پاکستان میں ’بنگلہ دیش ماڈل‘؟ 184

پاکستان میں ’بنگلہ دیش ماڈل‘؟

بنگلہ دیش میں 18مارچ1996ء کو 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے غیر جانبدار اور غیر سیاسی نگران حکومت کے قیام کا تصور متعارف کرایاگیا۔نئی قانون سازی کے مطابق نگران حکومت کے سربراہ کو وزیراعظم کے بجائے چیف ایڈوائزر جبکہ اس کی کابینہ کے ارکان کو وفاقی وزرا کے بجائے ایڈوائزر قراردیا گیا۔اس آئینی ترمیم کے بعد نگران حکومت کے تحت پہلی بار الیکشن ہوئے تو شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد نے کامیابی حاصل کی اورعوامی لیگ1973ء کے بعد پہلی بار حکومت بنانے میںکامیاب ہوئی۔ مگر2001ءمیںعام انتخابات ہوئے تو بنگلہ دیش نیشنل پارٹی دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔جنرل ضیاالرحمان کی بیٹی خالدہ ضیا ایک بارپھر وزیراعظم بن گئیں۔اکتوبر 2006ء میں ان کی حکومت ختم ہونے کو آئی تو آئینی تقاضے کے تحت نگران حکومت تشکیل دی گئی مگر کسی غیر سیاسی اور غیر جانبدار شخصیت کا انتخاب کرنے کے بجائے صدر مملکت اعجازالدین احمد کو چیف ایڈوائزر بنادیا گیا۔صدر اعجازالدین احمد نے نگران وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنی کابینہ بھی تشکیل دیدی۔سب سے بڑی اپوزیشن جماعت عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ واجد نے اس پر اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ کسی غیر جانبدار شخصیت کو نگران حکومت کا سربراہ بنایا جائے۔یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو عوامی لیگ نے احتجاجی تحریک شروع کردی جو بہت جلد پرتشدد مظاہروں میں بدل گئی۔قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم کے دوران بیسیوں سیاسی کارکن مارے گئے۔بنگلہ دیش کی فوج کے سربراہ جنرل معین الدین احمد نے براہ راست مداخلت کرکے مارشل لا لگانے کے بجائے پس پردہ رہتے ہوئے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا اور صدر اعجاز الدین احمد کو مشورہ دیا کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کردیں۔چنانچہ صدر اعجاز الدین احمد نے ایمرجنسی نافذ کردی۔بنگلہ دیش اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر اورورلڈ بینک کے سابق عہدیدار فخرالدین احمد کی سربراہی میں ایک نئی نگران حکومت تشکیل دی گئی ۔فوج کی طرف سے اس ٹیکنو کریٹک بندوبست کو بتادیا گیا کہ آپ کا مینڈیٹ 90دن میں انتخابات کروانا نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی استحکام لانا ہے،آپ کو اسٹیبلشمنٹ کا بھرپورا تعاون حاصل ہوگا۔چنانچہ نگران وزیراعظم فخرالدین احمد نے شفاف ،آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے سیاسی و معاشی اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔حلقہ بندیوں ،انتخابی فہرستوں کی درستی اور سیاستدانوں کے احتساب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اکتوبر2006ء میں نگران حکومت بنائی گئی تو آئین کے مطابق جنوری2007ء میں عام انتخابات کرواکے اقتدار منتخب عوامی نمائندوں کے سپرد کردیا جانا چاہئے تھا لیکن 90دن کے لئے آنے والی نگران حکومت 2سال تک برقرار رہی ۔ 29دسمبر 2008ء کو الیکشن کروائے گئے ۔یہ ماورائے آئین حکومت تھی ،قانونی طور پر اس کی گنجائش نہیں تھی لیکن فوج کی تائید و حمایت سے یہ بندوبست چلتا رہا۔اس دوران آرمی چیف جنرل معین الدین احمد کی مدت ملازمت ختم ہونے کو آئی تو نگران حکومت نے سیاسی استحکام کے پیش نظر انہیں ایکسٹینشن دیدی۔ انتخابات ہوئے تو عوامی لیگ نے 300کے ایوان میں 230نشستیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کرلی ۔حسینہ واجد وزیراعظم بن گئیں اس دوران نگران حکومت کے حوالے سے کی گئی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیدیا گیا۔ 2009ء سے اب تک حسینہ واجد مسلسل 15سال سے برسراقتدار ہیں ۔بالعموم بنگلہ دیش کے عوام کوپاکستانیوں سے بھی زیادہ متلون مزاج سمجھا جاتا ہے جو چند برس میں ہی حکومتوں سے اُکتا جاتے ہیں لیکن عوامی لیگ کا اقتدار اس لئے قائم و دائم ہے کہ اس دوران معاشی ترقی اور خوشحالی کا خواب حقیقت بن چکا ہے۔اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بنگلہ دیش کو ادائیگیوں میں عدم توازن کے باعث آئی ایم ایف سے 4.7ارب ڈالر قرض لینا پڑا۔مگر اب بھی اس کے زرمبادلہ کے ذخائرتقریباً 31ارب ڈالر ہیں ۔ بر آ مد ا ت 52ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔روپے کے مقابلے میں ٹکہ مستحکم ہے۔ اب جنوری 2024ء میں عام انتخابات ہوں گے۔دیکھتے ہیں اپوزیشن جماعتیں اس بار بھی عوامی لیگ کو شکست دے پاتی ہیں یا نہیں۔

پاکستان میں ایک عرصہ سے بنگلہ دیش ماڈل کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دور سے شروع ہونے والی یہ افواہیں سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ہی زور پکڑ لیتی ہیں ۔2014ء میں تحریک انصاف او رپاکستان عوامی تحریک نے دھرنے دیئے تو جاوید ہاشمی نے راز فاش کیا کہ درون خانہ ’’بنگلہ دیش ماڈل‘‘کی کھچڑی پک رہی ہے۔اب قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ایک بار پھر ’’بنگلہ دیش ماڈل‘‘کی خواہش اور فرمائش بے لگام ہوئی جاتی ہے۔استدلال وہی ہے کہ انتخابات سے پہلے سیاسی و معاشی استحکام لایا جائے ۔انتخابی اصلاحات متعارف کروائی جائیں ،معیشت کا قبلہ درست کیا جائے اور اس ہدف کے حصول کیلئے آئینی تقاضوں کی پروا نہ کی جائے۔یہی وجہ ہے کہ بہت تگڑی اور موثر کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔جلیل عباس جیلانی جیسی جہاندیدہ شخصیت کو وزارت خارجہ کا قلمدان دیا گیا ہے،سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر کو وزیر خزانہ بنایاگیاہے،ہمارے دوست مرتضیٰ سولنگی اطلاعات و نشریات کے وزیر ہیں ،پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب برپا کرنے والے ڈاکٹر عمر سیف کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا وزیر تعینات کیا گیا ہے ،وصی شاہ جو عمدہ شاعر ہی نہیںبا کمال شخصیت کے مالک عاجز انسان ہیں،انہیں وزارت سیاحت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔یوںپاکستان میں پہلی بار بنگلہ دیش ماڈل عملاً نافذ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز