میری اُلجھن زمان یا زمانۂ ماضی سے ہے اور نہ زمان یا زمانۂ مستقبل سے۔ مجھے آپ کی مدد درکار ہے زمان یا زمانۂ حال کو سمجھانے میں۔ مجھے الفاظ زمان یا زمانۂ مشکل محسوس ہوتے ہیں۔ انگریز اور انگریز سے ہماری دشمنی اپنی جگہ قائم اور دائم ہے مگر میں دیرینہ دشمن کی اچھی باتوں کو اپنانے سے گریز نہیں کرتا۔ انگریز اور انگریزی سے ہماری دشمنی بے مطلب، بے معنی نہیں ہے۔ ہم ہندوستان کے مالک تھے۔ ہندوستان پر ہماری حکومت تھی انگریز نے ہندوستان ہم سے چھینا تھا۔ انگریز نے ہندو سے ہندوستان نہیں چھینا تھا۔ ہم نے دبنگ طور طریقوں سے لگاتار پانچ سو برس ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ انگریز نے ہندوستان ہم سے چھینا تھا۔ ایسے مکار دیرینہ دشمن کو ہم کبھی نہیں بھلا سکتے اور قیامت تک ایسے دشمن کو کبھی معاف نہیں کرسکتے۔ انگریز کی ہم سے نیچ دشمنی کا اندازہ آپ تاریخی حقائق سے لگا سکتے ہیں کہ جب ہندوستان پر حکومت کے بوجھ نے انگریز کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی، تب ہندوستان سے دستبردار ہوتے ہوئے ہندوستان کی باگ ڈور ہمارے حوالے نہیں کی۔ انگریز نے ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور پھر یہاں سے چلتا بنا۔انگریز کی تہذیب و تمدن، رہن سہن سے متاثر لوگ انگریز کو بری الذمہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے کارن کچھ اور تھے۔ کارن چاہے کچھ بھی ہوں، اصولی طور پر انگریز نے ہم مسلمانوں سے ہندوستان چھینا تھا، لہٰذا ہندوستان سے دستبردار ہوتے ہوئے ہندوستان ہمارے حوالے کرجاتے۔ عالمگیر آئین کے مطابق جو ملک آپ فتح کرلیتے ہیں، وہ آپ کا ملک مانا جاتا ہے۔ ہندوستان فتح کرنے سے چار پانچ سو برس پہلے ہم نے اسپین فتح کیا تھا۔ اسپین پر ہم نے ساڑھے سات سو برس حکومت کی تھی۔ مقامی مہم جوئی اور دوبدو جنگ و جدل کے نتیجے میں ہمیں اسپین کو الوداع کہنا پڑا تھا۔ تب ہم نے ،انگریز کی طرح جس نے جاتے ہوئے ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے تھے، اسپین کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے تھے۔ بستر گول کرکے ہم وہاں سے نکل پڑے تھے۔ یہ تاریخی نکتہ دھیان طلب ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے انگریز کو مفلوج اور کنگال کرکے رکھ دیا تھا۔ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، سوائے اس کے کہ وہ ہندوستان پر حکومت سے دستبردار ہوجائے۔ بڑی کڑوی حقیقت ہے کہ ہندوستان کی حکومت انگریز نے ہم مسلمانوں سے چھینی تھی مگر انگریز کے خلاف مسلسل بغاوت اور تحریکیں ہندو نے چلائی تھیں۔ مہم جوئی ہندو نے کی تھی، جاتے ہوئے انگریز نے ہندوستان کی حکومت ہندو کے حوالے کرنے کی بجائے ہندوستان کے ٹکڑے کردیئے۔ مگر اسپین میں ہم مسلمانوں نے ایسا کام نہیں کیا۔ انخلا کے دوران ہم نے اسپین کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے تھے۔ یہ باتیں جو میں آپ سے شیئر کر رہا ہوں، میری اپنی بنائی ہوئی کہانیاں نہیں ہیں۔ دنیا بھر کی تاریخیں ان حقائق سے لبریز ہیں۔ ہم چونکہ تاریخ کے دشمن ہیں، اس لئے ہم نےاپنی تاریخ سے کڑوی کسیلی حقیقتیں نکال دی ہیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ ہم ماضی کے گودام میں ہیرا پھیری نہیں کرسکتے۔ ہم ماضی کی حکایات میں ترمیم نہیں کرسکتے بلکہ کوئی بھی بہہ جانے والے پانی کو سمندر سے نکال کر واپس نہیں لا سکتا۔
بے تکی باتیں ہم اسلئے کر رہے ہیں تاکہ خبیث کو اسکا حق دے سکیں۔ انگریزی محاورے Give Devil his due کے مطابق خبیث کو اس کا حق ملنا چاہئے۔ اب ہم بھی ماضی، حال اور مستقبل کیساتھ الفاظ زمان یا زمانۂ استعمال نہیں کرتے۔ اس بات نے ہمارے بنیادی تجسس کو آسان کردیا ہے۔ اب ہم آسانی سے تین الفاظ ماضی، حال اور مستقبل کی چھان بین نہیں کرسکتے۔ یہ تو طے ہے کہ ہم ماضی، حال اور مستقبل کے معنی اور مطلب سے بخوبی واقف ہیں لہٰذا اب ہم تینوں الفاظ کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے بعد اپنے تجسس کا ذکر کریں گے۔ ہمیں فزکس اور کیمسٹری کے کسی فارمولے یعنی ضابطہ اور دستور کی کھوج لگانی نہیں ہے۔ ہمیں تصدیق کرنی ہے کہ آیا ماضی، حال اور مستقبل دراصل ہیں بھی یا محض مفروضہ ہیں۔ ان تین الفاظ ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے ہم ایک لفظ کی تشریح کرسکتے ہیں۔ وہ لفظ مکمل مفہوم کا حامل ہے۔ اور وہ لفظ ہے ماضی۔ کسی کو بھی ماضی کے بارے میں ابہام دکھائی نہیں دیتا۔ ماضی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ روز اول سے آج تک جو کچھ بھی روئے زمین پر ہوتا رہا ہے، وہ سب کچھ ماضی میں محفوظ ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح روز آخر تک چلتا رہے گا۔ اس حقیقت کا منکر آپ کو کسی جنم میں نہیں ملے گا۔ جو آج تک ہوتا رہا ہے، وہ ماضی میں محفوظ ہے۔ ہر واقعہ، ہر حادثہ، ہر گھٹنا وقوع پذیر ہونے والا ہر ماجرا ماضی میں موجود ہے۔ آپ اس میں کسی قسم کی ترمیم یا ایڈیٹنگ نہیں کرسکتے، یہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ مستقبل تب سے ہے جب سے ماضی ہے۔ مستقبل کے بارے میں وثوق اور مکمل یقین سے کوئی نہیں بتا سکتا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ مگر آپ اعتماد کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ گزرے ہوئے کل میں کیا ہوا تھا۔ وہ اس لئے کہ گزرا ہوا کل ماضی میں محفوظ ہوچکا ہوتا ہے۔ ہم سب مانتے ہیں کہ موت اٹل ہے۔ مگر ہمیں لے جانے کے لئے موت کب آئے گی، کوئی نہیں جانتا اور نہ جان سکتا ہے۔ انسان ہونے کے ناطے آپ کی آگہی کی حدود مقرر ہیں۔ سرحدیں متعین ہیں۔ قیاس آرائی، خیال آرائی اور اندازوں کو کبھی بھی مستقبل کی آگاہی سے منسوب کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ منہ کی کھانی پڑتی ہے۔حال کے بارے میں اگلے منگل کے روز ہم چھان بین کریں گے۔