قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں 186

قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

والے لعنت کرتے ہیں‘ ماسوا اُن لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور (جس حق کو چھپایا تھا‘ اُسے) ظاہر کر دیا تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہوں اور میں بہت توبہ قبول فرمانے والا‘ نہایت مہربان ہوں‘‘ (البقرہ: 159 تا 160)۔ آج بھی اُسی فتنۂ خوارج کا باندازِ جدید اُمّتِ مسلمہ کو سامنا ہے‘ مسلمانوں کو ظلماً قتل کیا جا رہا ہے اور اس کے جواز کیلئے قرآن وسنّت کی نصوص اور شریعت کی تعلیمات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ یہ اس کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ اس سے اسلام کی کوئی خدمت ہو رہی ہے اور نہ باطل کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے‘ بلکہ سارے کا سارا نقصان اسلام اور مسلمانوں کا ہو رہا ہے‘ لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی بابت فرمایا ہے: ''اور بچھڑے کی محبت اُن کے دلوں میں کُوٹ کُوٹ کر بھر دی گئی تھی بسبب انکے کفر کے‘ کہہ دیجیے: اگر واقعی تم (تورات پر) ایمان لانے والے ہو تو تمہارا ایمان تمہیں کیسی بری باتوں کا حکم دیتا ہے‘‘ (البقرۃ: 93)۔
معرکۂ کربلا بھی اسی ''اِحقاقِ حق‘‘ اور ''اِبطالِ باطل‘‘ کے نبوی مشن کا تسلسل ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: ''حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں‘‘ (ترمذی: 3775)۔ یعنی حسینؓ میری نسل سے ہیں‘ اُن کی اور میری محبت لازم وملزوم ہے اور میرے کمالات یعنی اسلام کی دینی اقدار کی تکمیل اور تسلسل حسینؓ کے ذریعے ہوگا اور میرا مشن جاری رہے گا۔ اسی مشن میں ''خلافت علیٰ منہاجِ النُّبوۃ‘‘ کا تسلسل بھی ہے۔ معرکۂ کربلا کو بیتے ہوئے 1386 برس ہو چکے ہیں‘ لیکن یہ سانحہ امت کے ذہن میں اُسی طرح تازہ ہے جیسے کل وقوع پذیر ہوا ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ تذکارِ حسین کرنے والے بھی بہت ہیں‘ راہِ حق میں اُن کی بے مثل و بے مثال قربانیاں بیان کرنے والے بھی بہت ہیں‘ ماشاء اللہ ایک مضمون کو سو طرح سے باندھنے کا پورا ملکہ اور مہارت رکھتے ہیں‘ اُن کا غم بھی تازہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اُن کی وہ اَقدار جن کے اِحیاء کی خاطر انہوں نے تاریخِ انسانیت کی عظیم قربانی پیش کی‘ اُن کو زندہ کرنے والے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اُن کے سانچوں میں ڈھالنے والے کم ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا:قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں؍ گرچہ ہے تاب دار‘ ابھی گیسوئے دجلہ و فرات۔
''تابدار‘‘ کے معنی چمک کے ہیں‘ پس دِجلہ وفرات کے گیسوئوں کی آب وتاب اور چمک دمک یعنی یزیدی اَقدار اب بھی اُسی شان سے قائم ہیں‘ ہمارے نظام میں سرایت کی ہوئی ہیں‘ یزید کو مطعون کرنے والے تو کروڑوں کی تعداد میں ہیں‘ لیکن یزیدی اَقدار سے بغاوت کرنے والے یا انہیں جڑ سے مٹانے کی جدوجہد کرنے والے کمیاب بلکہ نایاب ہیں۔ جیسے ہم حج کرنے کے بعد دامن جھاڑ کر واپس آ جاتے ہیں اور پھر زندگی کے شب وروز حسبِ سابق ہو جاتے ہیں‘ ہمارے ظاہر وباطن میں کوئی حقیقی تبدیلی رونما نہیں ہوتی‘ اسی طرح عاشورۂ محرم منانے کے بعد ہمارا آنے والا کل (فردا) ہمارے گزشتہ کل (دِیروز)کی طرح ہو جاتا ہے‘ بس سوچنے کی بات یہی ہے اور علامہ اقبال کے پیغام کی روح اوراسلام کی تاریخ بھی یہی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام سے لے کر ختم المرسلینﷺ تک ہماری داستان ایسے ہی المیوں اور سانحات سے عبارت ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حُسین‘ ابتدا ہے اسماعیل
حضرت ابراہیم ؑجب ابتلاء وآزمائش کے مراحل سے گزرتے ہوئے عزیمت واستقامت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے تو قرآن نے فرمایا: ''جب (باپ بیٹا) دونوں نے (حکمِ الٰہی کے آگے) سرِ تسلیم خم کر دیا‘ تو ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا (اور اُنکے گلے پر چھری چلایا ہی چاہتے تھے کہ) ہم نے (پردۂ غیب سے) ندا کی: اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا‘ ہم اپنے احسان شِعار بندوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں‘ بے شک یہ ضرور کھلی آزمائش تھی‘‘ (الصافات: 103 تا 106)۔ اسماعیل ؑ کے فدیے کے طور پر تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے مینڈھا بھیج دیا‘ مگر امام عالی مقام حسینؓ کو مع اہلبیتِ اطہار واعوان وانصار خود اس قربانی کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ اسی لیے اقبال نے اسے اسماعیل ؑ کی قربانی کی تکمیل قرار دیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا