موجودہ حکومت کو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ بااختیار اور طاقتور حکومت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ،تحریک انصاف کے دورحکومت کے ساڑھے تین سال نکال دیئے جائیں تو ملکی تاریخ کی باقی جمہوری مدت میں برسراقتدار رہنے والی سیاسی طاقتیں آج یکجا ہو کر ملک کے اقتدار پر براجمان ہیں ،اس کے باوجود جب سے اس طاقتور اور تجربہ کار سیاسی اتحاد نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملکی حالات دن بدن گراوٹ کا شکار ہوتے جارہے ہیں ،ایسا نہیں ہے کہ تحریک انصاف کا ساڑھے تین سالہ دور حکومت مثالی یا قابل ستائش تھا ،مگر ایک اکثریتی سیاسی جماعت سے حکومت چھین کر اقتدار سنبھالنے والا طاقتور اور تجربہ کار سیاسی اتحاد بھی ملکی حالات کا سنبھالا دینے میں سراسر ناکام ہو چکا ہے ،دوسری جانب عوامی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والی نوخیز سیاسی طاقت تحریک انصاف بھی ملکی حالات میں بہتری کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی ، جبکہ ملکی معیشت کی تباہی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ آج عوام دو وقت کی روٹی کیلئے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں،ملک کو اس نہج پر پہنچانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟سیاستدانوں کو مورود الزام ٹھہرائیں تو وہ اس کا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈالتے آ رہے ہیں اور کبھی عدلیہ پر انگلیاں اٹھادیتے ہیں اور جب اور کچھ نہیں بن پڑتا تو سیاسی مخالفین کو مسائل کی بنیاد ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ،عوام آج بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حقیقت کیا ہے ؟
دیکھا جائے تو ملکی سیاست کروٹ لینے کے عمل سے گزر رہی ہے ،موجودہ حکمران اتحاد مکمل طور پر ماضی بعید کی جملہ سیاسی طاقتوں کا مظہر ہے جبکہ اس کے مد مقابل تحریک انصاف ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرچکی ہے ،موجودہ حکمران اتحاد میں شامل بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی نسبت تحریک انصاف میں نوجوان نسل کی شمولیت اور دلچسپی بھی بہت زیادہ نظر آرہی ہے ،گویا کہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکمران اتحاد روایتی سیاست کا آئینہ دار ہے جبکہ اس کے مقابل تحریک انصاف نئی نسل کی سیاست کا سرچشمہ بن چکی ہے ،سیاسی میدان میں تحریک انصاف کا مقابلہ بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے اور آنے والا وقت اسی جماعت کا نظر آ رہا ہے ،اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ حکمران اتحاد نے اپنی ضرورت ، کم فہمی یا خوف کے باعث خود اس وقت پیدا کردی تھی جب تحریک انصاف کی حکومت کو باقی ماندہ ڈیڑھ سال پورے نہیں کرنے دیئے گئے اور اقتدار چھین لیا گیا ،اگر تحریک انصاف کی حکومت کو باقی ماندہ مدت پوری کرنے دی جاتی تو اسے ہر گز عوام میں ریکارڈ ساز مقبولیت حاصل نہ ہو پاتی اور روایتی سیاسی جماعتوں کی الیکشن میں کچھ عزت بچ جاتی ،مگر اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مارنے کی ایک یادگار مثال قائم کرکے دکھائی گئی ۔
تحریک انصاف کی حکومت گرانے سے لیکر آج تک ملکی معیشت مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ملکی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ،اس کے ساتھ ہی موجودہ حکمران اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کی سیاست کا بھی بیڑہ غرق ہوتا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکمران اتحاد انتخابات کرانے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے جس کے باعث نہ صرف سیاسی خلفشار بڑھتا جا رہا ہے بلکہ معاشی بحران اب افراتفری اور انتشار کا سبب بنتا جارہا ہے ،حساس ترین ملکی اداروں کا وقار بری طرح سے پامال کیا جارہا ہے ،سیاسی گندگی کا کیچڑ فوج کے بعد اب عدلیہ پر بھی بلا خوف و خطر اچھالا جارہا ہے اور حالات کو سوچے سمجھے طریقے سے بدترین کیا جارہا ہے ،حکمران اتحاد کی جانب سے تین رکنی بنچ کا بائیکاٹ اوربلا جواز اعتراضات نے عدلیہ کو بھی اس سیاسی بحران میں مکمل طور پر لپیٹ لیا ہے ،دوسری جانب قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے سے لیکر صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل تک تحریک انصاف کے عاقبت نا اندیش فیصلوں نے بھی ان بحرانوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے ،انہی غلطیوں کے باعث نہ صرف انتخابات کا انعقاد غیر یقینی کا شکار ہوچکا ہے بلکہ انتخابات کی شفافیت اور قبولیت پر بھی قبل از وقت ہی سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں ۔
سیاسی برتری کے اس مقابلے میں سیاستدان اپنی تمام تر صلاحیتیں ،تجربے اور توانائیاں صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں،ایک دوسرے بڑھتے چڑھتے سیاسی حربے ،الٹتے پلٹتے بیانات اور حدود وقیود سے نکلتے الزامات نے ملکی سیاست کو ایک ایسی ڈرامائی شکل دیدی ہے کہ ٹی وی کے ناظرین کی دلچسپی فلموں ،ڈراموں اور مارننگ شو کی نسبت خبرناموں اور ٹاک شو میں بڑھ چکی ہے ،مین سٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ،تمام سکرینوں کا پیٹ سیاسی حالات و واقعات سے ہی بھرا جارہا ہے ،حکمران طبقے سے لیکر سیاسی جماعتوں ،بالخصوص میڈیا اور سول سوسائٹی عوامی مسائل اور بدترین ملکی حالات سے حیرت انگیز طور پر صرف نظر کرتے دکھائی دے رہے ہیں ،معاشی تباہی کی صورتحال یہ ہے کہ ملکی حقیقی معنوں میں ڈیفالٹ کرچکا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ،مہنگائی نے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اس قدر بلند کردی ہیں کہ غریب اور مڈل کلاس ہی نہیں بلکہ صاحب حیثیت طبقہ بھی بدحالی کا شکار ہو چکا ہے ،دو ہزار روپے کیلئے پائوں تلے روندے جانے والی خواتین ، بچے اور آٹے کی لائن میں مرتے غریب عوام ملکی بدحالی کی ایک دلخراش منظر کشی کر رہے ہیں ،عوام کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کیس فل کورٹ بینچ سنے یا تین رکنی بینچ،از خود نوٹس چیف جسٹس لے یا تین رکنی کمیٹی ،انتخابات جلدی ہوں گے یا ان میں تاخیر ہو گی ،عوام کو تو اس معاشی بدحالی سے نکالنے کیلئے توجہ کی ضرورت ہے اور یہی عوام کا بنیادی حق بھی ہے
414