مگر ہم ایسے نہیں! 215

مگر ہم ایسے نہیں!

اپنے سیالکوٹی ڈاکٹر شعیب سڈل کا شمار دنیا کے ماہر ترین پولیس افسران میں ہوتا ہے ۔ شعیب سڈل کی شہرت پاکستان ہی میں نہیں، کئی دوسرے ممالک میں بھی ہے۔ وہ اپنی سخت گیری کے حوالے سے مشہور ہیں۔

ڈاکٹر شعیب سڈل نے ایک روز بتایا کہ ’’یہ نوے کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے، راولپنڈی میں پولیس کا ایک عالمی سطح کا سیمینار منعقد ہوا۔ دنیا کے کئی ممالک سے پولیس افسران اس سیمینار میں شریک ہوئے، دن بھر سیمینار میں شریک ہونے والے افسران رات کو ڈنر پر اکٹھے تھے۔ راولپنڈی کے ڈی آئی جی اور جاپانی پولیس چیف ایک میز پر بیٹھ گئے، عموماً جیسے ہوتا ہے کہ لوگ کھانے پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں، ہمارے پاکستانی ڈی آئی جی پولیس نے جاپانی پولیس چیف سے پوچھا، آپ لوگوں پر سیاسی دباؤ نہیں ہوتا؟ جاپانی پولیس چیف نے سوچنا شروع کر دیا، وہ سوچتا رہا، اپنے ذہن میں برس ہا برس کی مسافتیں طے کرتا رہا اور پھر بولا،’’جی ہاں‘‘ ایک بار 1963ء میں پولیس پر سیاسی دباؤ آیا تھا، 1963ء میں برطانوی وزیر خارجہ جاپان کے دورے پر آئے، وہ ایک دن کیلئے اوساکا شہر چلے گئے، اس سے اگلے دن ان کی جاپانی وزیراعظم سے ملاقات تھی، وہ اوساکا سے ٹوکیو آرہے تھے، راستے میں ٹریفک جام ہو گئی، جب ٹریفک جام ہوئی تو پروٹوکول افسروں نے جاپانی پولیس چیف سے درخواست کی کہ پولیس کوئی بندوبست کرے، برطانوی وزیر خارجہ کو ٹوکیو پہنچائے۔ پروٹوکول افسروں نے ملاقات کی اہمیت بتاتے ہوئے پولیس چیف سے کہا کہ برطانوی وزیر خارجہ کی جاپانی وزیراعظم سے ملاقات بہت ضروری ہے اور وقت بہت محدود ہے کیونکہ جاپان کے وزیراعظم ایک گھنٹے بعد چین کے دورے پر روانہ ہو جائیں گے۔ پولیس چیف نے پروٹوکول افسروں کی بات سنی اور معذرت کر لی، اس کے بعد جاپانی وزیراعظم نے پولیس چیف سے خود درخواست کی کہ برطانوی وزیر خارجہ کو ٹوکیو پہنچانے کی کوئی ترکیب نکالیں۔ ہمارے پولیس چیف نے کہا کہ ہمارے پاس کسی بھی وی آئی پی شخصیت کو ٹریفک سے نکالنے کا کوئی بندوبست نہیں۔ ظاہر ہے اس انکار کے بعد اس ملاقات کو منسوخ ہونا ہی تھا، یہ ملاقات منسوخ ہو گئی، اس وجہ سے جاپان اور برطانیہ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی‘‘۔

جاپانی پولیس چیف یہ کہہ کر خاموش ہو گئے مگر ہمارے ڈی آئی جی بے چین ہو گئے، اسی بے چینی میں انہوں نے جاپانی پولیس چیف سے پوچھا، اس کے بعد کیا ہوا؟ جاپانی پولیس چیف نے ہمارے ڈی آئی جی کی طرف دیکھا، مسکرائے اور کہنے لگے’’اس کے بعد کیا ہونا تھا، یہ خبر اخبارات کی زینت بن گئی۔ لوگوں نے اپنے وزیر اعظم کے رویے پر شدید احتجاج کیا، اس احتجاج کے بعد جاپانی وزیراعظم کو قوم اور پولیس دونوں سے معافی مانگنا پڑی‘‘۔ جاپانی پولیس چیف جیسے جیسے واقعہ کی پرتیں کھول رہے تھے ہمارے ڈی آئی جی کی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ڈی آئی جی سے رہا نہ گیا، اس نے اپنی بے چینی کے خاتمے کے لئے جاپانی پولیس چیف سے پوچھا، اگر پولیس چیف کے انکار سے وزیراعظم برا منا جاتے تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا؟ جاپانی پولیس چیف مسکرائے اور کہنے لگے’’پہلی بات تو یہ ہے کہ جاپانی وزیراعظم کبھی پولیس چیف کے ساتھ کشیدگی پیدا نہ کرتا لیکن اگر آپ کے سوال کو پیش نظر رکھا جائے اور تصور کر لیا جائے کہ ان کے درمیان کشیدگی ہو جاتی تو اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا، وزیراعظم کو استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑتا‘‘۔ اب ہمارے ڈی آئی جی کا رنگ فق ہو گیا، اس نے حیرت سے پوچھا، کیا جاپان میں پولیس چیف اتنا طاقتور ہوتا ہے؟ اس سوال پر جاپانی پولیس چیف ہنسا اور کہنے لگا ’’نہیں! ہمارے ملک کا قانون، انصاف اور سلامتی کا نظام ایسا ہے کہ ہم نے پولیس عوام کی حفاظت کے لئے بنائی ہوئی ہے، پروٹوکول ڈیوٹیاں دینے کے لئے نہیں۔ ہمارے ملک کا ہر شہری جانتا ہے کہ اگر پولیس چیف اور وزیراعظم میں کشیدگی ہو جائے تو اس میں قصور وزیراعظم ہی کا تصور ہوتا، لہٰذا استعفیٰ وزیراعظم ہی کو دینا پڑتا‘‘۔

یہ واقعہ جاپان کے مضبوط انتظامی ڈھانچے کی دلیل ہے مگر ہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں کیونکہ ہمارے افسران حکمرانوں کی چاپلوسیاں کرتے ہیں۔ اگر افسران بات نہ مانیں تو ہمارے حکمران انہیں نوکریوں سے فارغ کر دیتے ہیں کیونکہ ہم ایسے ہیں ہی نہیں۔ مجھے اپنے نظام کی بے بسی پر محسن نقوی کا شعر یاد آ رہا ہے

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن

دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

بشکریہ ڈان ںیوز