محلے کے پچھلے بازار میں میری ایک دکان ہے، مطلب ہے کہ تھی۔ کل بیچ دی۔ دکان عرصے سے میرے پاس تھی۔ اہل محلہ ، بازار والوں اور پراپرٹی ڈیلر نے مجھے بتایا تھا کہ دکان کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے، اس سے زیادہ پر ہی بیچنا، کم پر راضی نہ ہونا۔ میں جانتا تھا آج کل کوئی بھی مخلص نہیں، سب غلط مشورہ دیتے ہیں۔ میں ان کی باتوں میں نہ آیا اور خریدار کی تلاش کرنا شروع کر دی۔ آخر ایک خریدار مل گیا۔ ہم دونوں مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ مذاکرات کا طویل دور ہوا اور بالآخر کامیابی مل گئی، قیمت پر ہم دونوں کا اتفاق ہو گیا۔ دکان ایک لاکھ روپے میں فروخت ہوگی، یہ طے ہو گیا۔ کاغذ تیار ہوا، دونوں نے اس پر دستخط کئے۔ جس کے بعد گاہک نے جیب سے سات ہزار روپے نکال کر میری طرف بڑھائے۔ میں نے کہا یہ تو سات ہزار ہیں، سودا ایک لاکھ میں طے ہوا تھا، باقی 93 ہزار کہاں ہیں۔ گاہک نے کہا، دکان تمہاری تھی، اس کا پلستر پرانا ہو گیا، نیا پلستر کرانا کس کی ذمہ داری تھی ، میں نے کہا میری۔ اس نے کہا ، نیا رنگ و روغن اس پلستر پر کس نے کرانا تھا، میں نے عرض کیا میں نے۔ اس نے کہا، میں نے تخمینہ لگوایا ہے، ان دونوں کاموں پر 93 ہزار کا خرچہ اٹھے گا۔ چنانچہ میں یہ 93 ہزار تمہاری طرف سے خرچ کروں گا۔ میرے ہوتے ہوئے آپ کیوں زحمت کریں، یہ کام میں خود کروں گا۔ خود کو زحمت سے بچانے پر میں نے جھک کر اس کا شکریہ ادا کیا اور سات ہزار روپے کے نوٹ جیب میں ڈالے اور گھر کو روانہ ہوا۔ میرا ارادہ گھر جا کر قوم سے خطاب، میرا مطلب ہے اہل خانہ سے خطاب کا تھا۔
گھر پہنچتے ہی میں نے سب کو اکٹھا کیا، جیب سے کڑ کڑ کھڑکھڑ کرتے کڑ کڑاتے نوٹ نکالے اور انہیں لہرا کر خطاب شروع کیا۔ میں نے اہل خانہ کو بتایا کہ آج قومی، میرا مطلب ہے گھر بھر کی خوشی کا دن ہے۔ آج میں نے عظیم معاشی کامیابی حاصل کی ہے، دکان بیچ دی ہے اور سات ہزار کا کھرا منافع کمایا ہے۔ میرا خطاب سن کر گھر والوں کی آنکھیں بے پایاں خوشی کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور ان پر سکتہ مسرت طاری ہو گیا۔ کچھ لمحوں کے بعد میری بیوی نے مجھ سے پوچھا، ان سات ہزار روپوں سے آپ کیا کریں گے۔ میں نے کہا ہم گھر کی تعمیرنو کریں گے ، ایک روشن اور شاندار مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی لیکن نہ بول سکی۔ میں سمجھ گیا، وفور مسرت سے اس کی طاقتِ لسانی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔
پھر میرا بیٹا مجھ سے مخاطب ہوا۔ اس کی آواز لرز رہی تھی، ظاہر ہے اس خوشی کی وجہ سے حواس سے سنبھالے نہیں جا رہے تھے۔ اس نے مجھ سے پوچھا، ابّا، ہماری دکان اب ہماری نہیں رہی۔ میں نے کہا، نہیں بیٹے، اب ہم دکان کے نہیں رہے…
_____
کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی لاہور کا دورہ فرمانے والے ہیں۔ حقیقی آزادی کا کنواں کے پی کی سنگلاخ سرزمین پر نہیں کھودا جا سکا۔ انہیں امید ہے کہ لاہور کی نرم مٹی میں کنواں آسانی سے کھودا جا سکے گا۔
