مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم این اے کے امیدوار ثقلین شاہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ دوستوں کا ووٹ بنک میری پاکٹ میں ہے،ورنہ کون نہیں جانتا ان دوستوں کی قربانیوں کو جن کا تعلق سید ثقلین شاہ بخاری سے برسوں پرانا ہے کہ جنہوں نے ہر دور میں ثقلین شاہ کیلئےقربانیاں دیں مخالفتیں مول لیں ڈور ٹو ڈور ووٹ مانگے،اب وہ دوست سید ثقلین شاہ کے دوست نہیں کیونکہ جب نئے یارملتے ہیں پرانے بھول جاتے ہیں اب ان کے ساتھ ایسے افراد کا ساتھ ہے جو ذاتی مفادات کیلئے اقتدار کے دنوں میں اپنے کام خوب نکلواتے ہیں اگلی صفوں میں ہوتے ہیں جب ثقلین شاہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو وہ فصلی بٹیرے کسی اور کی مٹھی میں ہوتےہیں اب ایک ایسے شخص کیلئے پینگیں بڑھائی جارہی ہیں جس نے 2018کے الیکشن میں باقاعدہ مہم چلائی کہ میں ایم این اے کا الیکشن سید ثقلین شاہ کو ہرانے کیلئے لڑ رہا ہوں اور اندر خانے اس ڈیل کا سہرا رحیم یار خان کے میاں منیر جو مریم صفدر کے سمدھی ہیں کے سر جاتا ہے،تاہم شا ہ جی سے اتنا کہنا ہے کہ کسی بھی کھیل میں پٹے ہوئے مہروں کا مقدرجیت نہیں شکست ہوتی ہے،جس نے کوئی پارٹی نہیں چھوڑی سید ثقلین شاہ حلقہ پی پی 282میں پارٹی اور ایک نودولتیئے کے مد مقابل امیدواروں کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ سرائیکی ووٹ بنک تو میرے ساتھ ہے لیکن دیکھو میں نے ایک پنجابی کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور قیادت کو وہ باور کرائے گا کہ میں نے پیپلز پارٹی کے ایم این اے کے امیدوار کو اپنے ساتھ ملا کر پارٹی کے ووٹ بنک کو مضبوط کیا ہے جبکہ لیہ شہر میں پنجابی امیدوار کا ہونا ضروری ہے،اس طرح لیہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کا بیڑا غرق کرنے میں دوسرا کردار مہر اعجاز اچلانہ ہے جس نے اپنی ضد اور انا کی خاطر مہر طفیل لوہانچ اور عابد انوار علوی جیسے عوام میں جڑیں رکھنے والے افراد کی ٹکٹ کی جنگ لڑنےاور مضبوط کرنے کے بجائے اپنے پیٹ پر ہاتھ مارا ہے،اور ایک خبر یہ ہے کہ سید ثقلین بخاری نے اعجاز احمد اچلانہ کے مد مقابل کوٹ سلطان کے حلقہ میں اپنے بھائی کو اتارنے کا ٖفیصلہ کیا ہے اگر سید ثقلین شاہ ایساکرتے ہیں تومہراعجاز اچلانہ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے،لیہ شہر پر اپنا حق جتانے والوں سے اتنی درخواست ہے کہ عوام کوایک امپورٹڈ امیدوار کی جھولی میں پھینک کر لیہ کے عوام کا استحصال نہ کریں کیونکہ لیہ کی عوام کا خون پہلے ہی امپورٹڈ افراد ایم پی اے بن کر بہت چوس چکے ہیں،جو سیاست تو لیہ میں کرتے ہیں لیکن جب کو ئی ان کا مرتا ہے تو اسے دفنانے کیلئے اپنے اس علاقے کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کا مستقل ٹھکانہ ہےجہاں سے یہ ہجرت کرکے لیہ کے عوام پر حکمرانی کرنے آئے یعنی لیہ کی مٹی اتنی ناپسندیدہ کہ اس میں وہ کسی اپنے کو دفن کرنا بھی توہین سمجھتے ہیں اب لیہ کے عوام پر نیا امپورٹڈ مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،مہر اعجاز اچلانہ کا نہ یہاں ووٹ بنک ہے اور نہ ہی کو ئی سرکردہ شہری شخصیت اس کی سپورٹ کرنے کو تیار ہے،ملک نور نبی جکھڑ کو دستبردار کراکر ملک نیاز احمد جکھڑ پہلے ہی اس شخص کو بہت مضبوط کر کے کوٹ سلطان کے عوام کا بیڑہ غرق کر چکے ہیں،جس شخص کی تعلیم بھی واجبی سی ہے اور حلقہ کے مسائل کا بھی اسے علم نہیں جبکہ اس کا اپنا ایم این اے بھی اس کے خلاف ہے وہ کیسے جیت سکے گا؟ یہ سوال شہر کےمسلم لیگی حلقوں سے بھی پوچھنا ہے،سید ثقلین شاہ کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں اس نے کبھی وننگ ہارس پر ہاتھ نہیں رکھا وہ چاہتا ہے کہ میں جس پر ہاتھ رکھوں وہ امیدوار جیت نہ سکے اور میں اس کے فنڈز پر اپنے ہاتھ صاف کر سکوں،اس بار سید ثقلین شاہ نے وہی رستہ چنا ہے جو صاحبزادہ فیض الحسن چنتے رہے ہیں،چوہدری اشفاق احمد کا ووٹ بنک اب اپنی یونین کونسل میں بھی نہیں رہا،لیہ کی سیاست میں سیاست دانوں کی قلابازیاں ہمیشہ دیکھنے کو ملتی ہیں،بہادر خان سیہڑ نے چوہدری الطاف کے بعد اطہر مقبول کو سپورٹ کیا اور 2018کے الیکشن میں احمد علی اولکھ ان کو پسند آگیا،صاحبزادہ فیض الحسن نے ملک شکور کے مد مقابل فیاض سکھیرا کو استعمال کیا،اور اب عباس بھٹی ان کا منظور نظر ہے،ملک نیاز احمد جکھڑ نے بھی یہی کیا کبھی چوہدری اصغر گجر تو کبھی سید رفاقت گیلانی ان کو راس آیا
273