نظام وہی ہوگا بس چہرے بدلے جائے گے۔ 226

نظام وہی ہوگا بس چہرے بدلے جائے گے۔

پاکستان کو آزاد ہوتے ہوئے تقریباً 75 سال گزر گئے۔شاید یہ دور ان ہستیوں کیلئے جو آج دنیا میں نہیں ہے تکلیف دہ ثابت ہوں۔پاکستان جنہوں نے جس مقصد کیلئے آزاد کرنا چاہا شاید ان کے مقاصد کو حاصل کرنے میں ازل سے ہم اور وہ مشران کامیاب نہیں ہوئے۔پاکستان جب برصغیر میں جدا حیثیت چاہ رہا تھا تو اس کے ساتھ ہندوستان اور بنگلہ دیش بھی پاکستان کا حصہ تھے۔دونوں ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کچھ خاصے اچھے نہیں تھے اور زیادہ تر خراب ہوتے تھے۔پھر یوں ہوا کہ پاکستان نے ایک الگ حیثیت کا سوچا اور بنگلہ دیش اور بھارت سے الگ ہوا۔اب اگر ان دونوں ممالک کا موازنہ ہم پاکستان سے کرینگے تو یقیناً ہم فیل جا رہے ہیں۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج بنگلہ دیش اور بھارت کیسا ہے اور پاکستان کے حالات کیسے ہیں۔یو تو تقریباً ایک جیسے ہیں لیکن پاکستان سے کئی گنا بہتر ہیں۔اج پاکستان جس موڑ پر کھڑا ہے پاکستان کی خراب نظام کی وجہ سے کھڑا ہے۔پاکستان کی نظام میں مثبت تبدیلی ازل سے نہیں ہوئی اسی لئے تو آج پاکستان ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ملک کا نظام تین طبقے چلا رہے ہیں۔عدلیہ،جرنیل،اور سیاست دان۔اگر یہ تھیک تھے تو ملک کبھی بھی خراب حالات کی طرف نہیں جا سکے گا۔اور اگر یہ تینوں خراب تھے تو یہ کبھی ہو نہیں سکتا کہ یہ ملک کچھ ترقی کرسکے۔قائداعظم نے مسلم لیگ کی جماعت بنائی اور سیاست وہاں سے شروع ہوئی۔پاکستان میں اب بہت زیادہ پارٹیاں موجود ہیں۔مختلف ناموں کے اور مختلف قسم کے نعروں اور وعدوں کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ہم اپنے مشران سے سنتے ارہے ہیں کہ پاکستان کے حالات کبھی بھی اچھے نہیں رہے ہیں۔اور اس کے وجوہات مندرجہ بالا ہے۔جو میں نے بیان کی ہے۔پاکستان میں دو تین قسم کی پارٹیاں بر سر اقتدار ارہے تھے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن جو کئی سالوں تک اس ملک پر حکمرانی کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔سال 2013 میں ایک شخص نیا آیا پاکستان کی سیاست میں اور اس کا نام عمران خان تھا۔عمران خان جس نعرے اور جن وعدوں کے ساتھ آنا چاہتا تھا پاکستان کی عوام بڑے خوش تھے اور اچھے امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔اور اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ عمران خان جو باتیں کر رہے تھے بلکل ٹھیک ہی کر رہے تھے۔پاکستان جن وجوہات کی وجہ سے ترقی نہیں کر رہا تھا وہی باتیں عوام کے سامنے کرتے تھے۔عوام بھی حیران تھے کہ اگر عمران خان جیسا لیڈر پاکستان کی سیاست میں داخل ہوجائے تو اس ملک کی تقدیر ضرور بدلے گی عوام کی زندگی میں ضرور خوشحالی آئی گی۔عوام نے اور خصوصاً خیبرپختونخوا کی عوام نے سال 2013 میں یہ فیصلہ کیا عام انتخابات میں ووٹ عمران خان کو دیا اور خیبرپختونخوا میں بھاری اکثریت سے عمران خان کامیاب ہوئے۔یو عمران نیازی اہستہ اہستہ پاکستان کی سیاست میں داخل ہونا اور مظبوط ہونا شروع ہوئے اور اس نے اگے کی لائحہ عمل شروع کردی تاکہ برسر اقتدار او۔پھر جب سال 2013 میں عام انتخابات ہوئے تو عمران خان نے وفاقی حکومت پر اعتراض کیا کہ میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔میں صرف خیبرپختونخواہ میں نہیں بلکہ پورے ملک میں کامیاب ہوا ہو۔لہذا یہ عام انتخابات مجھے منظور نہیں ہے۔میں اس سے بائیکاٹ کرتا ہوں۔پھر سال 2014 میں عمران نیازی نے سوچا کہ دھرنا چاہییے اور وہ بھی دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا اس وقت تک پاکستان میں کوئی پہچانتے بھی نہیں تھے اور خاص کر خیبرپختونخوا کی عوام کہ دھرنا کیا ہوتا ہے۔دھرنا شروع کیا اور دھرنا 126 دن تک جاری رہا۔لیکن دھرنے سے عمران خان کو کچھ نہیں ملا اور خالی ہاتھ ہی لوٹ آئے۔عمران نیازی نے اپنی سوچ اس وقت بڑی تیز کردی کہ ایسا کیا کیا جائے کہ میں وفاق میں حکومت بنا سکو،کیونکہ خیبر پختونخوا کی عوام اور پاکستان کی باقی حصوں سے بھی کچھ لوگ عمران خان کے ساتھ تھے۔تو عمران خان نے ان تینوں درجہ بالا کے ساتھ اپنے آپ کو ملایا اور اخر میں کامیاب ہوا اور وفاق میں بر سر اقتدار آیا۔عمران خان جس طریقے سے آیا اس میں وہ وعدے وہ دعوے پوری کرنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن تھا۔اور اس دن سے عمران خان نے چھپ کا روزہ رکھ لیا اور اپنے اقتدار کو جاری رکھنا چاہا۔