عالمی میڈیا پر پاک بھارت جنگ اور خطرات پر ہر لمحے کوئی نہ کوئی بریکینگ نیوز آرہی ہے ، اور صورتحال لمحہ لمحہ بدل رہی ہے ، دوسری طرف انڈین عوام ، تھنک ٹینکس و ماہرین اور سابق فوجی اور ائیر چیفس نے مودی حکومت کی خوب درگت بنائی ہوئی ہے ، سابق آرمی چیف کہتے ہیں کہ یہ مودی حکومت کی سب سے بڑی غلطی تھی ، اسی کروڑ افراد بھوک اور افلاس میں مبتلا ہیں اور وہ جنگ کرنے جا رہے ہیں ، دوسری طرف ان کے سابق ائیر چیفس کہہ رہے ہیں کہ انڈین فضائیہ کسی طور پاکستان کی فضائیہ سے مقابلہ نہیں کر سکتی ، خود پاکستان کا سرٹیجک پارٹنر چین اس کے ساتھ کھڑا ہے ، بنگلہ دیش اور نیپال بھی اب انڈیا کے زیر اثر نہیں ہیں ، یہاں انڈیا کی چکن نک کسی اور کے قابو میں ہے ، اور بنگلہ دیش جیسا ملک کہہ رہا ہے کہ ھم بھارت کی پانچ ریاستوں پر قبضہ کر لیں گے ، پہلگام واقعہ کے بعد جس تیزی سے انڈین سلامتی کونسل کا اجلاس اور دس منٹ میں پاکستان پر الزام عائد کیا گیا ، اس سے مزید پوزیشن کمزور ہو گئی ہے اور بھارت کو اپنے ہی عوام کے ھاتھوں ذلت اٹھانی پڑی ، کشمیری عوام کھل کر کہتے ہیں کہ یہ کشمیری نہیں کر سکتے ، سیاح کہہ رہے ہیں فوج اور سیکورٹی کے ھوتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہے ؟ بھارت کی اس منصوبے سے کوشش تھی کہ سفارتی محاذ پر فتح حاصل کر کے ، کم از کم سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا جواز پیدا کریں ، لیکن امریکہ نے ، فرانس اور برطانیہ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا ، میڈیا نے اے آئی تصاویر ،جعلی ویدیوز اور موقف کا بھانڈا پھوڑ دیا ، آج ہی فرانس کے میڈیا نے ایک ایک حقیقت لوگوں کو بتا دی ، اسی طرح نیویارک ٹائمز نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو مرد آہن اور قوم کو متحد کرنے کا بہترین لیڈر قرار دیا ، آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ھے جہاں دھشت گردی پنپنے میں سوشل ویبرک حائل ہے ، بھارت کی کوشش ہے کہ اس خطے کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں ایک بات اسے ذھین نشین کر لینی چاہیے کہ عوام جتنے بھی مسائل میں گرے ہوں جب وقت جنگ آتا ہے تو وہ پہلے سے مضبوط ہو جاتے ہیں ، کسی زمینی ٹکڑے پر قبضہ کرنا یا سرجیکل اسٹرائیک جیسے ناکام عزائم خود بھارت کے لیے اندرونی خلفشار کا باعث بنیں گے ، ابھی ایک انڈین جنرل گارگل کا نقشہ پیش کر ریا تھا اور میڈیا کو بتا رہا تھا کہ کارگل میں ھم نے پانچ ھزار سے زائد زخمی اور اڑھائی ہزار سے زائد فوجی کھوئے ہیں جو جان کی بازی ہار گئے اور محض وہ علاقہ حاصل کر سکے جو ھم کھو چکے تھے ، پاکستان نے ھمیشہ دفاعی جنگ مضبوطی سے لڑی ہے ، ٹیکنالوجی کے اس دور میں دونوں ایٹمی طاقتیں باہم لڑائی میں جائیں گی تو نقصان دونوں کا ہو گا اور یہ خطہ سینکڑوں سال پیچھے چلا جائے گا ، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، عرب کا میڈیا مسلسل یہ بات کر رہا ہے کہ مودی سرکار کی یہ حرکت خود اس کے گلے پڑ چکی ہے ، پاکستان کے خلاف کوئی شواید نہیں ، آج کی خبر کے مطابق بھارت نے بگلیہار ڈیم کا پانی روک دیا ھے یہ آبی جارحیت ہے آور اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں ، غیر جانبدار قوتوں کو متحرک ھو کر اس جنگ کو روکنا ہوگ ایک میتھ یا حقیقت یہ بھی زیر بحث ہے کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فیصلہ کر چکے ہیں ، اسرائیلی کابینہ نے بھی اس کا فیصلہ کر لیا ، اس لئے وہ پاکستان جیسے ایٹمی ملک کو انڈیا کے ساتھ انگیج رکھنے چاہتے ہیں اس سلسلے میں امریکی نائب صدر کا حالیہ دورہ بھارت اور اس سے پہلے پہلگام واقعہ اھمیت کا حامل ہے ساتھ ہی امریکی نائب صدر کا یہ بیان کے بھارت لمبی جنگ کی بجائے محدود پیمانے پر سٹرائیک کا سوچے گا ، لیکن وہ یہ بھول ریے ہیں کہ پھر پاکستان کے پاس کیا چوائس ہوگی ، عوام کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا البتہ بگلیہار ڈیم پر پانی کی رکاوٹ ایک جنگی نقظہ آغاز بن سکتا ہے ، جیسے بھی حالات ھوں دنیا کو خطے سے تنازعہ ختم کروانا ہوگا میڈیا کی سسنسی اور حقائق ایک طرف عالمی دنیا کو یہ ضرور اندازہ ھے کہ یہ جنگ پھیل سکتی ہے اور بھارت کا مقدمہ کمزور اور زیادہ تر فیک نیوز پر مبنی ہے پاکستان نے عالمی میڈیا کو ان جگہوں کا دورہ کروا دیا ہے جس پر بھارت انگلیاں اٹھا رہا تھا ، فیصلہ اب عالمی قوتوں نے کرنا ہے ، وہی فیصلہ ہونا چاہیے جو انسانیت کے لیے بہتر ہو
159