کل انہوں نے ایک بیان دیا اور یہ بتانا ضروری سمجھا کہ انہیں لاہور آنے سے کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا۔ ان کے یا کسی اور وزیر اعلیٰ کے یا کسی بھی صوبے کے کسی بھی شہری کے لاہور آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ کسی کے باپ کی بات کرنا قطعی غیر ضروری تھا لیکن بتایا گیا ہے کہ یہ ان کا تکیہ کلام ہے۔ صبح کی چائے پینے سے پہلے ملازم کو مخاطب کر کے ہر روز ایک یہی اعلان کرتے ہیں کہ کسی کا باپ بھی مجھے یہ چائے پینے سے نہیں روک سکتا۔ یہی اعلان وہ لنچ اور ڈنر سے پہلے بھی کرتے ہیں۔ دفتر جانے کیلئے گاڑی کے پاس جاتے ہیں اور ڈرائیور کے دروازہ کھولنے سے پہلے اسے اطلاع دیتے ہیں کہ کسی کا باپ بھی مجھے اس گاڑی میں بیٹھنے سے نہیں روک سکتا۔
دس گیارہ ہفتے پہلے کی بات ہے__ غالباً یا اندازاً__ جب وہ مرشد سے ملنے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے تھے۔ اس سے ایک روز پہلے انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کی تھی اور بتایا تھا کہ کل وہ راولپنڈی جا رہے ہیں اور کسی کا باپ بھی انہیں ملاقات سے نہیں روک سکتا۔
اڈیالہ کے باہر ایک کانسٹیبل نے انہیں روک لیا۔ اس موقع پر ان کی کانسٹیبل سے گفتگو ہوئی جس کی وڈیو بھی وائرل ہوئی۔ آواز ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن قریب کھڑے افراد نے بتایا کہ کچھ اس طرح کے مکالمے ہوئے:
آفریدی۔ تم کون ہو۔
کانسٹیبل۔ میں ایک سپاہی ہوں۔
آفریدی۔ کیا چاہتے ہو۔
کانسٹیبل۔ آپ کو ملاقات سے روکنا چاہتا ہوں
آفریدی۔ کیا تمہاری شادی ہو چکی ہے۔
کانسٹیبل۔ نہیں سر!
آفریدی۔ اس کا مطلب ہے تم کسی کے باپ نہیں ہو۔ ٹھیک ہے، تم مجھے روک سکتے ہو۔
یہ کہہ کر آفریدی واپس روانہ ہو گئے۔
_____
لگ بھگ اڑھائی تین سال ہو گئے جب کسی کے باپ والا نعرہ پہلی بار سنائی دیا تھا بلکہ یہ اس سے بھی پہلے کی بات ہے۔ یہ نعرہ پہلی بار اس شکل میں سنائی دیا تھا کہ کسی کا باپ بھی خاں کیخلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لا سکتا۔ یہ نعرہ برسر ٹی وی چینل پارٹی کے درجن بھر رہنمائوں نے مختلف ٹاک شوز میں لگایا تھا اور سب سے اونچی آواز شیدا آف ٹلّی شریف کی تھی۔ خیر، تحریک آئی اور منظور بھی ہوگئی۔ کچھ ہی عرصے بعد خان کی گرفتاری کی افواہیں گردش کرنے لگیں اور پارٹی کے بہت سے رہنما جن کی مجموعی تعداد ایک گرس کے قریب بنتی تھی ، یہ نعرہ دل دہلا دینے والی آواز کے ساتھ لگانا شروع ہو گئے کہ کسی کا باپ بھی خاں کو گرفتار نہیں کر سکتا۔ گرفتار کرنا تو دور کی بات، کسی کا باپ بھی خاں کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ گرفتاری ہو گئی لیکن یہ نعرہ تھما نہیں، لگتا ہی رہا ، ذرا سی تبدیلی کے ساتھ کہ کسی کا باپ بھی خان کو باہر آنے سے نہیں روک سکتا۔
آہستہ آہستہ یہ نعرہ فضا?ں میں گم ہوتا چلا گیا، لوگ اسے بھول ہی جاتے لیکن خدا بھلا کرے آفریدی صاحب کا کہ انہوں نے پارٹی کی یہ دم توڑتی روایت پھر سے زندہ کر دی اور اس نعرے کا احیا کر دیا۔ اسے نعرے کی نشاۃ ثانیہ بھی کہا جا سکتا ہے۔
_____
پی ٹی آئی کے قائم کردہ ڈیڑھ جماعتی الائنس نے حکومت سے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ ’’انقلاب انگیز‘‘ اطلاع دی ہے کہ مذاکرات میں خان کی رہائی یا مقدمات کے خاتمے کی کوئی بات نہیں کریں گے۔
یہ اعلان ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے کیا۔
چودھری شجاعت ہر بار کہا کرتے تھے کہ مٹی پائو جی، روٹی شوٹی کھائو جی __ بالآخر ڈیڑھ جماعت نے ان کا کہا مان لیا، مٹی شٹی پا دی، روٹی شوٹی کھانے کو تیار ہو گیا۔
310