مہمان کالم - ’’ مال گاڑی میں امانتیں‘‘ ’’ مال گاڑی میں امانتیں‘‘

 ڈاکٹر محمد سلیم شیخ

بھلایہ بھی کوئی نام ہوا۔’’مال گاڑی میںامانتیں‘‘۔ مجھے اس کتاب کے نام نے چونکا دیاتھا ۔کتاب کے عنوان کے نیچے ذیلی عنوان تھا ۔’’ خود نوشت‘‘۔اب میری دلچسپی بڑھ گئی ۔مجھے ہمیشہ سوانحی کتابیں پسند ہیں ۔جب کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ یہ تو سوانح کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے اور دستاویز بھی وہ جو قیام پاکستان کے قیامت خیز وقت کی دشواریوں ،مشکلات اور مصائب کے دوران ایک با ہمت شخص کی تکمیل عہد کی پر عزم روداد کو سمیٹے ہوئے ہے۔ قلم فائو نڈیشن لاہور کے عبد الستار عاصم صاحب اور اطراف کے محمود شام مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس روداد عزیمت کو کتابی شکل میں محفوظ کیا اور شائع کیا ۔بظاہر تو یہ ایک شخص کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی روداد ہے مگر اس کی اہمیت محض یہ نہیں ہے ۔اس کی اہمیت اس وقت اور ان حالات کے سبب ہے جن میں یہ ذمہ داری ادا کی جارہی تھی ۔ 3جون 1947 ء کو جب تقسیم ہندوستان کا اعلان ہوا اور اس کے لئے 15 اگست کی حتمی تاریخ بھی طے کردی گئی تو ایک مملکت کی حکومتی تشکیل اور اس کے انتظامی ڈھانچے کو کھڑا کرنے کے لئے جو ضروری اقدامات کئے جانے تھے اس کے لئے وقت بہت کم تھا۔ ڈھائی ماہ کے قلیل عرصے میں اس عظیم تقسیم سے پیدا شدہ معاملات اور مسائل سے نمٹنا ایک کوہ گراں کو سر پر اٹھانے کے مترادف تھا ۔ جسے ایک جوش و جنوں کے ساتھ بخوشی اٹھالیا گیا ۔تقسیم کے دیگر معاملات کے ساتھ ایک اہم معاملہ جو اس پر خطر دورانئے کا حصہ بنا وہ ان سرکاری اہلکاروں کے دفتری اور گھریلو سامان کی منتقلی سے متعلق تھا جوپاکستان آنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ تقسیم کا یہ مرحلہ انتہائی قیامت خیز تھا ۔ہندو مسلم فسادات شروع ہوچکے تھے ، لوٹ مار،گاڑیاں جلادینا،قتل ،اغوا اور اسی نوعیت کے بے شمار واقعات جو تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں،رونما ہورہے تھے۔ایسے میں منتقلی کا عمل خواہ وہ سامان کا ہویا انسانوں کا پر خطر ہو گیا تھا۔ چوہدری محمد اسماعیل ،جو ایک سرکاری ٹھیکیدار ( Government Contractor ) تھے ۔ انہوں نے اپنی اس پیشہ ورانہ ذمہ داری کو، جو انہیں سرکاری عمال کے سامان کی دہلی سے کراچی منتقلی کی دی گئی تھی ، انتہائی مشکل حالات میں کس طرح ایک قومی فرض سمجھ کرنبھایا،یہی اس کتاب کا بیانیہ ہے ۔ 15 جولائی 1947 ء سے ستمبر ء 1947 کے دورانئے میں اس مشن میں چوہدری محمد اسماعیل کو کن حالات سے گزرنا پڑا ، کیا کیا قربانیاں دیں ،گھر لٹا ماں کی شہادت ہوئی اور مالی نقصانات برداشت کئے ان سب کی ایک مختصر روداد کو ان کے لائق بیٹے محمد حنیف بندھانی ، ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ ،نے قابل احترام سینئرصحافی جناب محمود شام کی تحریک پر اس کتاب میں پیش کیا ہے۔اس کاوش کی اہم ترین بات ان دستاویزات کی موجودگی ہے جو اس سارے کام کے دوران برطانوی ،بھارتی اور پاکستان حکومتوں کے مابین مراسلت ،معاہدات اور رقوم کی ادائیگی کی رسیدوں کی شکل میں محفوظ رکھی گئیںاور جنہیں اب اس کتاب کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ محمود شام کے تعارفی کلمات ،الطاف حسن قریشی،ڈاکٹر جعفر احمد اور سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی جانب سے اس کتاب کی تحسین نے اس کی اہمیت کو مذید بڑھادیا ہے۔محمود شام کی تاریخ پاکستان سے گہری دلچسپی اور کھوجی طبیعت انہیں حنیف بندھانی ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ تک لے گئی ۔