پنجاب کالج ملتان (یونیورسٹی روڈ کیمپس) 447

پنجاب کالج ملتان (یونیورسٹی روڈ کیمپس)

 24جنوری بروزبدھ پنجاب کالج یونیورسٹی روڈ کیمپس ملتان میں کرییٹو سوسائٹی کے زیر اہتمام  مضمون نویسی کے حوالے سے مقابلہ جات کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں طلباء و طالبات نے بھرپور شرکت کی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اس طرح کی سرگرمیوں کا انعقاد اور مختلف سوساٹیز کا قیام ایک قابل تعریف عمل ہے اس بات کا تمام تر کریڈٹ ڈائریکڑ پنجاب گروپ آف کالجز ملتان ریجن ملتان پروفیسر اسامہ بشیر قریشی صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے طالب علموں کی ذہنی صلاحتیوں کو ابھارنے کے لیے  پنجاب کالج ملتان میں  اس طرح کی تخلیقی سرگرمیاں شروع کی ہیں -
 تخلیق کا مادہ ’خلق‘ سےہے خلق سے مراد ہے کہ کسی چیز کو تخلیق کرنا، بنانا، پیدا کرنا، وجود میں لانا، یا کسی چیز کو جنم دینا۔انگریزی میں اس کے لیے Createکا لفظ استعمال ہوا ہے۔تخلیق کے لیے انگریزی زبان میں Creationکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تخلیق کے معنی  کسی چیز کے پیدا یا خلق کرنے کی صلاحیت۔ کسی چیز کو پیدا کرنے کی قوت یا کسی چیز کو وجود میں لانے کی طاقت وغیرہ۔
کائنات میں خدا کی سب سے بہترین اور عمدہ تخلیق ـ’انسان‘ ہے۔ قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ دنیا کی دوسری تمام جاندار تخلیقات کے برعکس انسان کے اندرخدا نے اپنی کچھ صفات رکھی ہیں۔
دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے جتنے بھی اوصاف ہیں جیسے وہ قادرہے، عادل ہے، رزاق ہے، قہار ہے، وغیرہ۔ ان صفات کے کچھ اجزا انسان میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس بات کو ہم کچھ اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ خدا رزاق ہے یعنی خداپوری کائنات کو کھلاتا اور پلاتا ہے۔ ایک انسان بھی کسی پیاسے کو پانی اور بھوکے کے لیے کھانے کا سامان کرسکتا ہے اور کسی حد تک اپنے رزاق ہونے کاثبوت پیش کرتا ہے۔ خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ عادل ہے یعنی وہ عدل سے کام لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح دنیا کی بڑی بڑی عدالتوں میں بہت سے انسان منصف کے منصب پر فائز ہیں اور عدل سے کام لے کر اس صفت کا برملا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ 
اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا بہترین تخلیق کار ہے اور انسان اس کی بہترین تخلیق ہے۔ لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے ’Robot اور Computerجیسی چیزین بنائی جو دنیا کے بڑے بڑے اور حیرت انگیریز کام انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح زمین خدا کی ایک عمدہ تخلیق ہے لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے اس ویران زمین کو جنت نما بنا دیاہے جس کی مثالیں ہمیں دنیا میں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔خد ا نے سورج بنایا جو دن کو روشن کرتا ہے لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے بجلی بنائی جو راتوں کو روشن کرتی ہے۔خدا نے زمین میں خوبصورت وادیاں بنائیں لیکن انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیتیوں سے ان کی خوبصورتی  دوبالا کردی۔ان میں مختلف قسم کے پھول اگائے۔ ان میں مختلف قسم کے خوبصورت پیڑ اور پودے لگائے۔ غرض کہ اسی طرح کی بے شمار انسانی تخلیقات ہمارے سامنے موجود ہے جن کا مشاہدہ ہم ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔یہ تخلیقی صلاحیت دنیا کے سبھی انسانوں میں ہوتی ہے۔لیکن کسی میں کم تو کسی میں زیادہ۔ یہ تخلیقی صلاحیت وہ جذبہ ہے جو ہمیں اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا احساس دلاتا ہے۔
ادب بھی ایک تخلیقی کاوش ہے۔ ادب کیا ہے؟ ادب کیوں لکھا جاتا ہے؟ ادب کی معنویت کیا ہے؟ ادب کی اقسام کیا ہیں؟ وغیرہ جیسے سوالات تشریح طلب ہیں جن پر آئندہ کبھی بات کریں گے لیکن اس وقت ہم صرف ادب کی تخلیق کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی بتا دیا کہ انسان کے اندر خدا نے بے شمار تخلیقی صلاحتیں رکھی ہے اور ان ہی تخلیقی صلاحیتوں میں ادب کی تخلیق بھی کافی اہم ہے۔
تخلیق بہت سی شکلوں سے ظاہر ہوتی ہےایک آرٹسٹک کی تخلیقی سرگرمی شہکار پینٹنگ کا سبب بنتی ہے۔ ایک میوزیکل تخلیقی سرگرمی خوبصورت میوزک کو وجود میں لانے کا سبب بنتی ہے۔یہ تخلیقی سرگرمی تحریروں کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے جو کہانیوں، ناولوں، نظموں اور شاعری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایک تخلیقی صلاحیت کا حامل مالی اپنے باغ کواپنی تخلیقی صلاحیتوں سے بہتر سے بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک تخلیقی سائنس داں اپنی تخلیقی صلاحیت سے نئی نئی ایجادات کا باعث بن سکتا ہے ۔ ایک تخلیقی کاری گر اپنی صلاحیت سے عمدہ تعمیراتی کام انجام دے سکتا ہے اسی طرح ایک تخلیقی قلم کا ر اپنے قلم سے ادبی فن پاروں کو وجود میں لا سکتا ہے۔
تخلیق کے لیے ’تخیل‘ کی کارفرمائی لازمی ہے۔ونسٹن چرچل کے الفاط میں ’’تم خود اپنی دنیا تخلیق کرسکتے ہو ۔ تمہاری قوتِ متخلیلہ جس قدر مضبوط ہوگی تمہاری دنیا اسی قدرخوش ہوگی اور جب تم خواب دیکھنا چھوڑ دو گے تو تمہاری دنیا اپنا وجود کھو دے گی۔ 
بات یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کے جذبات اور خیالات اس کے مادی وسائل سے بھی کہیں زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر دماغ خیالات کی جگالی نہ کرے تو وہ اپنی موت آپ مر سکتا ہے۔غور و فکر اور سوجھ بوجھ کے عمل سے انسان پرانے علم اور اکتساب کو شعور کے دائروں میں سوچتا سمجھتا اور زایوں اور نتائج کو اخذ کرتا ہے۔ اگر نئی کاوشیں، نئے اصول اور نئی وریافتوں کی راہیں نہ ڈھونڈی جائیں تو انسان کی فکر اور سوجھ بوجھ، خوف، غم، بے اطمینانی اور قنوطیت کی پرخار راہوں میں ہی الجھ کر رہ جائے۔

بشکریہ اردو کالمز