موت سے پہلے آخری تحفہ 153

موت سے پہلے آخری تحفہ

آج میری کینیڈین مریضہ جیولی نے اپنی خواب گاہ کے بستر پر لیٹے ہوئے زوم کی چھوٹی سے کھڑکی سے مجھ سے کہا

 

’ ڈاکٹر سہیل!
میں آپ سے آخری بار ملنے آئی ہوں۔
میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں۔
آپ نے کئی سال میرا خیال رکھا۔
میری ہمت افزائی کی
مجھے سہارا دیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ میرا درد بڑھتا گیا
میں مجبور و معذور ہوتی گئی
میں چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہی
میں سیڑھیاں اترنے کے قابل بھی نہ رہی
اس لیے آپ سے کلینک میں ملنے نہ آ سکی
آپ نے پھر بھی مجھے نہ چھوڑا
میرے لیے زوم کی میٹنگز کا انتظام کیا
میرا خیال رکھا

 

وقت کے ساتھ ساتھ میرا درد ’میرا کرب‘ میری تکلیف میری اذیت بڑھتی گئی۔ ڈاکٹروں نے میرے مرض کو لاعلاج قرار دیا۔

 

چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب موت کا انتظار نہ کروں گی۔ میں خود بڑھ کر موت کو گلے لگاؤں گی۔
میرا شوہر کل مجھے ہوائی جہاز میں بٹھا کر سوئٹزرلینڈ لے جائے گا تا کہ اگلے ہفتے میں
VOLUNTARY ASSISTED DEATH
کو گلے لگا سکوں۔

آج میری آپ سے آخری ملاقات ہے۔ آپ ایک ڈاکٹر ہی نہیں ایک شاعر بھی ہیں۔ اس لیے جانے سے پہلے میں آپ کو شاعرہ مایا اینجلو کی ایک نظم سنانا چاہتی ہوں POEM CONTINUE BY MAYA ANGELOUیہ میرا آپ کو ایک الوداعی تحفہ ہے تا کہ آپ اپنی مسیحائی کو جاری رکھ سکیں اور بہت سوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدل سکیں۔ الوداع ڈاکٹر سہیل الوداع

 

میں نے بھی اپنی مریضہ کو بھاری دل سے الوداع کہا۔
میری مریضہ نے مایا اینجلو کی جو نظم مجھے سنائی اس کا مفہوم کچھ یوں ہے۔

جاری رکھنا
میری خواہش ہے کہ تم جاری رکھنا
اس نامہرباں دنیا میں
اپنا مہربان رویہ جاری رکھنا
اپنے بھاری دل کو
مزاح سے ہلکا کرتے رہنا
لوگوں کو بتاتے رہنا
ہم سب انسان برابر ہیں
نہ کوئی کسی سے کمتر ہے
نہ کوئی کسی سے بہتر ہے
دکھی دلوں کی حوصلہ افزائی
بیمار جسموں کی تیمار داری
جاری رکھنا
دوسروں سے ٹوٹ کر محبت کرنا
تا کہ وہ
موت کے بعد بھی جاری رہے
اس صدقہ جاریہ کو جاری رکھنا
۔
اپنی مریضہ کے آخری انٹرویو کے بعد مجھے اپنا ایک افسانہ یاد آیا جو میں نے برسوں پیشتر رقم کیا تھا۔ وہ افسانہ حاضر خدمت ہے

تھکی ہوئی زندگی

ولیم کا سٹریجر کلینک میں ایسے داخل ہوا جیسے اس کى زندگى کا ہوائی جہاز طویل مسافت کے بعد رن وے پر لینڈ کر رہا ہو۔

 

اس نے ویٹنگ روم میں چاروں طرف دیکھا۔ موت کی پرچھائیاں پوسٹروں کی صورت میں اس کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں

 

موت زندگی ہے
زندگی کی انتہا موت ہے
صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے جو زندہ رہنا چاہتے ہوں
باعزت زندگی کے لیے
DDC: DIGNIFIED DEATH CLINIC
سے رجوع کیجیے۔
اس کی اپائنٹمنٹ میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا۔
ولیم کی پرائیویٹ نرس شیرن اس کے ساتھ آئی تھی۔

ولیم کے سراپا میں اس کی زندگی کی تھکاوٹ پھیل چکی تھی۔ وہ شیرن کا سہارا لیتے ہوئے سٹریچر پر بیٹھ گیا۔

’مجھے ڈائجوکسن کی گولی دینا‘ ۔
’وہ تو تم آدھ گھنٹہ پہلے کھا چکے ہو‘
’اور پیشاب کی گولی‘
’وہ تو تم صرف پیر بدھ اور جمعے کو کھاتے ہو۔ اور آج ہفتہ ہے۔ ‘
’شیرن تم بہت مہربان ہو‘ ۔
اس کی روح کا تمام تر درد اس کی آنکھوں میں سمٹ آیا۔
’اکثر نرسیں مہربان ہی ہوتی ہیں‘ ۔
شیرن نے اس کا ہاتھ تھپتھپایا

 
 

’مجھے کچھ پانی پلاؤ‘ ۔
شیرن اسے ایک گلاس لا کر دیتی ہے اور پانی پینے میں مدد کرتی ہے۔
’شیرن میں ہر بات بھول کیوں جاتا ہوں؟‘
’زندگی کے اس دور میں بہت سے لوگ اپنی یادداشت کھو بیٹھتے ہیں۔ ‘

’میں نہ پڑھ سکتا ہوں نہ لکھ سکتا ہوں نہ سوچ سکتا ہوں۔ زندگی ایک بار بنتی جا رہی ہے۔ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔

شیرن خاموش رہتی ہے۔
۔
ویٹنگ روم میں نرس داخل ہوتی ہے
’میرا نام مونیکا ہے۔ میں ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک کی رجسٹرڈ نرس ہوں۔ آپ کا نام؟‘
’ولیم‘
’تاریخ پیدائش؟‘
’یاد نہیں۔ تقریباٌ پچھتر سال کا ہوں‘ ۔
’آپ کا پتہ؟‘
’اسی شہر میں رہتا تھا۔ اب تو آپ کا کلینک ہی میرا پتہ ہے۔ ‘
’آپ کا سوشل انشورنس نمبر؟‘
’میرے بریف کیس میں ہے۔ ‘
’کیا آپ وصیت لکھ چکے ہیں؟‘
’جی ہاں میرے وکیل کے پاس ہے‘ ۔ ’
آپ کی انشورنس؟ ’
’اس کا بھی انتظام ہو چکا ہے۔ ‘
’کیا آپ اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو خط یا تار بھیجنا چاہتے ہیں؟‘
’نہیں‘
’کیا آپ کسی چرچ کے پادری کو مطلع کرنا چاہتے ہیں؟‘
’نہیں شکریہ‘ ۔

 

’آپ کتنی دوائیں کھاتے ہیں؟‘
’ایک گولی دل کے درد کے لیے۔
ایک گولی گردوں کے لیے
اور ایک گولی ضعف جگر کے لیے ’۔
’ان کے علاوہ کوئی اور علاج کرواتے ہیں؟‘
’ہر تین مہینے کے بعد ڈائلیسز کرواتا ہوں۔ ‘
’آپ کا جو علاج ہو گا اس کا خرچ کون ادا کرے گا؟‘
’میری انشورنس کمپنی۔ معاف کرنا نرس تمہارا نام کیا ہے؟ میں بھول گیا‘
’مونیکا‘

 

’ولیم اس کلینک میں مرنے کے تین طریقے ہیں
تین منٹ کا
تین گھنٹوں کا
اور تین دنوں کا۔
آپ کون سا طریقہ پسند فرمائیں گے؟ ’

 

’مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ میرے مرنے کے بعد میرے جسم کا کیا کریں گے؟‘
’جو آپ پسند فرمائیں۔ ‘
’کیا آپ دفن ہونا چاہتے ہیں
جلنا چاہتے ہیں یا
اپنا جسم سائنس کی تحقیق کی نذر کرنا چاہتے ہیں؟ ’
’کیا میرے جسم کا کوئی حصہ کسی کے کام آ سکتا ہے؟‘
’آپ کی آنکھیں‘ ۔
’سنا ہے میرا خون جو او نیگیٹیو ہے وہ بھی ریسرچ کے کام آ سکتا ہے۔ ‘
’درست ہے۔ ‘

’تو ایسا انتظام کرنا کہ میری آنکھیں اور خون لینے کے بعد باقی جسم جلا کر بحر اوقیانوس میں اس کی راکھ پھینک دینا۔

کیا تین منٹوں اور تین گھنٹوں میں مرنے سے اس پر کچھ فرق پڑے گا؟ ’
’ہاں اگر تین گھنٹوں میں مرو گے تو تمہارے اعضا سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے گا‘ ۔
’تو پھر تین گھنٹوں کا علاج ٹھیک ہے۔ ‘
’کیا تم اپنے گھر میں اکیلے رہتے تھے؟‘
’ہاں۔ لیکن پانچ پرائیویٹ نرسیں ہیں جو ایک ایک ہفتہ میرا خیال رکھتی تھیں۔ آج کل میرے ساتھ شیرن ہے۔ ‘
’کیا تم مرتے وقت شیرن کو اپنے کمرے میں رکھنا چاہو گے؟‘
’ضرور‘
’میں یہ سب کچھ لکھ کر لے آؤں گی تا کہ تم دستخط کر سکو اور اس کی قانونی حیثیت ہو جائے۔ ‘
’بہت خوب‘
’تم کب مرنا چاہو گے؟‘
’کل شام‘ ۔
’بہت خوب‘

 
 

’ولیم اس کلینک میں ایک شعبہ نفسیات کی ٹیم ہے جو موت و حیات کے موضوع پر ریسرچ کر رہی ہے۔ اگر آپ کو اعتراض نہ وہ آپ کا انٹرویو لے لیں۔ ‘

’ضرور۔ انہیں اندر بھیج دو۔ لیکن سنو نرس تمہارا نام کیا ہے؟‘
’مونیکا‘ ۔
۔
’میں رابرٹ ہوں اور یہ سنتھیا ہیں۔ ہم شعبہ نفسیات کے طلبا ہیں۔ آپ سے کچھ سوال پوچھیں گے۔ ‘
’ضرور میں بھی دس سال فلسفہ پڑھاتا رہا ہوں۔ ‘
’آپ مرنا کیوں چاہتے ہیں؟‘

’میں زندگی سے تھک چکا ہوں۔ ایک وقت تھا جب میں زندگی سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔ اب وہ میرے کندھوں پر بوجھ بن گئی ہے اور میں دوسروں کے کندھوں پر بوجھ بن گیا ہوں۔ ‘

’کیا آپ اپنے پیچھے دنیا میں کچھ چھوڑے جا رہے ہیں؟‘
’ہاں۔ میں نے پانچ کتابیں لکھی ہیں جو فلسفے کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہی میری اصل وراثت ہے۔ ‘
’آپ نے زندگی میں سب سے مشکل کیا پایا؟‘
’الوداع کہنا۔ لیکن جب میں الوداع کہنا سیکھ گیا تو زندگی کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا‘ ۔
’کیا آپ کو زندگی سے کوئی شکایت رہی ہے؟‘
’نہیں‘ ۔
۔
’ولیم میرا نام ڈاکٹر سمتھ ہے کیا تم تیار ہو؟‘
’بالکل‘

 

’ہم دو طرح کی گیس استعمال کرتے ہیں موت کو پرسکون بنانے کے لیے۔ ایک سے انسان مسکرا پڑتا ہے دوسری سے رو دیتا ہے۔ تم کون سی پسند کرو گے؟‘

 

’مسکرانے والی‘ ۔ ’
ہم تمہیں نشہ آور ادویہ کے کمرے میں لے چلیں گے اور تمہارے پاس صرف شیرن ہو گی ’
’بہت خوب‘
۔
’شیرن میں تھک گیا ہوں۔ اب مجھے نیند آ رہی ہے۔ مجھے ماتھے پہ بوسہ دو۔ ‘
گڈ بائے۔ ’
۔
ولیم کی راکھ بحر اوقیانوس کی سطح پر بکھرتی ہے اور اس کی تہہ میں بڑے سکون سے بیٹھ جاتی ہے۔
بحر اوقیانوس کے ساحل پر بہت سے طلبا اس واقعہ سے بے خبر ولیم کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھ رہے ہیں۔

بشکریہ ہم سب