اب جب عمران خان اقتدار سے الگ ہوگئے ہیں اور ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جس نے جہاں سے جہاں پہنچایا وہی پر پھر سے لائے کچھ تو حاصل کر چکا ہوگا ضرور لیکن پرانے حالت میں اب پاکستان میں ہے سیاست مزید کرنا چاہتےہیں۔عمران خان اب جب قوم سے مخاطب ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میں وزیراعظم پاکستان ضرور تھا لیکن میرے ہاتھ میں وہ طاقت نہیں تھی،میں پاکستان کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن میں کر نہیں سکا میرے ہاتھ باندھے ہوئے تھے۔میں وہ کر رہا تھا جو مجھے اوپر سے حکم ہو رہا تھا۔یعنی سب باتیں عمران خان نے واضح کردی ہے کہ مجھے جس طریقے سے آیا میں کچھ بھی نہیں کرسکا۔عمران خان کا سیاست میں آنا عوام کیلئے یا اپنے مفاد کیلئے تھا وہ اللہ جانے اور عمران خان ہی جانے لیکن طریقہ آنے کا درست نہیں تھا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی طریقہ ہے جو ہر سیاست دان اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس میں سیاست دان کی کوئی نقصان نہیں ہے وہ اپنی مقاصد آسانی سے پوری کرسکتے ہیں۔اس میں بدقسمتی اگر ہے تو صرف غریب عوام کی ہے۔بد نصیبی اگر ہے تو پاکستان کی غریب عوام کی ہے۔اج ایک نئی شخص کے بارے میں معلوم ہوا جو ایک نامی گرامی ہے جناب قاسم علی شاہ صاحب جو کہ ایک بہت ہی قابل ترین پروفیسر ہے۔پاکستان کے مقبول پرفیسر صاحبان میں ان کا شمار ہوتا ہے۔تو آج ان کے مطابق سنا کہ وہ بھی پاکستان کی سیاست میں آنا چاہتے ہیں۔وہ بھی عمران خان کی طرح شاید اچھے مقصد سے آنا چاہتے ہیں اور ملک میں غریب عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی عمران خان کی طرح ہی آئے گا۔اورکوئی طریقہ ہی نہیں ہے۔پاکستان کی سیاست میں آنے کا اور پاکستان کی سیاست میں کامیاب ہونے کا۔اس ملک میں اگر انقلاب لاسکتے ہیں تو صرف پاکستان کی 22 کروڑ عوام ہی لاسکتی ہے۔سیاست دان تواسی طریقہ سے آئے گے اور اسی طریقے سے ملک کو تباہ کرینگے جو ہم سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔پاکستان کی 75 سالہ دور میں ایک ایسا شخص ایسی پارٹی نہیں آئی جس میں غریب عوام کو کوئی فائدہ ملا ہوں۔ہر پارٹی اور ہر سیاست دان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کریں،اپنے لئے بیرونی ممالک میں جائیدادیں بنادیں۔ہمیں پاکستان کی سیاست دان کی سپورٹ نہیں ایک دوسرے کے سپورٹ کی ضرورت ہے۔ہم اگر کسی سیاستدان یا کسی پارٹی کو سپورٹ کرینگے تو ہم مزید پیچھے جائے گے اور مذید تنزلی کا شکار ہونگے۔ہمیں اگر اس ملک میں تبدیلی لانی ہے اگر اس سسٹم کو تبدیل کرنا ہے تو ہمیں خود اپنے حق کیلئے لڑنا ہوگا۔حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ سری لنکا کی دیوالیہ ہونے کی خبریں جاری تھی اور سری لنکا دیوالیہ ہوا۔اج سری لنکا میں اس پرانے سسٹم کو عوام نے شکست دے دیا اور آج اس سسٹم میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور سسٹم ٹھیک ہوگیا ہے۔وہاں بھی پاکستان جیسے حالات پیدا ہوئے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور سری لنکا میں کچھ خاص فرق نہیں ہے۔ہم بھی دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔لیکن پاکستان کی سیاست دان اور جرنیل پاکستان کو کبھی بھی دیوالیہ نہیں ہونے دینگے کیونکہ اگر پاکستان دیوالیہ ہوا تو سیاست دان کیا کرینگے،پاکستان دیوالیہ ہوا تو جرنیل کیا کرینگے۔پاکستان اگر دیوالیہ ہوا تو ججز کیا کرینگے۔تو اگر پاکستانی عوام اپنے سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں یہی ایک راستہ ہے کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو نکلنا ہوگا اس بدبودار سسٹم کے خلاف آواز اٹھانا پڑے گا۔اور اگر ہم عوام خواب غفلت میں رہے جس طرح 75 سال سے رہے ہیں تو پھر یہی سسٹم ہوگا یہی طریقہ کار ہوگا۔یہی پارٹیاں ہونگے اور یہی سیاست دان ہونگے باری باری ہم پر مسلط ہونگے اور اپنے لئے بینک بیلنس میں اضافے کرینگے۔تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نئے سیاست دان کے آنے سے اس بدبودار سسٹم میں مثبت تبدیلی نہیں آئی گی۔وہی پرانہ سسٹم ہوگا اور یہی سیاست دان اسی پر عمل پیرا ہونگے۔نئے چہروں کی ضرورت نہیں ہے۔نئی سوچ کی ضرورت اور انقلاب کی ضرورت ہے۔اور وہ بھی عوام کی جانب سے ناکہ سیاست دان کی طرف سے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر اور ہمارے ملک پر رحم فرمائے آمین۔   

بشکریہ اردو کالمز