کچھ ہی ہفتے پہلے کی بات ہے، ایک دوست ملنے آئے۔ ان کے ہاتھ میں نیا آئی فون تھا اور بہت خوش نظر آرہے تھے۔ مجھے آئی فون دکھایا اور اس کی خوبیاں بیان کرنے لگے۔ پوچھا ، کتنے کا لیا۔ جواب میں ہاتھ کا پنجہ پھیلا دیا۔ میں نے کہا ، اچھا، پانچ لاکھ کا لیا ہے۔ کہنے لگے نہیں، پانچ سو روپے کا۔ ارے آپ مذاق کر رہے ہیں، میں نے ہنس کر کہا بولے نہیں، مذاق نہیں، سچ کہہ رہا ہوں، پانچ سو میں پڑا ہے۔ میں حیرت سے ان کا منہ دیکھنے لگا۔ بولے، اچھا، پورا ماجرا بتاتا ہوں۔ اسلام آباد میں ایک دوست ہیں، انہوں نے مجھے تحفے میں بھیجا ہے۔ جو کورئیر والا لے کر آیا، اسے میں نے 500 روپے کا نوٹ دیا کہ یہ تمہاری چائے سموسے کیلئے ہے۔ یوں مجھے یہ 500 روپے ہی میں پڑا۔
اسے مبارک دی۔ اور سوچا تحفے دینے والے ایسے بھی ہوتے ہیں۔ ابھی پھر کل ایسا ہی معاملہ سامنے آیا۔ حکومت نے ایک محترم صاحب کو پی آئی اے گفٹ پیک میں ڈال کر ہدیہ کر دی۔ ہدیہ وصول کرنے والے نے کورئیر لانے والی محترمہ کو، جو اس کیس میں خود حکومت ہی تھی ، چائے سموسے کیلئے ایک سو پچیس روپے دان کر دئیے۔ محترمہ بھی خوش، محترم بھی خوش۔ معاف کیجئے گا، اوپر ایک سو پچیس روپے لکھ د ئیے، ارب کا لفظ لکھنا بھول گیا، خیر ایک ہی بات ہے۔
تحفے تحائف دینا وضعدار لوگوں کی نشانی ہے۔ موجودہ حکومت کی وضعداری کے تو کیا ہی کہنے۔ حکومت کو مبارکباد کا وٹس ایپ کرنا چاہتا تھا، پھر سوچا وہ تو چائے سموسے میں لگی ہو گی، ’’ڈسٹرب‘‘ کرنا مناسب نہیں۔ ویسے بھی آج کل اچھے اچھے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو رہے ہیں، میں کس کھیت کی مولی ہوں۔
____
لیکن کیا کیجئے، کچھ لوگوں کی عقل پر کہرے کا پہرا ہوتا ہے۔ اب پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری منظور احمد ہی کو دیکھ لیجئے۔ اس وارداتِ الفت پر بھی تیر چلانے سے باز نہیں آئے۔ فرمایا ہے، یہ تو بہت بڑا سکینڈل ہے، یہ حکومت کے گلے پڑے گا۔ پی آئی اے کے تو اثاثوں ہی کی مالیت ہزاروں ارب روپے ہے۔ جہازوں کی قیمت الگ ہے، اور یہ کہ ابھی حال ہی میں پی آئی اے نے 25 ارب کا منافع کمایا ہے۔
دیکھا آپ نے کیسا بیان دے ڈالا۔ کوئی ان سے پوچھے معاملات الفت و مروت میں سکینڈل کہاں سے آ گیا۔ ارے بھائی یہ دلوں کے سودے ہیں، اور دلوں کے سودے میں مال کی قیمت نہیں دیکھی جاتی۔ ویسے بھی محاورہ حساب دوستاں در دل کا ہے، حساب دوستاں ’’نیب‘‘ نہیں اور رہی منافعے کی بات تو:
تم اسے کہہ لو حساب دوستاں در دل در فضا
ہم نے اپنا نفع بھی لوح زیاں پر لکھ دیا
____
سکینڈل گلے پڑنے کی بھی خوب کہی۔ وہ اور ہوتے ہیں جن کے گلے کچھ پڑ جاتا ہے۔ اور وہ اور جو خود گلے پڑ جاتے ہیں۔
چودھری صاحب کو یاد نہیں کہ کچھ زیادہ مہینے پرانی بات نہیں، گندم چینی والے محبان کرام کی نذر چار ہزار ارب روپے کر دئیے گئے تھے۔ کسی کے ’’گلے‘‘ کچھ پڑا۔؟
