ایمل کانسی بلوچستان کے کاسی (پشتون) قبیلے سے تعلق رکھنا تھا جس کو امریکا میں سزائے موت دی گئی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے 1993 میں ورجینیا میں سی آئی اے کے صدر دفتر میں داخل ہو کر پانچ افسران کو قتل کر دیا تھا۔ ایمل کانسی پر آخر تک یہ ثابت نہ ہو سکا کہ اس کا کسی گروہ سے کوئی تعلق ہے۔ اسے ڈیرہ غازی خان سے پاکستانی مخبروں کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ آئی ایس آئی نے ان امریکی کمانڈوز اور ایمل کو پاکستان سے جانے کی اجازت نہیں دی ۔۔ لیکن دو دن کے اندر امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال کر اور ہمارے نظام عدل پر شکوک کا اظہار کر کے ایمل کو اپنے کمانڈوز سمیت پاکستان سے نکال لیا۔ اور پوری دنیا کی پرواہ کئے بغیر 2002 میں اسے موت کا انجکشن لگا کر امریکہ میں موت دے دی گئی۔۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ہے جسے امریکی حکومت نے 2003ء میں اغوا کر کے امرىکى حکومت نے جبراً غیر قانونی طور پر قید کیا ہوا ہے اور اس پر مسلسل امرىکى خفیه و خوفناک ایجنسی CIA کہ جانب سے ظلم و جبر کىا جا رہا ہے۔ 23 ستمبر، 2010ء میں نیویارک امریکی عدالت نے عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنائی۔ جون 2013ء میں امریکی فوجی زنداں فورٹ ورتھ میں عافیہ پر حملہ کیا گیا جس سے وہ دو دن بیہوش رہی۔ بالاخر وکیل کی مداخلت پر اسے طبی امداد دی گئی۔۔ کہتے ہیں کہ بگرام ایئر بیس جو امریکہ کا افغانستان میں بدنام زمانہ ٹھکانہ تھا وہاں اس عورت کے ساتھ جب زیادتی اور ثارچر کیا جاتا تھا تو اس کی چیخوں کی آواز پورا بگرام ائیربیس کا جیل خانہ سنتا۔۔ اسی تارچر کے دوران اس کا ایک بیٹا اذیت دے کر مار دیا گیا۔۔
یہ غالبا 1993 کی بات ہے، بوسنیا کا صدر پاکستان آیا وہ شائد ایک کمرشل فلائیٹ پر عام مسافر کی طرح آیا اور جب وہ واپس جانے لگا تو نواز شریف نے اسے اپنے جہاز میں خیر سگالی کے طور پر بھیجا۔۔ اس سفر میں رٹائرڈ کرنل عبدالطیف جو کہ اس وقت ڈپٹی چیف آف پروٹوکول تھے اور بلوچستان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔۔ انہیں ان کے ہمراہ بھیجا گیا۔۔ چونکہ کرنل صاحب ہمارے علاقے کی سماجی تنظیم انجمن رفاہ عامہ سیٹلائٹ تاون کوئٹہ کے بانیوں میں سے تھے۔ اور میں اس وقت 23 سالہ نوجوان تھا اور اس تنظیم کا صدر تھا تو ۔۔ کرنل صاحب نے میری بڑی ذہنی آبیاری کی ۔ ایک روز گفتگو میں کہنے لگے ۔ کہ جب میں بوسنیائی صدر کے ساتھ جہاز میں جا رہا تھا تو وہ بابری مسجد کی خبر اور پاکستانی احتجاج پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔۔ کرنل صاحب نے جب کہا کہ واقعی یہ افسوسناک بات ہے تو وہ بھیگی آنکھوں سے کرنل کو دیکھ کر بولا۔۔ میں اس ایک بابری مسجد پر نہیں رو رہا۔۔ میرے ملک میں عیسائیوں نے 500 سے زیادہ مسجدیں جلائی ہیں اور ان مسجدوں میں ہماری مسلم خواتین کو لے جا کر ان کی آبروریزی کرتے پھر مسجد قرآن اور مردوں کو ان میں جلاتے اور عورتوں کو اس وقت تک قید رکھتے جب تک وہ حاملہ نہ ہو جاتیں۔۔ اور پوری دنیا اس پر خاموش ہے کہ یہ جرائم عیسائی کر رہے ہیں۔۔ اور امریکہ ان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔۔ہم اگر کسی عیسائی ملک کے ساتھ ایسا کرتے ۔۔ تو یہودیوں کے ھولو کاسٹ کی طرح ماتم منایا جاتا ۔۔ اور پوری دنیا اس پر بین کرتی۔۔ اور مجرم پکڑ کر کٹہرے تک لا کر صدام حسین اور کرنل قذافی کی طرح نشان عبرت بنائے جاتے۔۔
