مودی کا دورۂ امریکہ؟ 194

مودی کا دورۂ امریکہ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)

صدر بائیڈن نے انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی بات کرتے ہوئے بھارت کو تجارت اور موسمی تبدیلیوں کے علاوہ وہ حساس ٹیکنالوجی ،جو اس نے سوائے اسرائیل اور انگلینڈ کے آج تک کسی کو نہیں دی ،آج انڈیا کو پیش کی جارہی ہے ،فائٹر یا جیٹ طیاروں کے انجن بنانے کی ٹیکنالوجی اور اس کے ساتھ نیوکلیئر ٹیکنالوجی، اس سلسلے میں ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کے معاہدے پر دستخط، ایک اور معاہدے میں کمپیوٹر کی مائیکروچپس بنانے والی کمپنی مائیکرون اپنے ٹیسٹنگ اور اسیمبلنگ پلانٹس کیلئے بھاری سرمایہ کاری کرئیگی۔بائیڈن انتظامیہ چاہتی ہے کہ مینوفیکچرزکا چین پر انحصار کم ہوتے ہوئے یہ روابط انڈیا کی طرف منتقل ہوتے چلے جائیں ،بھارت تیزی سے خلائی طاقت بننے بھی جارہا ہے خلائی تعاون کے معاہدے آرٹیمس کے تحت دونوں ممالک آئندہ برس خلا میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن قائم کرنے کیلئے مشترکہ مشن بھیجیں گے، QUAD یا چار ملکی اتحاد کے ممالک کا بھی خصوصی تذکرہ ہوا۔ امریکی،انڈیا کوآسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا جیسی ہی اہمیت دے رہے ہیں جن کا گھیرا چائینہ کے گرد تنگ ہورہا ہے جبکہ زمینی طور پر سرحدیں صرف انڈیا کی ملتی ہیں اور وہاں تنازعات بھی ہیں جن پر جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں لیکن اس وقت اصل ترجیح اکانومی کے حوالے سے ہے۔ یہ تعاون محض مضبوط اکانومی یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہے گا امریکہ آنیوالے ادوار میں لانگ ٹرم ریلیشن کے تحت چاہے گا کہ یواین کی سیکورٹی کونسل میں انڈیا کو مستقل ممبر بننے کیلئے بھی معاونت فراہم کرے اور یہ تعاون نیٹوپلس کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے، اگرچہ وائٹ ہاؤس کا یہ کہنا ہے کہ پرائم منسٹر مودی کے دورۂ امریکہ کا چین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے چین کو کوئی پیغام بھیجا جارہا ہے، مودی بائیڈن ملاقات کے بعد جاری ہونے والے طویل اعلامیے میں اگرچہ چین کا نام تو نہیں لیا گیا مگر دہشتگردی بالخصوص ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، ڈرونز انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے اور اتحادی ممالک کے درمیان طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری کو مستحکم بنانے کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کا نام لے کر تنقید کی گئی ہے ۔مشتر کہ اعلامیہ میں امریکہ اور بھارت نے عالمی دہشت گردی اور ہر نوع کی انتہا پسندی کی یک زبان ہوکر مذمت کرتے ہوئے متحد ہوکر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے FATF سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیلئے رقوم کے استعمال کو روکنے کی خاطراقدامات مزید تیز کرے، طالبان سے بھی طے شدہ شرائط پر عمل پیرا ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ افغانستان ایک پرامن ملک بن سکے۔ پاکستان میں ظاہر ہے اس چیز کو ہر دو حوالوں سے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا گیا ہے ایک تو اس پس منظر میں کہ پاکستان اپنے تئیں روزِ اول سے امریکہ کا اتحادی چلا آرہا ہے،جبکہ پنڈت نہرو کی مخصوص سوشلسٹ اپروچ کے زیراثر انڈیا سویت یونین کے بہت قریب خیال کیاجاتا تھا یا اس نے مصری صدر جمال عبدالناصر کے ساتھ مل کر نان الائین موومنٹ کی بنیادیں استوار کی تھیں پاکستان اس وقت بغداد پیکٹ سیٹو اور سینٹو میں باضابطہ شمولیت اختیار کرکےخود کو امریکہ کا اہم اتحادی خیال کرتا تھا ۔ہمیںپارٹیشن کے ساتھ ہی جن دفاعی خدشات نے گھیر لیا تھا اُن کا لوڈ اٹھانے کی ہماری سکیم ہی یہ تھی کہ ہم مغربی اتحادی بن کر خدمات سرانجام دیں اور بدلے میں ثمرات سمیٹیں،ہم امریکہ و مغربی طاقتوں کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے میں پیش پیش رہے اور بدلے میں خدمات کے حجم سے بڑھ کر بھاری معاوضہ وصول کرتے رہے یہ کوئی برابر کی دوستی یا اصولوں کی جدوجہد نہیں تھی محض مفادات کی گیم تھی جس میں ہماری طرف سے دوہری تہری بے اصولیاں بھی ہوئیں انہوں نے ہمیں جو معاشی و فوجی امداد اس شرط کے ساتھ دی کہ اس کا استعمال محض سوویت جبر کے خلاف ہوگا انڈین جمہوریت کے خلاف ہرگز نہیں ہوگا ۔یہ تلخ حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنے کا ہم میں حوصلہ ہونا چاہئے۔صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی کہ بھارت امریکہ اعلامیہ گمراہ کن ہے یا یہ بیان سفارتی اصولوں کے منافی ہے اور یہ کہ ٹیررازم کے بیج بونے میں واشنگٹن کا کردار ہے اور ہم اس کی قیمت چکارہے ہیں، اب ہمیں ڈالرز ملنا بندہوگئے ہیں تو چائینہ سے دوستی بڑھا رہے ہیں ۔ حالت ہماری یہ ہے کہ ہم لعنتیں بھی امریکیوں پربھیجتے ہیں اور ملک چلانے کیلئے مرہون منت بھی IMF کے ہیں، جب امریکیوں نے ہمیں جمہوری تسلیم کرتے ہوئے جمہوری ممالک کی کانفرس میں مدعو کیا تھا تو ہم کس کے کہنے پر نہیں گئے تھے ؟ ہماری خارجہ پالیسی کے ذمہ داران کو کبھی سوچناچاہئے اوراپنی خارجہ پالیسی میں موجودسقم کی درستی کا اہتمام کرلینا چاہئے۔ہمیں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنی دشمنیوں کو دوستیوں میں بدلنا ہوگا۔

بشکریہ ڈان ںیوز