وہ لکھتے ہیں : ان ہی دنوںجناب حنیف بندھانی سے رابطہ ہو ا اور جب ہمیں علم ہوا کہ ان کے عظیم والد چوہدری محمد اسماعیل نے قیام پاکستان کے حوالے سے ایک اہم ذمہ داری بھی ادا کی تھی اوراس سے متعلقہ بہت ساری دستاویزات اور خطوط ان کے پاس محفوظ ہیں تو ہماری دلچسپی بڑھ گئی اور ہم نے ان سے عرض کی کہ ان کو پہلے تو دستبرد زمانہ اور ماہ و سال کی گرد سے محفوظ کیا جائے ۔پھر انہیں ترتیب دے کر ایک قومی دستاویز کی شکل میں قوم کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ نئی نسل تک یہ پیغام پہنچے کہ پاکستان نے کس کرب میں جنم لیا اور سرکاری افسروںکی امانتیں کس ماحول میں کس انداز میں ایک صدیوں پرانی راجدھانی سے ایک نوزائیدہ ملک کے بالکل نئے سرے سے قائم ہونے والے دارالحکومت میں پہنچیں۔بلاشبہ محمود شام اپنی اس کوشش میں کامیاب رہے ہیں ۔ ’یہ کتاب ایک زندہ جاوید فرد کی سوانح ہونے سے زیادہ ہجرت،تعمیر وطن اور قومی وقار کے مظاہر کی ایک ایسی داستان ہے جس سے آج کی نسل بہت کچھ سیکھ سکتی ہے ۔’ مال گاڑی میں امانتیں ‘ بظاہر ایک تاریخی و سوانحی کتاب ہے ،لیکن در حقیقت یہ ایک قومی شعور اور اجتماعی حافظے کی بازیافت ہے۔‘ یہ خراج تحسین الطاف حسن قریشی کا ہے جو خود ایک نامور صحافی اور سچے پاکستانی ہیں ۔اس کتاب کا ایک اور پہلو بہت دلچسپ اور کسی حد تک حیران کردینے والا ہے جس کی طرف الطاف حسن قریشی نے توجہ دلائی ہے ۔ ان کے مطابق : ’اس تصنیف کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مصنف نے اپنے والد کی خدمات کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اس دور کی انسان دوستی ،بین المذاہب ہم آہنگی اور اخلاقی اقدار کی ایک روح پرور جھلک بھی دکھائی ہے۔ وائسرائے ہند کی طرف سے ایک عام ملازم کی تیمارداری ،دوا کی فراہمی اور مسلسل نگرانی محض ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ اس دور کی انسان دوستی کا ایک آئینہ ہے۔‘ اس پر آشوب دور میں اس طرح کی مثالیںاگرچہ استثنائی ہیں مگر گہرے اثرات کی حامل ہیں۔ اس کتاب میں اسکندر مرزا کے حوالے سے بھی ایک اہم واقعہ موجود ہے ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے تناظر میں اسکندر مرزا کے کردارکو کبھی بھی قابل تحسین نہیں سمجھا گیا مگر اس کتاب میں ٹھیکیدار چوہدری محمد اسماعیل کی زبانی جو واقعہ بیان ہواہے وہ اسکندر مرزا کے حسن اخلاق اور مالیاتی نیک نیتی کا مظہر ہے ۔ ہوا یوں کہ جب افسران کا سامان منتقل کرنے کے لئے وزن کیا جارہا تھا تو اسکند مرزا کا سامان ان کی کتابوں کے وزن کی وجہ سے مجاز استحقاق سے زائد نکلا اور اس کے لئے انہیں پانچ ہزار روپئے ادا کرنے تھے جو اس وقت ان کے پاس نہیں تھے ۔انہوںنے چوہدری محمد اسماعیل سے قرض لے کر اس کی ادائیگی کی۔ کافی عرصے کے بعد چوہدری اسماعیل جب رقم کی واپسی کے لئے اسکندر مرزا سے ملے تو اسکندر مرزا نے نہ صرف انہیں ان کی رقم واپس کردی بلکہ پوری تکریم کے ساتھ ان سے ملاقات بھی کی ۔مالیاتی دیانت اور ذاتی اخلاق کی یہ مثالیںآج کے سیاسی قائدین کے لئے بھی مشعل راہ ہوسکتی ہیں اگر وہ انہیں اختیار کرنا چاہیں۔ کتاب میں شامل دستاویزات اس بات کی متقاضی ہیں کہ انہیں سرکاری سطح پر محفوظ کیا جائے ۔ تاکہ تاریخ کے طالبعلم ان سے استفادہ کرسکیں اور جان سکیں پاکستان کے ان گمنام کرداروں کی قربانی، جذبہ ء ایثار اور فرض کی ادائیگی کی اعلی ترین مثالوں کو جن کا کہیں ذکر نہیں مگر ان کی اہمیت کم نہیں۔ ا ٹھتر سال سے ان دستاویزات کی حفاظت چوہدری محمد اسماعیل اور ان کے بیٹے حنیف بندھانی نے کی ہے اب یہ ذمہ داری حکومتی اداروں کی ہے ۔ وہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائیں۔یہی اس کتاب کا کا مدعا بھی ہے ۔

بشکریہ روزنامہ آج