امریکہ سے خبر آئی ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت کچھ اور کم ہو گئی اور کم ہو کر 39 فیصد رہ گئی ہے۔ کچھ زیادہ انوکھی بات نہیں، برسراقتدار آنے کے کچھ عرصے بعد ہر امریکی صدر کی مقبولیت میں کمی ہو جاتی ہے، ٹرمپ کی ذرا زیادہ کم ہو گئی اور زیادہ کمی کی وجہ ٹرمپ کے یوٹرن ہیں۔ بہت سے عالمی اور داخلی معاملات میں انہوں نے اتنے یوٹرن لئے ہیں کہ لوگ ان کو ٹرمپ کے بجائے ٹرمپ TRUNMP کہنے لگے ہیں، ’’یو‘‘ کا لاحقہ لگ جائے تو بنا نام اور بھی اسم بامسمٰی ہو جائے یعنی یوٹرمپ۔
لیکن اصل خبر یہ نہیں ہے، اصل خبر کچھ اور ہے اور وہ بہت بڑی خبر ہے۔ وہ یہ ہے کہ پون صدی کے بعد امریکہ پر یہودیوں کا تسلط اب کمزور پڑ رہا ہے۔ امریکی رائے عامہ میں یہودیوں سے ہمدردی اور ان کی حمایت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ خود صدر یوٹرمپ کا ایک بیان دو تین روز پہلے آیا جس پر یہودی تلملا اٹھے ہوں گے۔ امریکہ میں یہودیوں کے ا یک تہوار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہودیوں کی حمایت پہلے جیسی نہیں رہی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں سب سے طاقتور لابی یہودیوں کی تھی لیکن اب یہ یہودی لابی کمزور پڑنے لگی ہے نیز یہ کہ کانگرس میں بھی یہود مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں اس لئے وہ محتاط رہیں۔ یعنی سازشیں کم کر دیں اور اسرائیل کو بھی بتائیں کہ غزہ اور فلسطین والوں کا قتل عام کم کر دیں۔ ٹرمپ نے حقیقت سے پردہ دراصل اسرائیل کی حمایت ہی میں اٹھایا ہے کہ باز آئواور بچے رہو۔
یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، غزہ میں قتل عام کے نتیجے ہی میں ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں یہود مخالف جذبات بڑھے ہیں اور بڑھ رہے ہیں۔ لگ بھگ وہی کیفیت ہے جو صدی بھر پہلے تک دنیا، بالخصوص یورپ میں تھی۔ قرآن پاک میں کیا ارشاد فرمایا گیا ہے، یہی کہ یہود پر قیامت تک کیلئے ذلت اور مسکنت طاری کر دی گئی، سوائے بیج بیج میں آنے والے وقفوں کے اور انہی وقفوں میں سے ایک وقفہ وہ تھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے آیا اور یہودی اسے مستقل فتح سمجھ بیٹھے۔ عالمگیر نفرت کا دائرہ بڑھا تو مزید یہودی اپنے اڈے چھوڑ کر اسرائیل بھاگیں گے۔
اہم بات یہ بھی ہوئی کہ امریکہ اور برطانیہ کے بڑے بڑے میڈیا گروپ بھی یہود نواز پالیسی میں کچھ کمی لانے پر مجبور ہو گئے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا یہود نواز گروپ سکائی نیوز ہے، بہتوں کے خیال میں سی این این لیکن اصل میں تو سب سے بڑا یہود نواز اڈہ تو بی بی سی ہے۔ وہ کیسی صحافت کرتا رہا ہے؟۔ کوئی فلسطینی کسی یہودی کو چاقو مار دے تو بی بی سی کی لیڈ سٹوری ہوتی ہے، مسلح چاقو بردار فلسطینی نے نہتے اسرائیلی آباد کار پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ دن دہاڑے ہونے والے اس حملے میں نہتا اسرائیلی بری طرح گھائل ہو گیا اور اگر اسرائیلی فوجی فائرنگ کر کے 50 نمازیوں کو شہید کر دیں تو بی بی سی کی چھوٹی سی خبر ہوتی ہے کہ یروشلم میں جھڑپ، 50 افراد ہلاک۔ خبر کے متن میں پھر یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے کہ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والے فلسطینی تھے اور ان کا تعلق کسی شدت پسند تحریک سے تھا۔