بوسنیا کے صوفیائ نے احترامِ انسانیت اور قرآن میں موجود امن کی تعلیمات کے ذریعے مختلف مکاتب کے مابین فاصلہ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا - بوسنیا کے لوگوں کا علم، روحانیت اور صوفیا سے لگائو آج بھی مغرب میں مشہو رہے- مختلف المذاہب لوگوں کے مابین زندگی بسر کرتے ہوئے بوسنیا کے مسلمان آج بھی اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہاں اولیاء نے احترامِ ِانسانیت کا اور ِحلم کے درس کی بنیاد پر صدیوں تک پُر امن زندگی ممکن بنائی تھی۔۔ اور انہوں نے اس جنگ اس بربریت سے بچنے کے لئے بوسنیا میں بہت سے حلقہ دعا و وظائف مرتب کئے کہ یہ بلا ٹل جائے۔۔۔۔
اسی بات سے یاد آیا فرانسیسی کمانڈر ژواین ویل جو بذات خود صلیبی جنگوں میں شریک رہا، اس نے 13 ویں صدی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑائی کی سرگزشت بیان کی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ وہ دور تھا جب یورپ کو ”پامردی مومن“ پہ بھروسا تھا اور مسلمان ”مشینوں“ پر انحصار کیا کرتے تھے (یعنی دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے)۔ مسیحی محض دعاؤں کے سہارے برسرپیکار تھے اور مسلمان جدید جنگی ہتھیاروں سے لیس ہو کر لڑتے۔ ایک لڑائی کے دوران جب مصری فوج نے منجنیقوں کے ذریعے فرانسیسیوں پر آگ برسانا شروع کی توانہوں نے اس بلا سے نجات پانے اور دشمن کاغرور خاک میں ملانے کے لئے اللہ کی بے آواز لاٹھی کو آواز دی۔ ژو این ویل بیان کرتا ہے : ”ہمارا لارڈ والٹر جو ایک اچھا نائٹ تھا، اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زندگی کا سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے اگر ہم نے ان برجیوں کو نہ چھوڑا، اور مسلمانوں نے ان میں آگ لگا دی تو ہم بھی جل کر خاک ہو جائیں گے لیکن اگر ہم ان برجیوں کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں تو ہماری بے عزتی میں کوئی شبہ نہیں۔
ایسی حالت میں خدا کے سوا کوئی نہیں جو ہمارا بچاؤ کر سکے۔ میرا مشورہ آپ لوگوں کو یہ ہے کہ جونہی مسلمان آگ کے گولے پھینکیں، آپ سب گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ خداوند سے دعا مانگیں کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے ”ژو این ویل نے فرانسیسی بادشاہ لوئس کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ جب منجنیق سے گولے پھینکے جانے کے بعد سپاہیوں کی چیخ و پکار کی آواز آتی تو ہمارا ولی صفت بادشاہ روتے ہوئے دست دعا بلند کرتا اور کہتا، خدائے مہربان میرے آدمیوں کی حفاظت کر۔ اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلا اور خدا نے کس کی مدد کی، یہ کوئی سربستہ راز نہیں۔۔۔
زمانے نے کروٹ بدلی، یورپ نے اس شکست و ریخت سے سبق سیکھا اور ضعیف الاعتقادی کی راہ ترک کر کے معقولیت کا راستہ اختیار کیا مگرمسلمان زوال و انحطاط کے دور میں رفتہ رفتہ دوا کے بجائے صرف دعا کے قائل ہوتے چلے گئے۔ اٹھارویں صدی میں جب نپولین نے مصر پر یلغار کی تو مسلمانوں کے فرماں روا مُراد بک نے تمام علمائے کرام کو جامع الازہر میں جمع کیا اور ان سے مشاورت کی کہ دشمن کے حملے سے بچنے کے لئے کیا دفاعی حکمت عملی اختیار کی جائے؟
تمام جید علمائے کرام نے متفقہ طور پر رائے دی کہ بلاؤں کو ٹالنے کے لئے صحیح بخاری سے بڑھ کر کوئی شے کار آمد نہیں ہو سکتی، لہٰذادشمن کو نیست و نابود کرنے کے لئے صحیح بخاری کا ختم شروع کروا دینا چاہیے۔ خوش الحان قاری صحیح بخاری کا ورد جاری رکھے ہوئے تھے اور ختم پاک کی تقریب مکمل نہیں ہوئی تھی کہ نپولین کی فوجیں شہر میں داخل ہو گئیں۔
