Only prayers, no analysis 140

Only prayers, no analysis

    چند روز قبل ٹوئٹر پر میں نے ایک ایسی پوسٹ دیکھی ، جس میں ایک خاتون نے اپنی منگنی کی تصاویر شئیر کی ہوئی تھیں اور ساتھ یہ لکھا ہوا تھا"Only prayers  no analysis"یعنی صرف دعا دیجیے ، تجزیہ مت کیجیے۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ میں نے منگنی کی تصاویر تولوگوں کو دکھا رہی ہوں لیکن ہمارے لوگ اتنے نکمے ہیں کہ ایسی کوئی بھی چیز دیکھ کر سب تجزیہ کار بن جائیں گے اور اپنے تجزیہ کرنے لگے۔ چونکہ اس خاتون نے کسی غیر ملکی سے شادی کی تھی ، جس کی وجہ سے انہیں معلوم تھا کہ لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اگر چہ اس تصویر کو دیکھ کے بہت سے سوالات میرے ذہن میں بھی آئے تھے لیکن بات یہ ہے کہ یہ ضروری تو نہیں کہ جو بات مجھے پسند ہو وہی سب کو پسند ہو ، جو شخص مجھے اچھا لگتا ہے وہی سب کو اچھا لگے ۔ مجھے نہیں پتا وہ کس ملک کا شہر ی تھا لیکن تھا کوئی غیرملکی ۔ 
    میں پاکستان سے باہر کبھی گیا نہیں اور اس خاتون نے نہ جانے نہیں کتنے سفر کیے ہوں گے اور کتنے ممالک گھومے ہوں گے، کون کون سے شہروں میں گئی ہوگی اور کتنے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا ہو گا۔ جس کی وجہ سے اس کی سوچ اور میری سوچ میں بہت زیادہ فرق ہونا ایک فطری امر ہے ۔ اس کی فہم و فراست مجھ سے زیادہ ہوگی ، اس لئے مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ میں اپنی مرضی یا اپنی پسند کو دیکھتے ہوئے دوسروں پر تنقید شروع کر کر دوں ، ممکن ہے ان کی پسند میری سوچ سے کہیں زیادہ بہتر ہو۔لیکن ہمارے ہاں لوگ یہ چیزیں نہیں سوچتے اور اپنی پسند و ناپسند کے مطابق دوسروں پر تنقید شروع کر دیتے ہیں اور اپنی پسند و ناپسند کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 
    یہ بہت برا رویہ ہے کہ ہم کسی دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنے یا اس کے لئے نیک تمنا ؤں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے کی بجائے تنقید شروع کر دیں۔ دوسروں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کی عادت ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے کہ لوگ دوسروں کی ذاتی زندگی اور ذاتی خوشیوں پر اپنے تجزیہ اور تنقید شروع کر دیتے ہیں ۔ خاص طور پر معروف شخصیات کی نجی زندگی تو ہر دم ناقدین کے نشانے پر رہتی ہے ۔ یہاں تھوڑا سا قصور ہمارے میڈیا کا بھی ہے کہ وہ معروف شخصیات کی نجی زندگی کو خبروں کی زینت بناتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے کم فہم لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر کسی نے منگنی کر لی یا شادی رچا لی تو اسے خبروں میں زیادہ جگہ نہیں دینی چاہیے۔ خاص طور پر علیحدگی اور طلاق کی خبریں تو ہمارے معاشرے میں ایسے پھیلتی ہیں جیسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہو۔ چند روز قبل بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی علیحدگی کی افواہیں کس قدر ہمارے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں اورعوام کو ان کی کتنی فکر لاحق ہو گئی تھی۔ ان افواہوں پر کتنے تبصرے اور تجزیے ہوئے اور کتنی تنقید بھی ہوئی۔
    سابق وزیراعظم عمران خان کی شادیوں اور طلاقوں پر کس قدر تنقید اور تبصرے ہوئے ، ہاں اگر کوئی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے یا شرعی اصولوں کو پامال کر رہا ہے تو اس کی نشاندہی کرنا الگ بات ہے لیکن قانونی و شرعی نجی معاملات میں ٹانگ اٹکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اسے کوئی ذی شعور شخص پسند کرتا ہے ۔جو معاملات نجی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اس قدر اچھالنا کسی طرح مناسب نہیں ہے ۔ 
    کسی کو کوئی چیز اچھی نہیں لگتی یا کسی کو کوئی بات پسند نہیں آتی تو وہ مذاق اڑانا اور تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ یہ رویہ بہت برا ہے دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی کرنا اور ان کو برا بھلا کہنا یا ان پر تنقید کرنا اور ان کی خوشیوں کو ملیا میٹ کرنے کی کوشش کرنا بہت بری بات ہے اگر آپ کو کوئی چیز پسند نہیں تو اسے اپنے دل میں ہی دبا کر رکھیں یہ ضروری تو نہیں کہ جو بات آپ کو پسند ہے وہی سب کو پسند آئے ہیں سب کے لیے ناپسند ہو ہر ایک اپنی ذہنیت ہے جس کے مطابق ہر ایک اپنی پسند و نا پسند ہے اس لئے دوسروں کی پسند و ناپسند کا احترا م کر نا چاہیے ۔ ہماری معاشرتی اخلاقیات بھی ہمیں یہی سکھاتی ہیں اور اور ہمارا دین بھی ہمیں اسی بات کو حکم دیتا ہے کہ ہم دوسروں کی ذاتی زندگی میں بے جا مداخلت نہ کریں ، جہاں ہمارا کام نہ ہو وہاں ہمیں کسی قسم کی تنقیدیا تبصرے کی اجازت نہیں ہے زیادہ سے زیادہ ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کر دیں ، ان کے لیے دعا کر دیں اگر نہیں کر سکتے تو خاموش رہیں۔ بلا وجہ فلسفی بن کر کسی کی ذاتی زندگی کے متعلق تنقید و تبصرے سے گریز کریں۔ 

 

بشکریہ اردو کالمز