا وہ ذاتی مفادات کو دیکھتا ہے اس لئے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ وہ کسی کو لینے نہیں دیتا،مگر اس بار لیہ کی صوبائی نشست پی پی 282پر جن افراد نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کیلئے مرکزی قیادت کو درخواستیں جمع کرائی ہیں ان میں اسامہ اصغر گجر, عابد انوار علوی،مہر طفیل لوہانچ،مہر اعجاز احمد اچلانہ،سیٹھ اسلم شامل ہیں،بات جب میرٹ کی ہو تو عابد انوار علوی اور مہر طفیل لوہانچ ایک طویل عرصہ سے عوامی حلقوں میں مقبول ہیں،مگر یہاں ن لیگ کا ایم این اے کا امیدوار ماضی کی روایت کی طرح ”اُتے سید تے تلے سید“کی خواہش رکھتا ہے اس کے پیچھے کہانی یہ ہے کہ چھوٹا سید چونکہ عوامی حلقوں میں اب ”پٹ“چکا ہے تو بڑے سید کی خواہش ہے کہ اس کی شکست کی صورت میں چونکہ ایم این اے میں بن جاؤں گا تو صوبائی فنڈز بھی میرے ہاتھ میں رہیں گے،کیونکہ چھوٹا سید جیت نہیں سکے گا اور جو امیدوار بھی بنے گا اس کا تعلق ن لیگ سے نہیں ہوگا اس طرح ”گلیاں سنجیاں ہوجان گیاں تے وچ مرزا یار پھرے گا“اگر چھوٹے سید کی بات کی جائے تو اس کی جیت بھی ملک نیاز احمد جکھڑ کی وجہ سے ممکن ہوئی،چھوٹے سید نے 2018کے الیکشن میں ملک نیاز احمد جکھڑ کو ایک ووٹ بھی نہیں ڈلوایا،2018کے الیکشن میں بھی اس کا ووٹ بڑے سید کو پڑا کیونکہ اس کی اپنی یونین کونسل لیہ تھل جنڈی سے ملک نیاز احمد جکھڑ ہار گئے تھے،15پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں ملک نیاز احمد جکھڑ کا فیصلہ کن کردار ہوتا ہے اور یہی 15پولنگ اسٹیشن کسی امید وار کی جیت اور شکست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،1997سے لیکر آج تک لیہ کی شہری نشست پر اگر مسلم لیگ ن کا کوئی امیدوار پارٹی ٹکٹ لینے میں ناکام رہا تو وہ یہاں کا ”سیاسی سید“تھا جس نے نہ تو عابد انوار علوی جیسے ورکر کو سامنے آنے دیا اور نہ ہی مسلم لیگ ن سے وفاداریاں رکھنے والے کسی سیاست دان کو ٹکٹ لینے دیا،اسی طرح کروڑ کے قومی اسمبلی کے حلقہ میں ایک گدی نشین نے ملک احمد علی اولکھ کو ٹکٹ نہیں لینے دیا اور ذاتی فیصلہ سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،ملک عبدالشکور سواگ جیسے ورکر کی جیت بھی لیہ کے دو گدی نشین ایم این اے کی وجہ سے شکست میں بدلی،کیونکہ لیہ کے گدی نشین کے حلقہ میں ملک شکور سواگ کے جو پولنگ اسٹیشن آتے ہیں ان پر لیہ کا گدی نشین اپنے من پسند امیدوار کی حمایت کرتا ہے اور جو پولنگ اسٹیشن کروڑ کے گدی نشین کے حلقہ میں آتے ہیں وہ ان پر ملک شکور کے مد مقابل امیدوار کی حمایت کرتا ہے اب پھر وہ ایک ”نو دولتیئے“کو ملک شکور کے حلقہ میں ٹکٹ دلوانے کا خواہشمند ہے۔

بشکریہ اردو کالمز