شیخ عبدالرحمان الجبرتی بیان کرتے ہیں کہ اہرام کی لڑائی کے بعد انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کر رکھا تھا تو امیر بخارا نے رعایا کو جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے اور دشمن کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے شاہی فرمان جاری کیا کہ مدارس اور مساجد میں ختم خواجگان پڑھا جائے تاکہ ملک پر حملہ آور تمام بلائیں دفع ہو جائیں۔ جیسے جیسے روسیوں کی قلعہ شکن توپوں کی گھن گرج بڑھتی چلی گئی ویسے ویسے ختم خواجگان کے لئے جمع ہونے والے اہل ایمان کے ذکر و اذکار کی آواز بلند تر ہوتی چلی گئی۔ ”پامردی مومن“ اور ”مشینوں“ کی اس جنگ میں کون جیتا اور کون ہارا، یہ بھی کوئی پوشیدہ راز نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔
مجھے آج جب بھی قرآن مجید کے جلائے جانے یا اسلامی شعائر، نبی کریمﷺکی بے حرمتی کی خبر ملتی ہے۔۔ تب میں خود میں شرمسار ہوتا ہوں ۔ کہ اگر ہم صحابہ کرام کی پیروں کی خاک کے برابر بھی ایمان رکھتے اور اس قرآن کو ہم نے واقعی سینوں سے لگایا ہوتا تو ایک قرآن نہ جلتا۔۔ بلکہ ڈیڑھ ارب مسلمان جل ااٹھتا۔۔ پھر امریکہ کی طرح ہم اس بندے کو اٹھا کر اپنے ملک میں جلاتے ناکہ اپنی املاک اپنے شہریوں کی جائیدادیں جلا کر اسلام میں نام کماتے۔۔ ہمارا قرآن اس لئے جلایا جاتا ہے کہ یہ ہماری کتابوں کی لائبریری کا بھی حصہ نہیں رہا ۔۔ بلکہ کپڑوں میں لپیٹ کر اسے کہیں گھر کے نامعلوم مقام میں رکھا ہوا ہے۔۔ اگر کچھ لوگ اسے روزانہ پڑھ بھی رہے ہیں تو برکات سمیٹنے کو اور یوم حشر میں کامیابی کے لئے۔۔ یاد رکھیں یوم حشر کی کامیابی " الکتاب" پر عمل ہے۔۔ اور اسی لئے اللہ کریم نے صحابہ کرام سے زندگی ہی میں جنت کا وعدہ فرمایا ۔۔ اور ارشاد فرمایا کہ
ترجمہ : اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے اور ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ)
آپ کو مجھے اور کسی بھی مسلمان کو یہ زمہداری لینی ہو گی کہ پوری دنیا میں اگر کہیں قران،نبی کریمﷺکی بے حرمتی ہو رہی ہے تو اس کے زمہدار ہم ہیں۔۔ کیونکہ بہادر غیرت مند اور طاقتور قوم کے جانور کو بھی کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔۔ ان کی عزت اور حرمت کی تو بات ہی الگ ہے۔۔
لہذا جب کبھی آپ قرآن کی بے حرمتی ہوتی دیکھیں تو دونوں ہاتھوں سے خود کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کریں۔
میں آج خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ قسم کھاتا ہوں قرآن کی یا نبی کریمﷺ کی بے حرمتی کبھی بھی کوئی نہیں کر سکے گا ،اگر ہم حامل قرآن ہوں۔۔ یہود اور عیسائی صرف ہمارے جذبات برانگیختہ کرنے کو یہ بے حرمتی کرتے ہیں تاکہ ہم اپنے املاک و جان کو نقصان پہنچائیں۔ بالکل اس جانور کی طرح جس کے گرد باڑ کھینچ کر اسے باندھا جائے اور وہ غصہ سے اپنی باڑ یا اپنے ہی قلعہ سے سر ٹکرا ٹکرا کر خود کو زخمی کر لے ۔۔اور آخر تھک کر گر جائے۔۔ اور اسے حلال کرنا آسان ہو جائے۔۔
تم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے!
حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟
وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر
(اس مضمون کے لئے وکیپیڈیا اور "ہم سب" میں محمد بلال غوری کے چھپنے والے کالم تپسی تے ٹھس کرسی۔ غیر سینسر شدہ کالم 02/09/2019 سے مدد لی گئی ہے۔۔)