اب صورتحال میں کچھ بدلائو یہ آیا ہے کہ فلسطینیوں کی مظلومی بھی امریکی میڈیا میں آنے لگی ہے اور اسرائیل مخالف مظاہروں کی خبریں بھی چھپنے لگی ہیں۔
اسرائیل کی جان امریکی طوطے میں تھی۔ یہ طوطا اب پنجرہ توڑنے کی فکر میں ہے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ بھارت کو نیا طوطا بنا لے۔ مشکل ہو تو امارات کو بنا لے۔ ایک ہی بات ہے۔
_____
یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ روس سے گیس اور تیل کی خریداری بند کر دی جائے گی اور اس تجارت کا 2027ء کے آخر تک مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔
روس کیلئے یہ خبر سوویت یونین کے خاتمے سے بھی بڑی اور بری خبر ہے۔ صدر پیوتن نے اس کا غصہ نکالنے کیلئے ’’تاریخی‘‘ بیان دیا۔ کہا کہ یورپی ممالک کے سربراہ خنزیر ہیں۔
چند لفظی اور مبنی برحقیقت تبصرہ اس بیان پر کچھ کچھ یوں کیا جا سکتا ہے :۔ ولی را ولی می شناسد والی صورتحال ہے
_____
روس بہت پرانا ملک نہیں ہے۔ چند صدی پہلے تک کوئی روس تھا نہ روسی قوم۔ ’’ماسکووی‘‘ نامی قصبے کے گرد قبائل کو متحد کر کے ایک ریاست بنائی گئی جس نے مشرق کے وسیع ممالک، سائبر یا اور یاکوتیا جیسے بڑے علاقوں کو ہڑپ کیا، پھر ایشیا اور یورپ کے کئی علاقے ہتھیا لئے۔ ان سب علاقوں کے لوگ کمزور اور نہتے اور آبادی میں کم تھے۔ ’’ماسکووی‘‘ بعدازاں ماسکو بن گیا۔
ملکوں سے جنگ کی باری آئی تو جاپان سے لے کر فرانس تک، ہر ملک سے روس نے شکست کھائی اور بڑی بھاری اور کراری شکست کھائی۔ سوویت یونین ختم ہوا تو 14 ممالک اس کے تسلط سے نکل گئے لیکن سائبریا، یاکوتیا، داغستان اور چیچنیا جیسے درجنوں چھوٹے اور کمزور ملک آج بھی اس کے قبضے میں ہیں اور آزادی کیلئے بے قرار ہیں۔
ہاں، روس کی فوج دوسری جنگ عظیم میں ضرور فاتحانہ برلن میں داخل ہوئی لیکن یہ فتح ایک سو ایک فیصد امریکی فتح کی بدولت ہوئی۔ امریکہ نہ ہوتا تو ماسکو جرمنی کا کوئی صوبائی دارالحکومت ہوتا۔
روس پوری تاریخ میں بہتوں کے قتل عام میں چیمپئن رہا ہے۔ حال ہی میں مسلمانوں کا بہت بڑا قتل عام کر کے شام سے جوتے چھوڑ کر بھاگا۔ چین اور شمالی کوریا مدد نہ کرتے تو یوکرائن جیسے چھوٹے ملک سے بھی مار کھا کر زخم سہلا رہا ہوتا۔
_____
مرشد کے صاحبزادے جنوری میں لندن سے پاکستان آ رہے ہیں ، عقیدت مند خوش ہوں کہ آ کر بڑے بڑے جلسے کریں گے۔
انہیں پتہ نہیں کہ مرشد زادے برطانوی شہری کے طور پر ویزا لے کر پاکستان آئیں گے اور ان کا سفر والد صاحب سے ملاقات تک محدود ہو گا۔ یہ ملاقات کہاں ہو گی۔ اڈیالے میں:۔
خبریں ہیں کہ شاید یہ ملاقات ساہیوال میں ہو گی۔ جب مرشد زادے پاکستان آئیں گے تب تک مرشد کا ’’تبادلہ‘‘ ہو چکا ہو گا۔
352