____
گلے پڑنے کی بات سے ایک اور بات یاد آ گئی۔ جن لوگوں نے سولر پینل لگوائے تھے، سب نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی آنے پر پچھتا رہے ہیں اور رو رہے ہیں کہ ہم نے تو حکومت کے کہنے پر، حکومت کی حوصلہ افزائی پر یہ پینل لگوائے تھے کہ بلوں میں بچت ہو گی، تو توانائی کے بحران حل کرنے میں ہمارا حصہ بھی آ جائے گا لیکن یہ پینل تو سزا بن گیا، بلوں میں کیا کمی ہوتی، اس کا جرمانہ بھرنا پڑ رہا ہے، پہلے سے زیادہ بل آ رہے ہیں۔
کوئی عقل کے ان کمزور نظروں سے پوچھے کہ حکومت اگر کہے دریا میں کود جائو تو کود جائو گے؟۔ سولر پینل لگوانے سے پہلے سوچا ہوتا ، سہانے شیخ چلّی والے خواب نہ دیکھے ہوتے تو آج یہ دن کاہے کو دیکھنے پڑتے۔ اسے کہتے ہیں خود کردہ راعلاج نیست۔ اور خرید و سولر پینل، ہور ’’چوپو‘‘ گنّے۔
____
لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل الحدّاد ترکی سے واپسی کے سفر میں جہاز گرنے سے 4 ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے۔ ان کی حکومت لیبیا کے شمال مغربی علاقے پر محیط تھی اور اسی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، یہ شہادت بظاہر سادہ معاملہ نہیں ہے، بوئے سازش دور سے آ رہی ہے۔
لیبیا ایک ملک نہیں رہا، سات حکومتوں میں بٹا ہوا ہے۔ جنرل الحداد کی حکومت کے پاس 20 فیصد رقبہ ہے جو اہمیت کے لحاظ سے بہت آگے ہے۔ اس کا دارالحکومت تریپولی (طرابلس) ہے، تیل کے ذخائر ، کارخانے ، بہت سے اہم شہر اسی علاقے میں ہیں، یہ حکومت مسلم لیبی قوم پرست حکومت سمجھی جاتی ہے۔
لگ بھگ 35 فیصد رقبہ اسرائیل اور امارات کے لے پالک جنرل ہفتار کے پاس ہے۔ اس کا تعلق اس ’’مافیا‘‘ سے ہے جو سوڈان سے لے کر لیبیا تک مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بناتا ہے۔
جنوب مغرب میں ایک ٹکڑے پر ’’جہادیوں‘‘ کی حکمرانی ہے۔ باقی چار ’’ریاستیں‘‘ وہ ہیں جنہیں مقامی قبائلیوں کے جرگے چلا رہے ہیں۔
لیبیا ماضی بعید میں پاکستان کا دوست تھا، پھر دشمن بن گیا، کرنل قذافی نے آخری سانس تک پاکستان سے دشمنی نبھائی۔ اب الحداد شہید کی حکومت بیک وقت پاکستان اور ترکی کے قریب آ رہی تھی، دونوں سے دوستی اور سٹریٹجک تعاون کے معاہدے ہو رہے تھے کہ یہ خبر آ گئی۔ کچھ مزید پردے اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!
____
اڈیالہ کے باہر پی ٹی آئی کا منگل میلہ اجڑ گیا۔ کل رات اتنے کم لوگ تھے کہ آبی توپ خانے کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، ہمشیرگان کی زیر قیادت جمایا جانے والا دھرنا خود ہی بدلے موسم کے تیور دیکھ کر حرکت میں آیا اور گرم خواب گاہوں کی طرف روانہ ہو گیا۔انقلابی بخارات پہلے برف کی ڈلیوں میں ڈھلے پھر پگھل کر بہتے ہوئے پاس کے نالے سے جا ملے۔
309